’’عوامی لیکس‘‘ کا مقدمہ کون لڑے گا؟؟؟

کالم نگار  |  سید روح الامین
’’عوامی لیکس‘‘ کا مقدمہ کون لڑے گا؟؟؟

پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں کئی آمروں اور جمہوری حکمرانوں نے حکومت کے مزے لوٹے‘ کھربوں کی جائیدادیں بنائیں۔ عوامی مسائل حل کرنے کی صورت حال یہ ہے کہ آج 70 سال بعد بھی سردیوں میں گھروں کے چولہے گیس نہ ہونے کے باعث ٹھنڈے ہیں۔ ماہانہ بل باقاعدگی سے آتے ہیں۔ گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ شاید پاکستانی عوام کا مقدر ہے۔ ہمارے تہذیب یافتہ ہونے کا ایک ہی ثبوت کافی ہے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور PTI ارکان نے جو تماشا لگایا۔ اس سے بھی پوری دنیا میں ہمیں رسوائی ملی۔ 70 سالہ تاریخ میں قانون کی حکمرانی کا یہ عالم ہے کہ ایک جج جو دوسروں کو انصاف دینے کا پابند ہے اسی کے گھر میں اسی کی بیوی کے ہاتھوں معصوم بچی کو مارا پیٹا گیا۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے آج عدالت عظمیٰ میں تو سماعت جاری ہے۔ حکومتی و PTI کے ارکان اپنے اپنے طور پر اخلاقیات کی سب حدیں بھی عبور کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوامی مسائل جوکہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک زبان زدعام ہیں۔ ان پر بھی کبھی کسی نے بات کی ہے؟ ویسے تو یہ سب ’’عوامی‘‘ نمائندے کہلاتے ہیں۔ آج شدید سردیوں میں تو الگ بات ہے گرمیوں میں بھی گیس نہیں ہوتی۔ مگر کون ہے جو عوامی مسائل جوکہ آئے روز لیکس ہوتے ہیں۔ ان کے حل کا بھی کوئی مداوا کرے۔ نہ ہی کبھی عدالت عظمیٰ نے ان مسائل پر ازخود نوٹس لیا ہے۔ غریب عوام بے چارے جائیں تو جائیں کہاں؟ کوئی بھی پرسان حال تو نہیں ہے۔ گزشتہ زرداری دور میں بھی مسائل آسمان کو چھو رہے تھے۔ اب موجودہ حکومت بھی چار سال پورے کر رہی ہے مگر عوام کے بنیادی مسائل گیس‘ بجلی کا فقدان‘ غربت‘ بے روزگاری‘ لاقانونیت‘ تھانہ کلچر کی صورت حال جوں کی توں ہے۔ سی پیک کو اگر ایک سائیڈ پر کر دیا جائے تو ہماری حکومتوں کی اپنی کارکردگی جو عوام کی بنیادی ضروریات کے لئے کی گئی ہو بخدا آج بھی منفی صفر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کسی بھی شہر میں آپ چلے جائیں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں نظر آئیں گی۔ سکولوں کی حالت زار عیاں ہے۔ ہسپتالوں کا عالم یہ ہے کہ آغاز میں جو ایک ایک سول ہسپتال ہر ایک ضلع میں بنایا گیا آج جبکہ آبادی 20 کروڑ ہو چکی ہے ہسپتال وہی ایک ہی ہے مریضوں کو بستر نہیں ملتے۔ فرش پر لٹا دئیے جاتے ہیں۔ بخدا ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں ملتیں۔ گزشتہ دنوں مجھے گجرات عزیز بھٹی ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔ بازو میں درد تھا۔ ایک ڈاکٹر صاحب کو چیک کرایا۔ انہوں نے چند گولیاں تجویز کر دیں۔ میں نے کہا جناب ادھر سے مل جائیں گی۔ مجھے کہنے لگے کہ آپ کو علم ہونا چاہئے کہ یہاں سے کونسی دوائیاں ملتی ہیں آپ تو صحافی ہیں مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ مطلب یہ کہ دوائیاں تو باہر فروخت کر دی جاتی ہیں۔ سی پیک پر ہمارے حکمران خوشیاں منا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چائنہ ہم سے بعد میں آزاد ہوا۔ آج وہ پوری دنیا کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا سوچ رہا ہے مگر ہاں ہم نے بھی خوب ترقی کی ہے وہ صرف ’’کرپشن‘‘ میں؟ اس حد تک کرپشن کی ہے کہ کرپشن کو بے نقاب کرنے والا ادارہ NAB اسے جائز قرار دے رہا ہے۔ اس نے ’’پلی بارگین‘‘ کا نظام متعارف کرایا ہے کہ کرپشن خوب کرو اور ضرور کرو مگر کچھ حصہ NAB کو دے دو اور خود عیاشی کرو۔ نہ جیل جانے کا خوف نہ پکڑے جانے کا ڈر!! تھانوں کے بارے سابق چیف جسٹس جمالی کا یہ بیان ہی کافی ہے کہ ’’تھانہ کروڑوں میں خریدا جاتا ہے اور پھر SHO ادھر سے پورے کرتا ہے‘‘ یہاں قانون کی بھی ’’دورنگی‘‘ ہے۔ ایک عام شہری کے لئے اور دوسرا خواص کے لئے۔ عام آدمی کی کرپشن کا کیس تو پولیس کے حوالے ہوتا ہے۔ وہاں سب کچھ منوا لیا جاتا ہے مگر ’’بڑوں‘‘ کی کرپشن کے معاملے ہوں تو کمشن بنائے جاتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ میں سماعتیں ہوتی ہیں۔ ہماری خودداری کا یہ عالم ہے کہ اپنی قومی زبان اردو کی تو کسی کو فکر ہی نہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ اسے نافذ کرو مگر حکمرانوں نے آنکھیں کان بند کئے ہوئے ہیں دوسری طرف چائنہ جوکہ ہمیں ’’بھیک‘‘ دے رہا ہے۔ لہٰذا اس کی زبان سیکھنے کے لئے یہاں سے طلبا بھیجے جا رہے ہیں اور پاکستان میں چائنیز زبان سیکھنے کے لئے اداروں میں اہتمام کیا گیا ہے ادھر پاکستانی بچوں کو چائنیز سیکھنے کی ’’دعوت عام‘‘ ہے۔ پہلے ہمیں انگریزوں کا غلام بنایا گیا۔ انگریزی ہم پر تھوپی گئی۔ اب سی پیک کا کرشمہ ہے اب چائنیز زبان کا ہمارے حکمرانوں کی طرف سے حکم دیا گیا ہے۔ بانی پاکستان نے اردو کو قومی زبان قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ کا حکم آنے کے باوجود قومی زبان سے بے اعتنائی برتی جا رہی ہے اب اگر چائنہ سے زیادہ کوئی ’’بھیک‘‘ دے گا تو ہم اس کی زبان سیکھنا شروع کر دیں گے!! یہ ہے ہماری انفرادی اور خودداری کا کھوکھلا نعرہ؟؟ درحقیقت ہمارے ہاں خدمت کا جذبہ اب کہیں بھی نظر نہیں آرہا‘ بس اقتدار کی ہوس!! PPP اب اپنی باری کی منتظر ہے اسی لئے وہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اعتزاز احسن پانامہ کے بارے ویسے تو بولتے تھکتے نہیں۔ مگر سپریم کورٹ میں نہیں گئے۔ خورشید شاہ اپوزیشن کو ’’چکمہ‘‘ دینے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ مگر اندرونی ہمدردیاں حکومت کے ساتھ ہیں۔ گزشتہ زرداری دور میں ن لیگ نے بھی تو ’’فرینڈلی‘‘ کردار ہی ادا کیا تھا۔ عوام کو ’’پانامہ لیکس‘‘ بہاماس لیکس سے کیا واسطہ؟ انہیں تو بس اپنے مسائل سے واسطہ ہے جوکہ ابھی تک حل ہوتے نظر نہیں آرہے۔ مودی ہمارا ازلی دشمن ہے۔ اسلام دشمن ہے مگر اس کی ایک بات ہمیں اچھی لگی ہے کہ خود وزیراعظم ہے مگر اس کا بھائی ایک دکان پر ملازم ہے اس کے کزن اور یہاں تک کہ اس کی والدہ بھی عام شہریوں کی طرح زندگی گزارتی ہے۔ خاندان کو اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ نہیں پہنچایا۔ ٹرمپ بھی اسلام دشمن ہے مگر اپنے ہوٹل کے باتھ روم خود بھی صاف کر لیتا ہے مگر ہمارے ہاں ریا کاریاں نمود و نمائش ہی کارفرما نظر آتی ہے۔ بہرحال پانامہ لیکس کو اب جانے دیجئے۔ عوامی لیکس کی بھی خبر لیں۔ عوام کے مسائل بھی حل کریں۔ یہ مقدمہ بھی آپ ہی نے لڑنا ہے۔