آئندہ عام انتخابات اور طالبان سے امن مذاکرات!

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں تحریک انصاف کے بغیر کم و بیش ملک کی ہر نمایاں سیاسی جماعت نے شرکت کر کے طالبان سے امن مذاکرات کی حمایت کی ہے اور گرینڈ جرگہ کو طالبان سے امن مذاکرات کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔ طالبان نے حکومت پاکستان کو خود امن مذاکرات کی دعوت دی تھی اور اس سلسلہ میں مسلم لیگ(ن) میاں محمد نوازشریف کے علاوہ ملک کی دو دینی سیاسی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے سربراہوں کو امن مذاکرات میں طے پانے والے امور کی ضمانت دینے کو کہا تھا۔ میاں محمد نوازشریف دو مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور اس سے پہلے وہ دو مرتبہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں اور طالبان کا یہ اندازہ بالکل درست ہے کہ اس وقت وہ ملک کے مقتدر ترین سیاست دان ہیں اور شاید ان سے ضمانت طلب کرنے کا مقصد یہ بھی ہو کہ آئندہ عام انتخابات کے نتیجے میں ان کے برسراقتدار آنے کا سو فیصد امکان بھی موجود ہے۔ وہ ان دنوں عمرہ پر سعودی عرب میں تھے۔ میاں محمد نوازشریف ملک کے اقتدار میں رہیں یا اپوزیشن میں، وہ ایک سیاسی قوت کی حیثیت رکھتے ہیں اور کسی بھی ملکی اور غیرملکی قوت کے لئے میاں محمد نوازشریف کو اپناضامن قرار دینے کی خواہش ایک جائز خواہش ہو سکتی ہے۔ میاں محمد نوازشریف موجودہ حکمرانوں کے کسی قول و فعل کی ضمانت دینے کو تیار نہیں ہیں کہ حکمران پیپلزپارٹی اور ان کے اتحادی مسلم لیگ(ق) کے ”چوہدری برادران“ نے ان کے اعتماد کو بار بار توڑا ہے۔ چوہدری برادران نے مسلم لیگ قائداعظم گروپ کہیں باہر سے نہیں بنائی تھی یہ قاف لیگ دراصل جنرل پرویزمشرف کی سیاسی جماعت ہے جو انہوں نے میاں محمد نوازشریف کے اقتدار کا تختہ الٹ کر ان کی جماعت مسلم لیگ(ن) میں سے اقتدار کی چمک پر لبیک کہنے والوں کے لئے ایک نئے سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر فراہم کی تھی۔ گویا ق لیگ کا قیام ہی مسلم لیگ(ن) کے وجود میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے کہ میاں محمد نوازشریف نے جانے والے ہر کارکن کو مسلم لیگ(ن) میں قبول کرلیا ہے ماسوائے میاں محمد اظہر کے جو اس پارٹی کے پہلے صدر بنائے گئے تھے اور اب تحریک انصاف میں ہیں یا ماسوائے ”چوہدری برادران“ کے جنہوں نے بعد ازاں میاں محمد اظہر کے ساتھ بھی ہاتھ کیا اور انہیں بھی پارٹی سے رخصت کر دیا اور پارٹی کو اپنے گھر کی لونڈی بنا لیا۔ ق لیگ کے لیڈروں نے نہ صرف میاں محمد نوازشریف سے بے وفائی کی بلکہ انہوں نے جنرل پرویزمشرف کو بھی ان کے ایوان صدر چھوڑتے ہی ہاتھ دکھا دیا اور اس پوری پارٹی میں ایک شخص سید مشاہد حسین کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ واحد ایسی شخصیت تھے جو جنرل پرویزمشرف کے لئے قابل قبول نہیں تھے۔ وہ جنرل پرویزمشرف کے اقتدارمیں آنے کے بعد پس دیوار زنداں بھی رہے لیکن بتدریج چوہدری شجاعت حسین انہیں آزاد اور بااختیار کرانے میں کامیاب ہو گئے اور اب کئی برسوں سے وہ ق لیگ کے سیکرٹری جنرل ہیں اور اب بھی ق لیگ کے دیگر عہدیداروں کی طرح وہ بھی بلامقابلہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل منتخب ہو گئے ہیں لیکن یہ پارٹی جسے ابتدا میں آصف علی زرداری نے قاتل لیگ کہا تھا بعد میں پیپلزپارٹی کی سب سے قابل اعتماد پارٹی بن گئی اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ چوہدری برادران اور آصف علی زرداری نے میاں محمد نوازشریف کو ان کے محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ طے پانے والے میثاق جمہوریت کی وجہ سے قبول کیا تھا لیکن اقتدار میں زرداری کو سب کچھ وہی چاہیے تھا جو مشرف کو درکار تھا۔ مشرف کو نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے کرنے والی اعلیٰ عدالتیں چاہئیں تھی۔ انہوں نے آج تک عبدالحمید ڈوگر سے صدرمملکت کا حلف لے رکھا ہے اور کبھی خود کو ڈوگر سپریم کورٹ کی پیداوار ہونے کے حوالے سے شرمندہ محسوس نہیں کیا۔ انہوں نے میاں محمد نوازشریف کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لئے مفاہمت کی سیاست کی داغ بیل ڈالی۔ اعلیٰ عدالتوں کی بحالی کے لئے مسلم لیگ(ن) کا ساتھ دینے کی بجائے اس حد تک چلے گئے کہ جب ان سے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کو سپریم کورٹ کے دیگر ججوں سمیت فنکشنل کرنے کے وعدے پر عمل درآمد کے لئے کہا گیا تو دوٹوک الفاظ میں کہہ اٹھے ان ججوں کی بحالی صرف ان کی موت کی صورت میں ممکن ہے لیکن بعد میں آرمی چیف کو میاں محمد نواز شریف کے موقف کی حمایت کرنا پڑی۔ لہٰذا میاں محمد نواز شریف موجودہ حکمرانوں کے حوالے سے طالبان کو کوئی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے بھی طالبان سے معذرت حاصل کر لی کہ وہ بھی حکمرانوں کی طرف سے کسی ضمانت کا اہتمام نہیں کر سکے۔ باقی رہ گئے مولانا فضل الرحمن تو وہ چونکہ کبھی کبھار جرگہ کے اکابرین کی طرف سے ملنے والے اشاروں پر حکومت سے یہ مطالبہ کرتے رہتے تھے کہ وہ طالبان اور حکومت کے مابین ضامن کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا وہ یہ بھی نہیں کہہ سکے کہ وہ حکومت اور طالبان کے مابین ہونے والے کسی تنازعہ میں ثالث یا کسی معاہدہ میںضامن نہیں ہو سکتے۔ وہ آج بھی جبکہ وہ صدر آصف علی زرداری کی مفاہمت کی سیاست کی آڑ میں ان کے حکومتی اتحادی نہیں ہیں۔ وہ صدر آصف علی زرداری سے دوستی کا دم بھرتے ہیں اور انہیں زرداری سے اپنے ذاتی تعلقات پر بہت زیادہ ناز ہے۔ مولانا فضل الرحمن اس ”کریڈٹ“ سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے کہ وہ ”طالبان“ سے تعلقات رکھتے ہیں اور طالبان ان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور یہ بہت حد تک حقیقت بھی ہے کہ طالبان کی اکثریت دیوبندی سکول آف تھاٹ کی پیروکار ہے۔ یہ لوگ قیام پاکستان سے پہلے جمعیت علمائے ہند کے پیروکار تھے اور جمعیت علمائے ہند فی الحقیقت سید احمد بریلوی شہید اور شاہ اسماعیل شہید کے پیروکاروں کی جماعت ہے اور اب یہی جمعیت علمائے ہند اپنے نئے نام سے جمعیت علمائے اسلام کہلاتی ہے۔ افغانستان میں بھی زیادہ تر یہی سکول آف تھاٹ ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن طالبان کے لئے پاکستانی سیاست دانوں میں سے سب سے زیادہ قابل قبول ہو سکتے ہیں۔ مولانا مودودی اپنی زندگی میں جمعیت علمائے ہند کے لوگوں کو پسند کرتے رہے تھے اور ان کا پیغام لے کر سیاست میں آگے بڑھنے والی جماعت اسلامی پر طالبان کا اعتماد بھی بلاجواز نہیں ہے۔ ہرچند یہ دونوں دینی جماعتیں طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نہ تو حصہ ہیں اور نہ ہی ان کے حامی ہیں اور یہی صورت حال مسلم لیگ(ن) کی ہے اور یہ سب لوگ دل سے چاہتے ہیں کہ طالبان قومی دھارے میں آ جائیں اور بھارت کی طرف سے ان میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے ارتکاب کے لئے جو کچھ خفیہ ہاتھوں سے کیا اور کروایا جا رہا ہے وہ ان سے لاتعلق ہو کر پاکستان کے مفاد میں پاکستانی قانون کے پاسدار بن جائیں۔ وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن انہیں مشرف کے بعد زرداری کے اقتدار سے امید کی کوئی کرن باقی نہیں رہی تھی کہ یہ لوگ امریکہ کی غلامی کا طوق گلے سے اتارنے پر آمادہ ہیں لیکن انہوں نے جن سیاسی قوتوں کو اپنی ضمانت کے لئے منتخب کیا تھا ان قوتوں کو صدر آصف علی زرداری پر کچھ زیادہ اعتبار نہیں تھا اور پھر فوج کے مذاکراتی عمل میں ہونے کے بغیر یہ کیسے ممکن تھا تاہم دیگر سیاسی جماعتوں کی اخلاقی حمایت کے بعد ان تینوں جماعتوں نے بھی گرینڈ جرگہ کو طالبان سے امن مذاکرات کا مینڈیٹ دے دیا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت دو ہفتوں بعد ختم ہو رہی ہے لہٰذا نگران حکومت اور آئندہ حکومت کی طرف سے گرینڈ جرگہ طالبان کو ہر ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ خدا کرے کہ مئی کے دوسرے یا تیسرے ہفتے ہونے والے عام انتخابات سے پہلے پہلے طالبان اپنی پرتشدد کارروائیوں سے باز آجائیں کہ عام انتخابات میں پاکستان کو دہشت گردی کے واقعات سے بچنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