بھاری مینڈیٹ اورہیوی دھرنا

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان
 بھاری مینڈیٹ اورہیوی دھرنا

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پاس آج بھی ہیوی مینڈیٹ موجود ہے۔ وہ جمہوری، آئینی اور قانونی طور پر کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں ہے اور کر بھی رہی ہے۔ فوج اور عدلیہ سمیت ہر ادارے کا سربراہ اگر ان کا اپنا لگایا ہوا نہیں تو ان کا سپورٹر ضرور ہے۔ جو حمایت سے کتراتا ہے اس کا انجام ذکاءاشرف، طارق ملک اورپیما والے چودھری رشید جیسا ہوتا ہے۔ فوج کی طرف سے ہر تیسرے روز بیان سامنے آتا ہے ”ہم جمہوری حکومت کے احکامات کے پابند اور اس کے ساتھ ہیں۔“
 عوام نے مسلم لیگ ن کوپانچ سال کا ہیوی مینڈیٹ دیا اور کچھ عناصر پانچ سال کے ٹھاٹھیں مارتے اس سمندر کو سال ڈیڑھ سال کے کوزے میں بند کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ یہ ہمارا نہیں، ہیوی مینڈیٹ والوں کا سوال ہے۔ وہ تو کم از کم 2025ءتک حکمرانی کی تیاری کئے بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ حکمران جمہوریت کی گاڑی کے کم پریشر والے ٹائر میں سرنج سے ہَوا بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی گاڑی دیکھیں اگلا سفر کیسے طے کرتی ہے؟ جن لوگوں نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیکر ہیوی مینڈیٹ دلایا ان میں سے بہت سے جلتے مسائل میں جُھلس رہے ہیں۔ بعض اوقات چہرے سے عیاں خوشی کے پیچھے چھپا کرب نظر نہیں آتا، ایسی خوشی ہر ایماندار مسلم لیگی عہدیدار کے چہرے سے ٹپکتی ہے لیکن اندر کے کرب سے کوئی آگاہ نہیں جو لوگوں کے سوالات سے اُٹھتا ہے۔ آئی ڈی پیز کیلئے حکومت پنجاب کی فنڈز ریزنگ مہم کے سلسلے میں قذافی سٹیڈیم میں 27 رمضان کی شب ٹی ٹونٹی میچ کرائے گئے ، اس سے 10 کروڑ روپے اکٹھے ہوئے۔ میڈیا میں اس مہم کی بڑی پذیرائی ہوئی۔ سٹیڈیم میں بڑا خوش و خروش تھا۔ سٹیڈیم میں سکولوں و کالجوں کے اساتذہ کو شرکت کا حکم تھا۔ بلا امتیاز مرد زن کے اور پھر یہ احکامات ننکانہ صاحب اور قصور کے اساتذہ پر بھی لاگو تھے۔ ستائیس رمضان کو کیا اساتذہ کو جبری سٹیڈیم لانا ہوشمندی میں کیا گیا فیصلہ ہو سکتا ہے؟ ایک خاتون نے فون پر اس ستم پر آہ و زاری کی، وہ بہت کچھ کہہ رہی تھی، میاں نواز شریف طویل عمرے کیلئے گئے ہوئے ہیں ان کا نام لے کر جلی کٹی کہتی رہی۔ یہ خاتون بھی یقیناً سٹیڈیم میں جوش و خروش کا حصہ ہو گی۔ اس جوش و خروش کے پیچھے چھپا کرب کسی کو نظر نہیں آیا ہو گا --- نصیر وٹو کا تعلق سید والا سے ہے، وہ فیصل آباد میں ایک پرائیویٹ ادارے میں ایڈمن اور سکیورٹی ڈائریکٹر ہیں ۔وہ چلّاتے ہوئے احتجاج کر رہے تھے کہ مونجی کی بوائی ناممکن ہو رہی ہے، نہروں میں پانی نہیں چھوڑا جا رہا، ٹیوب ویل بجلی نہ ہونے سے بند پڑے ہیں۔ زمیندار کیا بوئے گا،کیا اُگائے گا اورکیا کھائے گا --- نصیر وٹو کا دُکھڑا ہر کسان اور کاشتکار کا دُکھڑا ہے۔ اب قدرت مہربان ہو تو چاول کی فصل اچھا جھاڑ دے سکتی ہے۔ حکمرانوں نے تو ڈیڑھ سال کے عرصہ میں ہی خود کو نامہربان ثابت کر دیا ہے۔ ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے، حکمرانوں کی مرضی اس سے فائدہ اُٹھائیں یا نہ اُٹھائیں۔ حکومت نے عید کی چھٹیوں کے تین دن میں پورے ملک میں بلا تعطل بجلی فراہم کی ۔ اس کیلئے حکومت نے 20 ارب جاری کئے ۔ وزارت پانی و بجلی نے اس مقصد کیلئے وزارت خزانہ سے 18 ارب روپے مانگے تھے تاہم وزارت خزانہ نے 20 ارب جاری کر دیئے۔ 2 ارب شاید عیدی تھی ؟ رمضان میں چالیس ارب سحری و افطاری کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے ریلیز کئے گئے تھے مگر افاقہ نظر نہیں آیا۔