مجید نظامی‘ پاکستان کے فکری اور نظریاتی راہبر

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی
مجید نظامی‘ پاکستان کے فکری اور نظریاتی راہبر

مجید نظامی 26 جولائی کو وفات پا گئے۔ ان کے فانی جسم کے لحد میں اترنے کا منظر بھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر پھر بھی مجھے مجید نظامی کے انتقال فرما جانے کا یقین نہیں آرہا اور میں اب بھی یہ محسوس کر رہا ہوں کہ موت کا فرشتہ اس دفعہ بھی مجید نظامی کو پاکستان کی سلامتی اور نظریہ¿ پاکستان کے تحفظ کیلئے تاریخ ساز جنگ میں مصروف دیکھ کر خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا ہوگا۔ پاکستان سے ٹوٹ کر محبت مجید نظامی کا زندگی بھر شیوہ رہا اور نظریہ¿ پاکستان کے دفاع کیلئے تو عمر بھر مجید نظامی نے ایسی جنگ لڑی کہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام میں سے اس کی کوئی دوسری مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ مجید نظامی نے قیام پاکستان کے بعد وہی کردار ادا کیا جو قائداعظم کی زندگی میں مجید نظامی کے بڑے بھائی حمید نظامی نے قائداعظم کے حکم پر نوائے وقت کی بنیاد رکھ کر کیا تھا۔ قائداعظم کی قیادت میں قیام پاکستان کیلئے مسلمانوں کی جنگ آزادی کی جو تاریخ ہے‘ اس میں حمید نظامی اور ان کے اخبار نوائے وقت کی پُرخلوص جدوجہد کا بھی ایک روشن باب موجود ہے۔ مجید نظامی خود بھی تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے اور قیام پاکستان کے بعد مجید نظامی کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے تحریک پاکستان کے جذبوں کو کبھی سرد پڑنے نہیں دیا۔ حمید نظامی نے تحریک پاکستان کے دور میں قائداعظم اور قیام پاکستان کے مخالف ہندو پریس اور کانگریسی سیاستدانوں کے خلاف اپنے قلم سے جہاد کیا اور قیام پاکستان کے بعد نظریہ پاکستان کے دشمنوں کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے مجید نظامی نے اپنے قلم سے تلوار کا کام کیا۔ ارض وطن کی سلامتی‘ پاکستان کے اساسی نظریئے کا تحفظ اور کشمیر کی آزادی یہ وہ تین محاذ تھے جن پر مجید نظامی اپنی ساری زندگی ڈٹے رہے۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی پر ہمارے حکمرانوں نے تو اپنی سیاسی مصلحتوں کے باعث کئی دفعہ یوٹرن لینا ہوگا‘ لیکن مسئلہ کشمیر کو پوری جرا¿ت اور کمال بے باکی سے مجید نظامی ہمیشہ پیش کرتے رہے۔ نہ صرف مسئلہ کشمیر بلکہ پاکستان کے قومی مفاد سے جڑا ہوا کوئی بھی معاملہ ہو‘ مجید نظامی کی پوری زندگی میں آپ کوئی یو ٹرن نہیں دیکھیں گے۔ برادرم ذوالفقار چیمہ نے اپنے ایک مضمون میں مجید نظامی کو سب سے بڑا پاکستانی قرار دیا ہے۔ وہ سب سے بڑے پاکستانی تھے‘ اس لئے وہ سب سے بڑے ”ہندوستان دشمن“ بھی تھے۔ ہندوستان سے دوستی اور تجارت کی بات کرنے والوں کو مجید نظامی اپنے اخبار میں ہی نہیں بلکہ اپنی تقریروں میں بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ مجید نظامی نے ایک دفعہ مجھے اپنا انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے پاکستانی حکمرانوں کی عقل کے اندھے پن پر افسوس ہوتا ہے جو پاکستان کو دولخت کرنے والے انڈیا سے دوستی یا کسی اچھے عمل کی امید رکھتے ہیں۔ مجید نظامی یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ”ایک انسان کا قتل معاف نہیں کیا جاتا‘ لیکن یہ کیسے پاکستانی حکمران ہیں جنہوں نے پاکستان کے قتل کو معاف کر دیا ہے۔ اگر ہم بھارت سے پاکستان کو ٹکڑے کرنے کا بدلہ نہیں لے سکتے تو ہم بھی عزت اور باعزت قوم کی طرح ہمارا فرض ہے کہ بھارت سے دوستی کے الفاظ ہمارے منہ پر نہ آنے چاہئیں۔ بھارت جب بھی پاکستان سے دوستی کی بات کرتا ہے تو وہ محض منافقت اور ریاکاری سے کام لے رہا ہوتا ہے۔ اصل میں بھارتی حکمرانوں کا خواب ہمیشہ سے اکھنڈ بھارت کا ہے۔ اس لئے بھارت کے مذموم عزائم کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔“
