صدر ز رداری کے فیصلے اور دنیا کی ہاری ہوئی جنگ !!

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک

دنیا بھر کے مفکرین‘ شاعر اور ادیب بربریت کی خون آشامی کے سامنے دم بخود کھڑے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے ؟ انسانی قتل و غارت کا یہ سلسلہ شروع کہاں سے ہوا ہے اور ختم کہاں پر ہو گا؟ انسانی دنیا کی پرانی تاریح میں بھی جنگیں ہوا کرتی تھیں مگر اب دنیا کی نئی تاریخ میں دہشت گردی‘ شدت پسندی ‘ ڈرون اٹیکس خود کش جیکٹس جیسے نام متعارف کروا دئیے گئے ہیں ....جدید انداز کی جنگوں کے آغاز میں پہلا جوہری بم پھینکنے کے ظلم کے نتیجے میں چشم زدن میں ڈیڑھ لاکھ افراد کے ہلاک ہونے پر لوگ دکھ کے سمندرمیں ڈوب گئے تھے اور اب ڈیڑھ لاکھ ایک ساتھ نہ سہی مگر لاکھوں افراد کو ایک ایک کر کے یا پھر دس دس پندرہ پندرہ یا پھر پچاس کی شکل میں مارا جا رہا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کو یہ مرحلہ درپیش تھاکہ امریکہ کے ساتھ چلیں یا پھر ان کی مخالفت کریں اور انہوں نے ساتھ چلنے کو ترجیح دی حالانکہ مرنا تو دونوں طرح سے تھا تو وہ ایک بہادر کمانڈو کی طرح مخالفت مول لے کر چلنے کا ارادہ بھی کر سکتے تھے۔ سر کی فصلیں تو ان کے ساتھ چل کر بھی کاٹی جا رہی ہیں .... مگر تاریخ میں اپنا نام احترام کے ساتھ لکھوانے کا فرض ادا کرنا ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ سابق صدر نے ڈرون حملوں کی اجازت دے کر امریکہ کو دنیا کے سامنے یہ کہنے کا موقع دیا کہ یہ سب کچھ ہماری مرضی سے ہو رہا ہے ........ اپنے لوگوں کو کون اپنی مرضی سے قتل کرواتا ہے ؟ کیونکہ ڈرون میں سارے کے سارے دہشت گرد تو مارے نہیں جا رہے ہیں .... اور انسانی حقوق کے علمبردار بے گناہوں اور معصوموں کے تڑپتے ہوئے جسم دیکھ کر بھی خاموش رہے اور پھر خاموشی جیسا گناہ کرنے کا رواج بڑھتا ہی چلا گیا .... صدر آصف علی زرداری نے بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس میں کہا ہے کہ دنیا جنگ ہار رہی ہے.... دنیا میں دراصل صرف غلامی سے نجات کی جنگیں فتح یاب ہوا کرتی ہیں دوسروں پر مسلط ہونے اور ظلم و جبر کی داستانیں رقم کرنے والی ہر داستان کو شکست ہو جایا کرتی ہیں اور یہ بات امریکہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والوں کو سمجھ میں آ جاتی تو غلامی اختیار نہ کرتے اور امریکہ کو بھی اب چند حقائق کو تسلیم کرنا پڑ جائیں گے کہ اس نے اپنی آزادی یعنی 1776ءسے 2005ءتک دوسو تیس سال میں دو سو بیس مرتبہ جارحیت کا مرتکب ہو کر کیا حاصل کر لیا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ 23 ملکوں پر بمباری کا مرتکب ہو چکا ہے ان ممالک میں چین (دو مرتبہ) گوئٹے مالا (تین مرتبہ) کوریا‘ انڈونیشیا‘ کیوبا‘ کانگو‘ سوڈان‘ افغانستان‘ ویت نام‘ کمبوڈیا‘ گرینیڈا‘ لبنان‘ لیبیا‘ نکارا گوا‘ پانامہ‘ عراق (دو مرتبہ) اور یوگوسلاویہ شامل تھا اور دنیا کی تاریخ میں اتنا ظلم تو ہلاکو خان ‘ چنگیز خان اور ہٹلر نے بھی نہیں کیا۔ ان اعمال کے نتیجے میں امریکہ نے سارے جہان کی نفرت کو اپنا مقدر کر لیا ہوا ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا اس نے عراق یا افغانستان کو اپنا اسیر کر لیا ہے ؟۔ کیا دنیا سے دہشت گردی اور شدت پسندی کو ختم کر کے امن قائم ہو چکا ہے ؟؟۔ کیا فلسطینی اور کشمیری اپنی آزادی کی تحریکوں کو ختم کر چکے ہیں؟؟ ؟۔ اگر نہیں تو امریکہ نے یقیناً ناکام ترین حربے اختیار کئے رکھے ہیں اور ان ناکام ترین حربوں میں ان کا ساتھ دینے والوں میں ایک تو امریکہ کو گمراہ کرنے میں مددگار رہے ہیں اور دوسرا یہی لوگ اپنی قوم اور اپنے ملک سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں .... آج پرویز مشرف وطن واپسی کے محض ”اعلانات“ کرتے نظر آتے ہیں .... وہ واپس آ سکتے ہیں کہ نہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ جس کا جواب یہی ہے کہ قوم حساب کتاب لینا جانتی ہے اور تاریخ معاف نہیں کرتی۔ امریکہ کے حلیفوں کے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ کیا امریکہ نے دنیا پر مسلط کی جانے والی جنگیں جیتی ہیں ؟ امریکہ کے اس رویے پر بھی بات ہونا ضروری ہے کہ اس کا یہ نظریہ کیا تھا کہ وہ دنیا میں بہتری لانے کا خواہش مند ہے اور یہ نظریہ اس کی نظر میں تو درست تھا مگر دنیا میں بہت سارے ممالک کے بہت سارے لوگ اس سے متفق نہیں تھے اور دوسری بات یہ بھی اہم بین المذاہب ہم آہنگی کے اصولوں میں بھی ایک دوسرے کے اندر مداخلت سے ہم آہنگی نہیں پیدا کی جا سکتی اور نہ ہی عسکری قوتیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر یہ ہم آہنگی پیدا کر سکتی ہیں لہذا مسائل کی بنیاد اور ان کے حل پر توجہ دے کر امن و سلامتی کے پیغام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ دنیا سے جنگوں کو ختم کرنے کے لئے انسانی حق کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرنا ہو گا اور تبھی یہ ممکن ہو گا کہ ٹیررازم کی نئی نئی اصطلاحیں سامنے نہ آئیں۔ صدر زرداری نے ایران کے ساتھ سوئی گیس لائن کے معاہدے اور چین کو گوادر سپرد کرنے کے فیصلے امریکہ کی طرف دیکھے بغیر کئے ہیں .... دنیا کی نئی تاریخ رقم ہونے میں ایسے ہی جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ پہلے لاکھ ڈیڑھ لاکھ افراد کو ایک ساتھ ہلاک کرنے پر احتجاج کیا گیا تھا۔ دنیا بھر کے مفکرین‘ شاعر اور ادیب اس بربریت کے خلاف بول اٹھے تھے .... آج ایک ایک کر کے یا دس دس پندرہ پندرہ یا پھر پچاس سو کی تعداد میں آہستہ آہستہ لوگوں کو مارا جا رہا ہے .... مگر سچ یہ ہے کہ تیز رفتار ہو یا آہستہ روی کے ساتھ دنیا جنگ ہار رہی ہے!! اور اب دنیا کے بھر کے مفکرین شاعر اور ادیب بربریت کی خون آشامی کے کم از کم اختتام پر ماضی کی غلطیوں پر ضرور بول اٹھیں گے۔