نظریہ پاکستان کانفرنس کی آخری نشست

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

یوں تو پاکستان کا انچ انچ اور چپہ چپہ پاکستان ہے لیکن شاہراہ قائداعظم پر واقع ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں آپ حاضر ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے آپ اصلی پاکستان میں چلے آئے ہیں۔ ایوان کی دیواروں پر آویزاں تحریک پاکستان کے دور کی تصویریں دیکھ کر احساس ہونے لگتا ہے جیسے ہم خود تحریک پاکستان کے زمانے میں موجود اور قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں قیام پاکستان کی بے مثال جدوجہد میں شامل تھے۔ قائداعظم کی رعب دار آواز اور دبدبے والے لہجہ میں ان کی تقاریر ہمارے کانوں میں گونجتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور دل سے بے اختیار قائداعظم زندہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں یکم مارچ 2013ءکو نظریہ پاکستان کانفرنس کی آخری نشست تھی اور تحریک پاکستان کے ممتاز اور سرگرم کارکن مجید نظامی جنہوں نے اپنی زندگی نظریہ پاکستان کی حفاظت کے لئے وقف کر رکھی ہے، نظریہ پاکستان کانفرنس کے ملک بھر سے آئے ہوئے مندوبین سے مخاطب تھے۔ مجید نظامی کا مزاج اور معمول رہا ہے کہ وہ تقریر مختصر کرتے ہیں لیکن مختصر وقت میں بھی انہوں نے جو کہنا ہو، جو پیغام دینا ہو وہ مکمل اور بھرپور انداز میں اپنے مخصوص قلندرانہ انداز میں دے ڈالتے ہیں۔ نظریہ پاکستان کانفرنس کی آخری نشست کی صدارت وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کر رہے تھے۔ چنانچہ اس موقع پر جناب مجید نظامی نے براہ راست شہباز شریف کو یہ پیغام دیا کہ آپ مسلم لیگ (ن) صوبہ پنجاب کے صدر ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ ساری مسلم لیگوں کو متحد کریں ۔
 نظامی صاحب کاتحریک پاکستان کے ایک حقیقی کارکن کے طور نقطہ نظر یہ ہے کہ مسلم لیگ میں دھڑے بندی نہ تو پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی خود مسلم لیگوں کے۔ حیرت کی بات ہے کہ مجید نظامی نے جتنے پرزور انداز میں مسلم لیگ کے اتحاد کی بات کی اس کا ویسا مثبت جواب شہباز شریف نے اپنی تقریر میں نہ دیا۔ ممکن ہے شہباز شریف اپنی تقریر میں مسلم لیگوں کے اتحاد کا تذکرہ کرنا بھول گئے ہوں یا ان کی منزل مسلم لیگوں کا اتحاد نہ ہو۔ شاید وہ سمجھتے ہوں کہ مسلم لیگ (ن) تنہا ہی آئندہ عام انتخابات میں حصول اقتدارکی دوڑ میں زیادہ بہتر نتائج حاصل کر سکتی ہے لیکن مجید نظامی کے پیش نظر حکومت کا حصول نہیں اس لئے وہ ہمیشہ پاکستان کی مضبوطی، استحکام اور ترقی و خوشحالی کی بات کرتے ہیں اور پاکستان کے مفاد ہی کے لئے قائداعظم کی جماعت میں اتحاد قائم کرنے کی بات کرتے ہیں۔
جناب مجید نظامی کی تقریر کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ دو قومی نظریہ کے شعور کو نوجوانوں میں اجاگر کرنے کے لئے نظریہ پاکستان کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نظریہ پاکستان کے تحفظ کا پاکستان کے جغرافیہ کی حفاظت سے انتہائی گہرا تعلق ہے۔ نظریہ پاکستان سے ہمارا رشتہ کمزور ہونے کی وجہ سے ہی ماضی میں سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ پیش آیا تھا اور ہمارا ازلی دشمن انڈیا ہم سے زیادہ اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ اگر پاکستانی قوم کا نظریہ پاکستان پر ایمان کمزور ہو جائے تو پھر خدانخواستہ انڈیا کے لئے پاکستان کو ختم کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ مجید نظامی نے کہا کہ نظریہ پاکستان کانفرنس کا ایک ہی پیغام ہے کہ جس نظرئیے کی بنیاد پر پاکستان تخلیق ہوا تھا ہم اس نظریاتی حصار کو مضبوط سے مضبوط تر بنا کر پاکستان کی حفاظت کا فریضہ ادا کریں گے۔ مجید نظامی کہہ رہے تھے کہ بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ ہندو پاکستان کے قیام کو بھارت ماتا کے ٹکڑے کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ اب بھی اکھنڈ بھارت کی بات کرتے ہیں لیکن دو قومی نظرئیے اور نظریہ پاکستان کی برکت سے پاکستان قیامت تک زندہ و پائندہ رہے گا۔ مجید نظامی پاکستان کی حفاظت کے لئے نظریہ پاکستان کی منہ زبانی بات ہی کو کافی نہیں سمجھتے بلکہ وہ دفاع پاکستان کے عملی منصوبہ بندی کو بھی نہایت اہم سمجھتے ہیں۔ اس لئے جب ایڈیٹرز کے ایک اجلاس میں کچھ ایڈیٹر نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں کے بعد کے اثرات سے خوفزدہ کر رہے تھے اور خود نواز شریف بھی ایٹمی دھماکے کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھے تو یہ مجید نظامی ہی تھے جنہوں نے اپنی مخصوص قلندرانہ جرا¿ت سے کام لیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے منہ پر کہا تھا کہ میاں صاحب، آپ ایٹمی دھماکہ کر دیں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ مجید نظامی اکثر اپنی تقاریر میں پاکستان کے بدترین دشمن بھارت کو للکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے گھوڑے (ایٹم بم اور میزائل) تمہارے گدھوں سے بہتر ہیں اگر بھارت نے پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کیا تو ہمارے ”گھوڑے“ بھارت کو چار پانچ گھنٹوں میں نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مجید نظامی کا اصولی مو¿قف ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہو جاتا اس وقت تک بھارت سے دوستی ،تعلقات اور تجارت پاکستان کے مفاد میں ہرگز نہیں۔ مجید نظامی کا تسلسل کے ساتھ یہ نقطہ نظر بھی ہے کہ وہ بھارت جو پاکستان کے دریاﺅں پر قبضہ کر کے ہمارے ملک کو ریگستان بنا دینے کی مکمل منصوبہ بندی کر چکا ہے اس کے دوستی اور تجارت کے معاہدے کرنے والے ہمارے حکمران عقلِ سلیم سے محروم ہیں۔ مجید نظامی کا کہنا ہے کہ بھارت سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں، بھارت میری مادر وطن، سوہنی دھرتی پاکستان کا دشمن ہے، اس لئے میں اپنے اخبار کے پلیٹ فارم سے اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی سٹیج سے بھی قوم کو خبردار کرتا رہتا ہوں کہ ہمیں بھارت جیسے عیار دشمن سے نمٹنے کیلئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔
جناب مجید نظامی نے اپنی تقریر میں ایوان قائداعظم کی تکمیل کیلئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی طرف سے شہباز شریف سے دس کروڑ روپے کے فنڈز مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے جواب میں خادم اعلیٰ شہباز شریف نے الیکشن کمشن آف پاکستان کی جانب سے سرکاری فنڈز کے استعمال پر پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے معذرت کا اظہار کیا۔ شہباز شریف کہہ رہے تھے کہ فخرو بھائی سے نظامی صاحب اجازت لے دیں تو حکومت پنجاب یہ رقم فوری فراہم کر دے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر شہباز شریف کا عذر درست تھا لیکن پاکستان کی شاید سب سے بڑی صنعتی ایمپائر کے مالک ہونے کی حیثیت سے تو نواز شریف اور شہباز شریف پر کوئی حکومتی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ لینڈ مافیا کا ایک رکن اگر صدر آصف زرداری کو چار پانچ ارب روپے مالیت کا محل تحفے میں پیش کر سکتا ہے تو رائے ونڈ محلات اور ان گنت شوگر اور ٹیکسٹائل ملوں کے مالک اپنی جیب سے ایوان قائداعظم کی تکمیل کے فنڈز فراہم کیوں نہیں کر سکتے۔ فخرو بھائی کی طرف سے ایسی کوئی قانونی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ پاکستان کا سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقہ بانی پاکستان کی یاد میں ابھی تعمیر کے مراحل سے گزرنے والے ایوان کیلئے اپنی جیبوں سے فنڈز نہیں دے سکتے۔ پاکستان کے صنعتکاروں ، سرمایہ داروں اور امیر کبیر طبقے کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ پاکستان کا وجود اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بعد ہم پر قائداعظم کا احسان ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے معیشت اور دولت کے وسائل پر صرف ہندوﺅں کا قبضہ تھا۔ مجید نظامی اپنی تقریر میں بتا رہے تھے کہ پورے لاہور میں مال روڈ پر اور انارکلی میں مسلمانوں کی چند دکانیں تھیں باقی ہر طرف ہندو چھائے ہوئے تھے اور مسلمان ان کے ملازم تھے۔ آج پاکستان میں دس دس اور بارہ بارہ شوگر ملوں، سیمنٹ فیکٹریوں، ٹیکسٹائل ملوں کا ایک ایک خاندان مالک ہے۔ کیا یہ اُن پر قومی فرض اور قرض نہیں کہ وہ قائداعظم کے بے پناہ احسانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایوان قائداعظم جیسی یادگاروں کی تعمیر کیلئے اپنے وسائل کا منہ کھول دیں۔ مجید نظامی نے تو صرف دس کروڑ کے فنڈ کی بات کی تھی۔