وہ خوشبو کی طرح ہر صبح پیراہن بدلتے ہیں

کالم نگار  |  بیدار سرمدی
وہ خوشبو کی طرح ہر صبح پیراہن بدلتے ہیں

میں نے میگزین سیکشن انچارج، میگزین ایڈیٹر اور ڈپٹی ایڈیٹر کی حیثیت سے تقریباً 13 برس نوائے وقت جناب مجید نظامی کے انتہائی قریب رہ کر ان سے عملی طور پر بہت کچھ سیکھتے ہوئے وقت گزارا۔ یہ کالم ایک نظم کی صورت نذر قارئین ہے۔
نوائے وقت زندہ ہے تو زندہ ہیں نظامی بھی
زمین شرق سے دہلیز مغرب تک
زمانہ حکمرانوں سے بھرا ہے
یہ وہ حاکم ہیں جن کا خاتمہ ہے بے نصیبی پر
عوام الناس کے دل سے اٹھے طوفان نفرت پر
٭....٭....٭
مگر وہ کیسے حاکم تھے جنہوں نے
ایک مدت تک دلوں پر حکمرانی کی
اور اس کی خود زمانے نے گواہی دی
عجب حاکم تھے جن کے سائے کو ہم سب لپکتے تھے
عجب حاکم تھے جو ضل الہی تھے
کہیں تحریک پاکستان کی اجل سپاہ کے
خوشنما سالار کی صورت
کہیں وہ تھے نوائے وقت کے معمار کی صورت
کہیں وہ مشرقی بازو کے دکھی دوستوں پر ایک سایہ تھے
کہیں کشمیر کے زخموں پر پھاہا تھے
چناروں میں لگی اغیار کی آتش سے
جب چہرہ کوئی جلتا
تو یہ لاہور سے اٹھتے ہوئے امید کے بادل
کی صورت پہنچ جاتے تھے
انہیں افغانیوں پر رات دن ہوتے مظالم کا بہت غم تھا
انہیں ان کا بھی غم تھا وہ جو ہیں محصور ڈھاکہ میں
٭....٭....٭
کبھی آغوش فطرت ان کو اپنی گود میں لیتی
تو پھر قائد کی اور اقبال کی روحیں جگاتی تھیں
انہیں آمادہ¿ پیکار کرتی تھیں
٭....٭....٭
وہ اٹھتے اور ارض پاک کو اہل ستم سے
پاک کرنے کے لئے میداں میں ڈٹ جاتے
انہیں اہل وطن کی بے بسی پر رونا آتا تھا
وہ استعمار کے جبروستم کے صد حصاروں میں گھرے
دل صد پارہ کو خود ہی رفو کرتے ہوئے
ہر دم رواں رہتے
کسے معلوم ہے
وہ کتنے خوابوں کو سجائے اپنی آنکھوں میں
بہادر رہنما کی طرح دل کو روح کو مربوط رکھتے تھے
وہ معمار نوائے وقت یا وقت تھے
کچھ کہہ نہیں سکتے
٭....٭....٭
انہیں معلوم تھا اہل ستم کی تیرگی کی تیز آندھی میں
دیا لوح و قلم کا کس طرح جلتا ہے صبح تک
یہی اک وہ ہنر تھا جو نوائے وقت کو اب تک بچا لایا
دیئے کو آفتاب ضوفشاں کا رنگ دے پایا
دلوں کے حکمراں جاتے نہیں بس تن بدلتے ہیں
وہ خوشبو کی طرح ہر صبح پیراہن بدلتے ہیں
نوائے وقت زندہ ہے تو زندہ ہیں نظامی بھی
نوائے وقت کے دم سے ہے تحریک نظامی بھی
٭....٭....٭