مجید نظامی کی تحریریں‘ تقاریر اور انٹرویوز کی صورت میں ان کے خیالات پڑھ کر مجھے ہمیشہ یہ احساس ہوا ہے کہ وہ صرف ایک ممتاز صحافی نہیں تھے بلکہ ایک فکری رہنما اور سیاسی مفکر تھے۔ مجید نظامی پاکستان میں سیکولر طبقے کی نظریاتی اعتبار سے کوتاہ فکری کا ہی صرف محاسبہ نہیں کرتے تھے بلکہ پاکستان کے سیاسی‘ معاشی اور سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے وہ اس کا حل بھی پیش کرتے تھے۔ پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی اور جمہوری ملک بنانا بھی مجید نظامی کا ایک خواب تھا۔ وہ پاکستان میں ہر طرح معاشی استحصال سے پاک ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کے علمبردار تھے جس معاشرے پر حضرت عمرؓ کے دور کی یہ مثال صادق آسکے۔ بھوک سے مرنے والے کتے کی ذمہ داری بھی حکمران قبول کریں۔ مجید نظامی جمہوری نظام کے بہت بڑے حامی تھے مگر ایسی جمہوریت نہیں جس میں عوام کے حقوق پامال ہوں اور ان کا معاشی استحصال جاری رہے۔ مجید نظامی کی نظر ملک کی صرف داخلی پالیسیوں پر ہی نہیں رہتی تھی بلکہ وہ ملک کی ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دینے پر زور دیتے رہتے تھے جو خارجہ پالیسی پاکستان کے صرف اپنے مفادات کے تابع ہو۔ مجید نظامی امریکہ کی ان پالیسیوں کے سخت ناقد تھے جن پالیسیوں کو بروئے کار لاکر امریکہ پاکستان کی آزادی اور خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا تھا۔
مجید نظامی صرف مسلمانوں کے ملک فلسطین اور ریاست جموں کشمیر کی ہی آزادی کے علمبردار نہیں تھے بلکہ وہ ہر محکوم اور غلام قوم کا یہ بنیادی حق سمجھتے تھے کہ وہ اپنی آزادی کیلئے ہر طرح کی جدوجہد کرے کیونکہ جنگ یا جہاد کے بغیر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ایک غلام قوم آزاد ہو جائے۔ جہاں تک مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا تعلق ہے‘ اس حوالے سے مجید نظامی کی رائے یہ تھی کہ کشمیر کی کشمیریوں سے بھی زیادہ پاکستان کو ضرورت ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کو ہمارے کم ظرف دشمن انڈیا پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ مجید نظامی کی یہ جرا¿تمندانہ اور حقیقت پسندانہ آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ ”کشمیر کے دریاﺅں کا پانی پاکستان کی زندگی ہے۔ ہمیں یہ پانی حاصل کرنے اور بھارت سے اپنے دریاﺅں کا قبضہ حاصل کرنے کیلئے ایٹم بم بھی استعمال کرنا پڑے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔“ مجید نظامی کی اس دلیل کا بھی کسی کے پاس کوئی جواب نہیں کہ جو قومیں اپنے حقوق سے دستبردار ہو جاتی ہیں تو پھر ذلت و رسوائی ہی ان قوموں کی قسمت میں لکھ دی جاتی ہیں۔ اس لئے اگر ہم نے دنیا میں باوقار قوم کے طورپر زندہ رہنا ہے تو پھر کشمیر کی تحریک آزادی سے ہمیں کبھی بے وفائی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ کشمیر کی آزادی پاکستان کی تکمیل کا مشن ہے۔ میری مجید نظامی کے فکری اور نظریاتی وارثوں سے بھی یہ درخواست ہے کہ وہ مجید نظامی کی اس خری خواہش یعنی کشمیر کی آزادی کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑیں۔