لوٹوں کے لوٹنے کا موسم

کالم نگار  |  امیر نواز نیازی

ان دنوں وطن عزیز میں انتخابات کی آمد آمد ہے تو ملک بھر میں ایک سیاسی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں سُننے کو مل رہی ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے کوئی سیاسی کھچڑی تیار کی جا رہی ہو اور اس کھچڑی سازی میں لوٹوں کا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ ہمارے ہاں ”لوٹا“ ان طالع آزما سیاستدانوں کو کہتے ہیں جو ہر حال میں اقتدار میں آ کر اقتدار کے مزے لوٹنے کے درپے ہوتے ہیں۔ سیاست میں ان کا مطمع نظر نہ کوئی قومی مفاد ہوتا ہے نہ کوئی نظریہ اور ایسا کرنے کیلئے وہ ہر اس پارٹی میں بے پیندے لوٹے کی طرح لڑھک جاتے ہیںجو اقتدار میں ہو یا جس کا اقتدار میں آنا یقینی ہو۔ چنانچہ جب بھی انتخابات کا موسم قریب آتا ہے وہ فصلی بٹیروں کی طرح اِدھر اُدھر اُڈایاں مارنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر اس ٹہنی پر جا بیٹھتے ہیں جس کا پھل کھانا یقینی ہوتا ہے۔ جس لوٹے سے انہیں تشبیہ دی جاتی ہے یہ وہ لوٹا نہیں جو طہارت خانوں میں استعمال ہوتا ہے بلکہ یہ مٹی کا بنا بے پیندے کا وہ لوٹا ہوتا ہے جو راہٹوں میں پانی نکالنے کے کام آتا ہے۔ ان لوٹوں کو کنوﺅں کی ٹنڈیں بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک اچھے کام کے استعمال میں آتے ہیں، لیکن ہمارے ان سیاستدانوں کے اس کردار نے انہیں قدرے بدنام کر دیا ہے کہ اب وہ طہارت خانے کے لوٹے بن کر رہ گئے ہیں۔ یہاں تک کوئی بھی سیاسی پارٹی، اگرچہ ہر وقت لوٹوں کو خوش آمدید کہنے کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھتی ہے لیکن انتخابات میں لوٹے کو انتخابی نشان کے طور پر لینا پسند نہیں کرتی۔ اس لئے تو الیکشن کمشن کو بھی اب لوٹے کا نشان انتخابی نشانات کی فہرست سے خارج کرنا پڑا۔ بہرحال لوٹا، لوٹا ہوتا ہے خواہ وہ راہٹ کا لوٹا ہو، طہارت خانے کا یا سیاسی لوٹا۔ کہلاتا تو لوٹا ہی ہے ناں۔
ان لوٹوں کی لڑھکنیاں بھی قابل دید ہیں۔ کچھ گروہ در گروہ اِدھر اُدھر لڑھک رہے ہیں۔ تو کچھ فرداً فرداً اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں اور تمام سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی حیثیت اور قد کاٹھ کے مطابق انہیں اپنے اپنے دامن میں سمیٹ کر خوشی کے شادیانے بجا رہی ہیں۔ ان میں سب سے آگے مسلم لیگ (ن) ہے جو ان لوٹوں کی پسندیدہ جماعت بن چکی ہے کہ ان کے خیال کے مطابق اقتدار کا ہُما اب مسلم لیگ (ن) کے سر پر بیٹھتا نظر آ رہا ہے۔ دوسری طرف، پیپلز پارٹی جو پچھلے پانچ سال سے اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے تو اس کی طرف لوٹوں کی آمد بھی محدود نظر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ق) کا وہ خاص گروپ جس کیلئے فی الحال مسلم لیگ (ن) کے دروازے بند ہیں اور وہ امام دین گجراتی کے اس شعر
نہیں کوئی جنت میں گر سیٹ خالی
تو جلدی سے دوزخ میں وڑ مام دینا
کے مطابق وہ پیپلز پارٹی کی دوزخ میں وڑنے پر مجبور ہیں۔ ان کے علاوہ تحریک انصاف، جو ”سونامی“ کی صورت تبدیلی کی نوید لئے بہت سے لوگوں کی امید ہے ایک نئی سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے سخت اضطراب میں مبتلا ہے کہ وہ ایسے لوٹوں کو اپنی پارٹی میں لے یا نہ لے، اگر لیتی ہے تو یہ الزام لگتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو پارٹی میں شامل کر رہی ہے جو پہلے بھی اقتدار کے مزے لیتے رہے، نہیں لیتی تو تنہا رہ جاتی ہے۔ اب وہ کرے تو کیا کرے، یہی اس پارٹی کا امتحان بن چکا ہے۔ ایسے میں ایم کیو ایم یعنی متحدہ قومی موومنٹ، جو اپنے آپ کو متوسط طبقہ کی پارٹی بتاتی ہے، کسی حد تک لوٹوں کے کاروبار سے مبرا نظر آتی ہے تو وہ اس لئے کہ وہ ہمہ وقت اقتدار میں رہنے کا فن جانتی ہے اور وہ پارٹی جو ہمہ وقت اقتدار میں رہے اسے چھوڑ کر کون کسی دوسری پارٹی میں جا سکتا ہے۔ اب رہیں مذہبی جماعتیں جہاں اگرچہ لوٹا کثرت سے استعمال ہوتا ہے انکی سیاست میں لوٹے کی کوئی اہمیت نہیں کہ ان کے اِدھر اُدھر جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہٰذا وہ اپنے ایمان کی پختگی کے ساتھ، اپنی سیاست اور مو¿قف پر قائم رہتے ہیں۔ جہاں تک قوم پرست جماعتوں کا تعلق ہے وہ اپنی اسی قوم پرستی میں ہی مست رہتی ہیں اور پھر جو پارٹی اقتدار میں آئے اس کے ساتھ بحیثیت مجموعی اتحاد کر لیتی ہیں کہ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔
ہمارے ان سیاستدانوں میں کچھ ایسے بھی امیدوار ہوتے ہیں جو اپنے حلقوں میں اس قدر مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی کامیابی یقینی نظر آتی ہے تو وہ الیکشن آزادانہ طور پر لڑتے ہیں ، جب جیت جاتے ہیں تو جھٹ سے اس پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں اقتدار جن کا مقدر بنتا ہے اور اس طرح وہ لوٹا کہلانے سے بھی بچ جاتے ہیں۔ اگرچہ سب سے بڑے لوٹے یہی لوگ ہوتے ہیں وہ ہر حال میں اپنے اور اپنے خاندانوں کو ملک کی سیاست میں قائم و دائم رکھتے ہیں۔ قصہ کوتاہ، لوٹا سازی کی یہ صنعت بہت پھل پھول رہی ہے جو ہمارے ہاں اس جمہوریت کی دین ہے جس کا دن رات ذکر کرتے کرتے ہم نہیں تھکتے اور یہ ایسا کاروبار ہے جس کی مثال دنیا بھر میں شاید ہی مل سکے۔
چہ خوب جمہوریت زندہ باد ۔ لوٹا ازم پائندہ باد