اگر 2 ارب عیدی دےدی جاتی تو صارفین جبری لوڈشیڈنگ کے جبر سے محفوظ رہتے۔ذمہ داروں نے چالیس ارب ہی کو عیدی سمجھ لیا۔ لوڈشیڈنگ کے علاوہ بھی عام آدمی کا عرصہ حیات تنگ ہے۔ چادر اور چار دیواری کا تحفظ ناپید ہے، لاقانونیت ہی لاقانونیت ہے۔ گجرات میں دس سالہ بچے کے بیدردی سے دونوں بازو قلم کر دئیے گئے۔ ملزم شاید چند دن میں پولیس مقابلے کا شکار ہو جائے۔ اگر ایسے لوگوں کا یہی علاج ہے تو پھر اسے قانونی حیثیت دے دی جائے۔ خواتین سے درندگی کے واقعات میں تیزی آگئی ہے ،کئی کو آبروریزی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ جرائم بڑھتے جا رہے ہیں۔ مجرم تو قانون کی دستبرد سے بچ نکلتے ہیں۔ البتہ انصاف نہ ملنے پر قتل ہونے سے بچ رہنے والی خواتین میں سے اکثر خودکشی کر لیتی ہیں۔ عجیب بدمعاشی ہے نوجوان کو لڑکی پسند آئی، شادی کا پیغام بھیجا، رشتہ نہ ملنے پر لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک کر شکل بگاڑ دی یا گولی مار دی۔ ایم فِل کی طالبہ کو ویلڈر نے پسند کیا اور اس پر لازم کر دیا کہ زندہ رہنا ہے تو مجھ سے شادی کرو۔ ایسے واقعات کے ذمہ دار حکمران، عدلیہ اور انتظامیہ یکساں طور پر ہیں۔ زیادہ ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ حکمرانوں کی بے حسی پر لوگوں کا خون کیوں نہیں خولے گا! حکمران کلاس کو اس سوال کا جواب مل جانا چاہئے کہ پانچ سال کا مینڈیٹ کیسے ڈیڑھ سال کی مدت میں سمٹ سکتا ہے۔
عمران خان کا لانگ مارچ حکمران خود کامیاب بنانے کے لیے تُلے ہیں۔ یہ خود کو عقلِ کُل اور 18 کروڑ عوام کو طفلِ مکتب سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں اسلام آباد کو فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ ضربِ عضب کے ممکنہ ردعمل سے محفوظ رہنے کیلئے کیا گیا۔ ضربِ عضب اپریشن 15 جون سے شروع ہوا۔ اسلام آباد کو یکم اگست سے فوج کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ضربِ عضب کے ڈیڑھ ماہ بعد اور عمران خان کے لانگ مارچ سے تیرہ روز قبل۔ اور پھر کہتے ہیں آرٹیکل 245 کے نفاذ کا عمران خان کے دھرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکمران آگ کو پٹرول سے بُجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکمرانوں نے فوج کو تحریک انصاف کے سامنے لاکھڑا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایسا ہی فیصلہ 77ءمیں ذوالفقار بھٹو نے فوج کو پی این اے کے سامنے لا کھڑا کر کے کیا تھا۔
ن لیگ کو بھاری مینڈیٹ کا زعم ہے ،عمران خان کو غلط فہمی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو اسلام آباد لاکرفوج کی حمایت حاصل کر کے تخت الٹا دیں گے ۔تخت صرف حکمرانوں کی حماقتوں سے الٹ سکتا ہے جس میں یہ ماہر ہیں۔
عمران خان کو دھرنا دینے اور لانگ مارچ کرنے دیں آسمان نہیں ٹوٹ پڑیگا۔ معاملات سیاسی سمجھ بوجھ سے حل کریں، سیاسی معاملات انتظامی طریقے سے نہیں چلائے جا سکتے۔ عمران خان کا دھرنا ناکام بنانا ہے توآرٹیکل 245کے تحت اسلام آباد میں طلب کی گئی فوج کو واپس بھیجیں۔حالات کراچی میں بُری طرح بگڑے ہوئے ہیں جبکہ فوج اسلام آباد میں طلب کرلی ہے ۔ عمران کا لانگ مارچ ناکام بنانے کے لیے فوج پر تکیہ نہ کریں، عوام کی مشکلات کم کر دیں۔ اگر عید پر بلاتعطل بجلی فراہم کی جا سکتی ہے تو باقی دنوں میں کیوں نہیں۔چند وزراءبڑے جذباتی ہو کر کہتے ہیں کہ ملک حالت جنگ میں ہے ، فوج دہشتگردوں کے خلاف لڑرہی ہے ان حالات میں مارچ اور دھرنوں کا جواز نہیں ہے۔ ان حالات میں اگر وزیر اعظم دس روز کے عمرے پر جا سکتے ہیں توپھر ملک کے اندر حکمران جائز سیاسی سرگرمیوں کی مخالفت کیسے کر سکتے ہیں۔