نظریہ¿ پاکستان کانفرنس کا پر جوش اختتام

کالم نگار  |  نعیم احمد

پاکستان مےں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرنے والوں کی چمڑی اِس قدر موٹی ہو چکی ہے کہ اب اُس پر کوئی چےز اثر نہےں کرتی مگر عوام کے ووٹ اُس پر ضرور اثر انداز ہوں گے۔ پاکستانی عوام آئندہ عام انتخابات مےں اِس طاقت کا صحےح استعمال کرےں اور مےاں محمد نواز شرےف کو اتنی بھاری اکثرےت سے کامےاب کروائےں کہ وہ بغےر کسی سہارے کے حکومت بنا سکےں۔ اِن عزائم اور اِرادوں کا اظہار وزےراعلیٰ پنجاب مےاں محمد شہباز شرےف نے نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے زےراہتمام پانچوےں سالانہ سہ روزہ نظرےہ¿ پاکستان کانفرنس کی اختتامی نشست مےں اپنے ولولہ انگےز خطاب کے دوران کےا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ ےہاں مہمان بن کر نہےں آئے بلکہ اُن کا شمار مےزبانوں مےں ہوتا ہے۔ جناب مجےد نظامی اُن کےلئے انتہائی قابل احترام ہےں جو اپنے رفقاءکے ہمراہ نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے پلےٹ فارم سے قوم سازی کا شاندار فرےضہ سرانجام دے رہے ہےں۔ وزےراعلیٰ نے جناب مجےد نظامی کی طرف سے اےوانِ قائداعظمؒ کی تعمےر کےلئے 10کروڑ روپے فراہم کرنے کے حوالے سے کہا کہ بانی¿ پاکستان کے نامِ نامی پر بننے والے اِس اےوان کی تعمےر ہم پر فرض ہے اور اگر محترم مجےد نظامی صاحب الےکشن کمےشن آف پاکستان سے اجازت دلوا دےں تو حکومت پنجاب ےہ رقم جاری کرنے کےلئے تےار ہے۔ مےاں محمد شہباز شرےف کی آمد سے قبل ہی اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان لاہور کا وائےں ہال کارکنانِ تحرےک پاکستان‘ مسلم لےگی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتےن و حضرات سے کھچا کھچ بھر چکا تھا اور اتنے ہی لوگ باہر لابی مےں بھی موجود تھے۔ تحرےک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ممتاز صحافی اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن محترم مجےد نظامی کے ہمراہ وزےراعلیٰ جب ہال مےں داخل ہوئے تو فضا ”شےرآےا‘ شےر آےا“ کے نعروں سے گونج اُٹھی۔ وزےراعلیٰ کے خطاب کے دوران بھی ”وزےراعظم نواز شرےف“ کے نعرے مسلسل گونجتے رہے۔ کوٹ پےنٹ مےں ملبوس وزےراعلیٰ نے سندھی ثقافت کی علامت اجرک اپنے کندھوں پر ڈال رکھی تھی جو سماجی فلاحی تنظےم فرزندانِ پاکستان کراچی کے چےئرمےن رانا اشفاق رسول نے اُنہےں پےش کی تھی۔
مےاں محمد شہباز شرےف نے اپنے خطاب سے قبل جناب مجےد نظامی کے کلمات صدارت کے دوران دو قومی نظرےے کے تذکرہ کا حوالہ دےتے ہوئے کہا کہ ہم نے دو قومی نظرےہ کی بنےاد پر ےہ ملک تو حاصل کر لےا تھا مگر گذشتہ 65 سالوں مےں ہم نے اسے اقبال اور قائد کا پاکستان بنانے کی بجائے اِسے غرےب اور امےر کے پاکستان مےں تقسےم کر دےا ہے۔ اِس دو طبقاتی نظام مےں اےک طبقہ غربت و افلاس مےں پس رہا ہے تو دوسرا عےش و عشرت کے مزے لوٹ رہا ہے۔ اےک کے حصے مےں محرومےاں ہی محرومےاں ہےں تو دوسرا دولت و خوشےاں سمےٹ رہا ہے۔ مےں اےک اےسا پاکستان دےکھنے کا خواہش مند ہوں جس مےں اِس طبقاتی امتےاز کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہو اور محمود اےاز اےک ہی صف مےں کھڑے دکھائی دےں۔ لاہور مےں مےٹرو بس کا منصوبہ علامہ محمد اقبالؒ کے اِس شعر کی عملی تفسےر ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول‘ ڈےزل اور مٹی کے تےل کی قےمتوں مےں اضافے کو ہدفِ تنقےد بناتے ہوئے کہا کہ اِس سے ذرائع آمد و رفت مزےد مہنگے ہو جائےں گے مگراِس مہنگائی کے باوجود مےٹروبس کا کراےہ 20روپے ہی رہے گا۔
قبل ازےں جناب مجےد نظامی نے اپنے خطاب مےں کہا کہ پاکستان دو قومی نظرےہ کی بنےاد پر معرضِ وجود مےں آےا تھا اور اِس کی بقا و سلامتی کو ےقےنی بنانے کےلئے ضروری ہے کہ ہم اِس نظرےے کے دل و جان سے قائل اور محافظ بن جائےں۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت ہمےں ختم کرنے پر تلا ہوا ہے اور اُس کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی خاطر ہمےں اپنی نسل نو کو بتانا ہو گا کہ پاکستان کےسے اور کےوں بناےا گےا تھا اور اِس کی خاطر اُن کے بزرگوں نے کتنی بےش بہا قربانیاں پےش کی تھےں۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سےکرٹری شاہد رشےد نے بڑی عمدگی سے نبھائے۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کی طرف سے کانفرنس کے مندوبےن کےلئے پرتکلف ظہرانے کا بھی اہتمام کےا گےا تھا۔