پرویز الٰہی اور شہباز شریف، کارکردگی کے آئینے میں

کالم نگار  |  اسلم لودھی

میں یہ بات واضح کردینا چاہتاہوں کہ مجھے نہ چوہدری پرویز الٰہی سے کوئی عناد ہے اور نہ ہی میاں محمد شہباز شریف سے کوئی مفاد۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے میں نے دونوں کے ادوار دیکھے ہیں ۔لیکن محسوس ہوتا ہے کہ جب سے چوہدری پرویز الٰہی کے وزیر اعظم پاکستان بننے کے خواب چکنا چور ہوئے ان کو دن میں خواب نظر آنے لگے۔ کون نہیں جانتا کہ مشرف کے آٹھ سالہ دور میں صوبہ پنجاب کے تمام سرکاری وسائل چوہدریوں کی صوابدید پر ہوا کرتے تھے بلکہ سیاہ و سفید کا مالک تھے۔پرویز الٰہی کے دور میں بسنت جیسے تہوار پر سرکاری خزانے سے نہ صرف کروڑوں روپے حکمران طبقے کی عیاشی پر خرچ کر دیئے جاتے بلکہ سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی کے باوجود درجنوں بچے اور نوجوان اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ پرویز الٰہی کا ہی کارنامہ تھا کہ لاہور کا رنگ روڈ (جس کی لمبائی 75 کلومیٹر تھی) کو صرف اس لئے ختم کر دیا گیا کہ وہ نواز شریف کے جاتی عمرہ کے قریب سے گزرتا تھا اور پہلے سے تعمیر شدہ فیروز پور روڈ کو ہی رنگ روڈ قرار دے دیا گیا۔ پھر اسی دور میں پرویز الٰہی نے پنجاب ا سمبلی میں کھڑے ہو کر واشگاف الفاظ میں کہا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو ایک نہیں دس مرتبہ باوردی صدر منتخب کروائیں گے۔ آج وہ شہباز شریف کو طعنہ دیتے ہیں کہ انہوں نے میٹروبس پراجیکٹ بنا کر پورے پنجاب کے فنڈز لاہور میں خرچ کر دیئے ہیں وہ شاید بھول رہے ہیں کہ انہوں نے خود بھی اپنے دور میں میٹروٹرین کا 40 ارب مالیت کا منصوبہ لاہور میں ہی شروع کرنے کا اعلان کیاتھا لیکن اعلان کے باوجود تعمیر کی نوبت نہیں آئی۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں شہباز شریف کو لاہور بہت پسند ہے تو کیا چوہدری صاحب کو گجرات پسند نہیں ہے جہاں تک موٹروے پر سفر کرنے کا خواب وہ دن رات دیکھا کرتے تھے وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور 36 ہزار کلومیٹر سڑکیں تعمیر کیں اب وہ سڑکیں کہاں ہیں اگر سڑکوں کی تعمیر معیارکے مطابق ہوتی تو آج چوہدری صاحب وزیراعظم پاکستان ہوتے۔ اگرآج تک پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے تو اس گناہ میں چوہدری بردارن برابر کے شریک ہیں۔ البتہ اس کی بنیاد مسلم لیگ ن نے مرکز میں زرداری سے وزارتیں لے کر اور پنجاب میں پی پی پی کو وزارتیں دے کر ضرور رکھی تھی مگرمیاں شہباز شریف نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں جن کی بنا پر وہ عوام سے ووٹ مانگنے کا حق رکھتے ہیں ان کے اچھے کاموں میں، سیلاب زدہ علاقوں میں جناح کالونی، آشیانہ سکیم، دو روپے کی روٹی، ییلو کیب سکیم، دانش سکول، رمضان پیکج، پارکنگ فیس کا ہسپتالوں اور پارکوں سے خاتمہ، میٹرو بس پراجیکٹ، لاہور رنگ روڈ (نارتھ ونگ) کی تعمیر، ڈینگی مچھروں کا ہنگامی طور پر خاتمہ، لیپ ٹاپ کی ہونہار نوجوانوں میں تقسیم، سولر انرجی یونٹوں، پاکستان کے تمام ہونہار طلبہ و طالبات کے لئے سکالرشب کا اجرا اور دنیا بھر کی سیر شامل ہیں یہ وہ منصوبے اور اقدامات ہیں جن سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے اور عوام کے ذہن و دل میں شہباز شریف ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ چوہدری صاحب ان سکیموں کو وقت اور پیسے کا ضیاع قرار دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اگر کارکردگی کے اس معیار پر چوہدری پرویز الٰہی اور میاں شہباز شریف کے ادوار کو پرکھا جائے تو چودھری پرویز الٰہی کی نسبت میاں شہباز شریف کا دور کہیں زیادہ اچھا اور بہتر ہے۔ وزارت اعلیٰ سے اترنے کے باوجود ان کے منصوبے روشنی کی کرن بن کر سیاست کے آسمان پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے لیکن چوہدری پرویز الٰہی کا صرف ایک منصوبہ (1122 ریسکو) ایسا ہے جس پر وہ فخر کر سکتے ہیں ہے اس کے علاوہ انہوںنے اپنا دور مشرف کی چاپلوسی، مشرف کی وردی کی غلامی اور روشن خیالی (بے حیائی) کو پروان چڑھانے میں ہی گزار دیا ہے۔