کج مینوں مرن دا شوق وی سی

ہمارے ملک میں انسانی جان کی جس طرح نا قدری ہو رہی ہے وہ بہت حےران کن اور تکلےف دہ ہے۔ ہر روز درجنوں بے گناہ لوگ اپنی جان گنوا بےٹھتے ہےں۔ کنبے کے کنبے لا وارث ہو جاتے ہےں مگر ہماری سےاسی اور فوجی قےادت مکمل طور پر لا تعلق اور بے حس نظرآتی ہے۔ ملک مےں آئے دن معصوم اور کم عمر بچےاں ونی جےسی فرسودہ اورانسان دشمن رسموں کے بھےنٹ چڑھ جاتی ہےں۔ علاوہ ازےں درجنوں لوگ لسانی رقابتوں اور سےاسی دشمنی کا شکار ہوتے ہےں۔ ان تمام انسان کش و اقعات کی اصل وجہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹےلی جنس اےجنسےوں کی مکمل غفلت اور لا پروائی ہے۔
بچے بچے کو علم ہے کہ بلو چستان مےں ایک کالعدم تنظیم اپنے مسلمان بھائےوں کے قتل عام مےں ملوث ہے۔ اس ملک دشمن لسانی تنظےم کو اےک فوجی ڈکٹیٹر نے خفےہ اےجنسیوں کے ذرےعے تشکےل دےا تھا۔ ان کو اب بھی ان کی حماےت اور امداد حاصل ہے اور کوئٹہ مےںبڑے دھماکوں کے بعد کسی بھی ملزم کی عدم گرفتاری ان شک وشبہات کو تقوےت دےتی ہے اس سلسلے مےں مرنے والوں کے عزےز واقارب حکومت سے سوال کرتے ہےں کہ کےا قاتلوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ وہ جہاں اور جس وقت چاہےں لوگوں کی جان لے سکتے ہےں اور وہ ملکی قانون سے مکمل طور پر بالاتر ہےں۔ ےہ بات حےران کن اور باعث ماےوسی ہے کہ ملک مےں درجنوں لوگوں کو روزانہ قتل کئے جانے کے سلسلے مےں کسی خفےہ ادارے ےا اےجنسی سے پو چھ گچھ نہےں کی گئی۔ نتےجتاً لوگ ےہ سوچنے پر مجبور ہےں کہ ےہ قتل و غارت اور دھماکے حکومت کے اےماپر کئے جا رہے ہےں۔ مزےد برآں سندھ حکومت بھی دہشت گردی اور قتل و غارت کے خلا ف کوئی موثر کاروائی سے کرنے گرےزاںہے اور اس کی واضح مثال سپرےم کورٹ کے احکامات کی تعمےل مےں لیت و لعل ہے۔ علاوہ ازےں ملک کی تمام سےاسی پارٹےاں بھی اس سلسلے مےں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہےں ۔
عوامی سطح پر ےہ تاثر عام ہے کہ ہمارے سےاست دان عوام سے صرف ووٹ حاصل کرنے کے لےے ہر جتن کرنے کو تےار ہےں۔ مگر ان کی زندگی کی حفاظت مےں قطعی کوئی دل چسپی نہےں۔کالعدم تنظیم کھلے عام ہزارہ طبقے اور شےعہ حضرات کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ےہ صورت حال ہر محب وطن کے لئے انتہائی پرےشان کن ہے اور عوام ےہ سوال پوچھنے مےں حق بجانب ہےں کہ کےا ہم اےک قوم ہےں اور ہم کس طرف جارہے ہےںاور اس ملک جس کے لےے بے پناہ قربانےاں دی گئےں کس مقصد کے لےے قائم کےا گےا تھا؟
پچھلے65 سال کے حالات کو مدنظر رکھ کر اےک اَن پڑھ اور جاہل بھی ےہ کہنے پر مجبور ہے کہ ہم نے اپنے آپ اےک متحدہ کامےاب اور ترقی پسند قوم ثابت نہےں کےا۔ ہم آئے روز بھارت کو اپنے ملک مےں ہونے والے واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہےں۔ مگر ےہ بات حتمی ہے کہ RAW ےا RSS نے پاکستان کو اتنا نقصان نہےں پہچاےا جتنا کہ ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ملک کو پہچایا ہے۔ ملک دشمن تنظیمیں اپنے ہی ملک کو فتح کرنے خبط مےں مبتلا ہےں۔ اس سلسلے مےں بعض حکومتی عمائدےن اور کچھ سےاسی پارٹےاں ملک مےں ہونے والے قتل و غارت کی ذمہ داری غیرملکی قوتوںپر ڈالتے ہےں لےکن اگر پچھلے 20 سالوں کے واقعات کا تجزےہ کےا جائے تو ےہ بات روزروشن کی طرح عےاں ہو جاتی ہے کہ ملک مےں ہونے والے واقعات اےک ہی ڈگر پر چل رہے ہےں ان مےں کوئی غےر ملکی دوسری تنظےم کی شمولےت کے شواہد نہےں ملتے۔ دراصل ہم خود اجتماعی خود کشی پر تلے ہوئے نظر آتے ہےں۔
قارئےن!ملک مےں امن واماں کی صورت حال بے حد مخدوش ہے۔ اس سے ملکی معےشت مکمل طور پر جمود کا شکار ہے۔بےن الاقوامی سطح پر ےہ خےال زور پکڑ رہا ہے کہ ہم اےک ناکام ملک ہےں۔ جہاں پر 65سال گزر جانے کے بعد بھی عوام خوشحالی اور امن و امان سے محروم ہےں۔ روزانہ درجنوں ہلاکتوں کے باوجود تما م سےاسی پارٹےاں بشمول حزب اختلاف اور فوج خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہمارے سےاسی لےڈرز کا واحد مقصد کسی نہ کسی طرح حکومت مےں آنا اور مال ودولت کمانا ہے ۔ عوامی بہبود اور فلاح ان کے اےجنڈے مےں شامل نہےں۔ ملک اس وقت شدےد اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ امےد کی جاتی ہے کہ نئی حکومت ملک کو درپےش مسائل کے حل کو اول ترجےحات ہےں شامل کرے گی دوسری طرف عوامی سطح پر بھی ہمےں اپنا اہم کردار ادا کرنا ہو گا اس سلسلے مےں محب وطن اور مخلص لوگوں کو ووٹ دے کر اسمبلی تک پہنچانا لازمی ہے ۔لسانی بنےادوں ، ذات برادری اور پےسے کے لےے ووٹ ہرگز نہ ڈالےں تا کہ اےک فعال اور مضبوط قےادت ملک کانظم و ضبط سنبھالے اور ملک عزےز کو موجودہ بحرانوں سے نکالے اور ہم بھی ترقی ےافتہ ممالک کی صف مےں شامل ہو جائےں۔
اس وقت صورت حال بقول منےر نےاری ےہ ہے کہ
کج اونج وی راواں اوکھےاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہردے لوگ وی ظالم سن
کج مےنوں مرن دا شوق وی سی