سیاسی کشمکش اور تصادم کے مجید نظامی

کالم نگار  |  محی الدین بن احمد الدین
سیاسی کشمکش اور تصادم کے مجید نظامی

”سب نے اس دنیا سے جانا ہے اور باقی صرف اللہ کی ذات نے رہنا ہے“ یہ اصول قرآن پاک میں بیان شدہ ہے۔ جناب مجید نظامی بھی اس دارفانی سے اپنا عہد ہنگامہ خیز گزار کر چلے گئے ہیں۔ میرا خیال تھا کہ وہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں مدفون ہوں گے مگر وہ قبرستان میانی میں دفن ہونے کی وصیت کر گئے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ فوت ہو کر بھی اجتماعی قبرستان کا رہائشی ہونے کو ہی پسند کرتے تھے۔ جناب مجید نظامی اور شریف خاندان میں قربت کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ اس میں میاں محمد شریف کی خوئے دلربائی اہم سبب ہو سکتی ہے مگر میرے فہم کے مطابق جناب مجید نظامی ”سیاسی کشمکش“ اور ”طبقاتی جنگ“ میں ایک ”فریق“ کا ساتھ دینے کو پسند کرتے تھے شائد یہی بات جناب حمید نظامی میں بھی موجود تھی۔ حمید نظامی نے نواب ممدوٹ کا ساتھ دیا جبکہ میاں ممتاز دولتانہ جیسے جاگیردار مگر لومڑی کہلاتے کردار کو اپنے ذہن سے کافی دور رکھا تھا۔ شریف خاندان کے اقتدار میں جناب مجید نظامی نے کھل کر نواز شریف کو ”لیڈر“ بنانے میں کردار ادا کیا تھا۔ شریف خاندان نے بھی ان کی عزت افزائی کی تھی اور ان کے مشوروں کو اہمیت دی تھی جو کچھ مجھے سمجھ آ سکی ہے اس کے مطابق نواز شریف کو وہ اپنا سیاسی ”بیٹا“ سمجھ کر پرموٹ کیا کرتے تھے اور ایسا کرتے ہوئے وہ جاگیردارانہ سیاست و اقتدار میں نئے ہنرمند خاندان کا ساتھ دے کر کمزور اور نئے سیاسی رجحان کے ذریعے بدبودار جاگیردار ظالم سیاست کو کمزور کرتے تھے۔ جناب نظامی فوج کے بہت بڑے حامی تھے۔ بطور خاص جب فوج ملکی دفاع کے فرائض سے خود کو وابستہ رکھتی ہو مگر وہ ہمیشہ فوج کے ظاہری اور باطنی حاکمانہ کردار کے شدید نقاد اور ناپسند کرنے والے تھے۔ جب بھی نواز شریف کو جنرلز کی طرف سے ”دباﺅ“ کا سامنا ہوا تو مجید نظامی نے کھل کر نواز شریف کا ساتھ دیا تھا۔ جنرل جہانگیر کرامت نے جب وزیراعظم نواز شریف کو ادارہ جاتی مشورہ سازی کا مشورہ ایک فوجی اجتماع میں دیا تو جناب مجید نظامی اس خاکی روئیے کے خلاف سینہ تان کر سامنے آئے۔ ایسا ہی جنرل وحید کاکڑ کے نواز شریف سے استعفیٰ طلب کرنے کے موقعے پر ظاہر ہوا تھا وہ کمزور کا ساتھ دیتے تھے یہی کردار جنرل ایوب کے مد مقابل بھٹو کے حوالے سے تھا۔ نظامی صاحب اسلام کے حوالے سے بہت حساس تھے بھٹو اور ان میں اختلاف صرف سوشلزم کی وجہ سے ہوا تھا اس کا مطلب ہے کہ جوانی میں بھی وہ اسلام کے حوالے سے جذباتی لگاﺅ رکھتے تھے۔ ”کشمکش“ میں آصف علی زرداری کو جب انہوں نے ”مرد حر“ کا خطاب دیا تو یہ بے سہارا اور معتوب ترین زرداری کے لئے بہت ہی بڑی مدد تھی۔ اگر نظامی صاحب زرداری کو ”مرد حر“ کہہ کر سیاسی اہمیت نہ دلواتے تو ممکن ہے پی پی پی میں زیادہ امین و مہذب، زیادہ باوقار اور اخلاقی معیار پر اترنے والے کرداروں کے لئے قائدانہ راستہ استوار ہو جاتا مگر یہ کشمکش میں ایک فریق کا ساتھ دینے والے یہ مجید نظامی تھے جنہوں نے اس پہلو پر نظر ڈالنے کی بجائے واقعاتی پہلو کو زیادہ اہمیت دی تھی۔ تیسرے عہد میں مجید نظامی اور میاں نواز شریف میں کافی زیادہ فکری دوری وقوع پذیر ہو چکی تھی۔ اس خلا کو انہوں نے میاں شہباز شریف کی سرپرستی کرتے ہوئے پورا کر دیا۔ گویا انہوں نے میاں شریف سے ذاتی تعلق کے سبب خود نواز شریف سے تعلق نہ توڑا تھا بلکہ یہ میاں نواز شریف تھے جو ازخود بھارتی لابی کے فکری پیامبروں اور لبرلز و سیکولرز کے ”رہنما“ بن گئے تھے۔ انہوں نے میرے مشرق وسطیٰ اور سعودی عرب کے حوالے سے کالموں کو مستقل طور پر شائع کرکے ثابت کر دیا کہ وہ ارض مکہ و مدینہ کے خادموں کے ساتھ کسی بھی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ یوں جناب مجید نظامی ہر جگہ جہاں کشمکش موجود ہو وہاں واضح کردار اپناتے تھے۔ دوٹوک اور واضح کردار۔