آخری ملاقات اور آخری آرڈر

صحافی  |  شمیم اصغر راﺅ
آخری ملاقات اور آخری آرڈر

ریذیڈنٹ ایڈیٹر بننے کے بعد سے ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ تقریباً ہر تین ماہ کے بعد جناب مجید نظامی کی شفقت‘ محبت اور حوصلہ افزائی کے کلمات سمیٹنے کیلئے کسی نہ کسی بہانے لاہور جاتا رہا ہوں۔ جولائی 2014ءکا آغاز ہوا تو لاہور جانے کی خواہش شدید ہو گئی جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ نظامی صاحب سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ ان کی طبیعت خراب رہتی ہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے خود بھی بتایا تھا کہ وہ کمزوری محسوس کر رہے ہیں۔ 5 جولائی کی رات معمول کے مطابق اُن سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا تو میں نے انہیں بتایا کہ میں لاہور آنا چاہتا ہوں۔ ان کا مختصر سا جواب تھا کہ ”آجائیں بھئی“ 7 جولائی پیر کے روز لاہور آفس پہنچا تو ایڈیٹوریل سٹاف کے ساتھ میٹنگز کا سلسلہ جاری تھا۔ ظہر کی نماز سے جیسے ہی فارغ ہوئے مجھے منیر نے بتایا کہ ”صاحب“ بلا رہے ہیں‘ لیکن کوشش کریں کہ ملاقات مختصر ہو کیونکہ ”صاحب“ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ دفتر میں داخل ہوا تو پہلی نظر میں ہی معلوم ہو گیا کہ طبیعت واقعی درست نہیں‘ کافی کمزور نظر آرہے تھے اور پوری ملاقات میں صرف دو مرتبہ نہایت نحیف سی آواز میں انہوں نے بات کی۔ دفتری امور کے بارے میں جو کاغذات اپنے ساتھ لیکر گیا تھا‘ ایک ایک کرکے انکے سامنے رکھتا رہا اور بریف کرتا رہا۔ وہ متعلقہ شعبوں کے انچارج صاحبان کو بھجواتے رہے۔ ماہ مئی اور جون میں ملتان آفس کا بزنس اور ریکوری دونوں بہت بہتر تھے۔ انہیں دیکھ کر انکے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آئی۔ میں جتنی دیر بیٹھا رہا‘ نظامی صاحب کی شفقت کا سلسلہ جاری رہا۔ جو بھی درخواست پیش کی‘ وہ قبولیت کی منزل پا گئی۔ سب سے آخر میں ایک بچی کی نوائے وقت ملتان میں بطور سب ایڈیٹر تقرری کی فائل پیش کی جو نظامی صاحب کے دفتر میں داخل ہوتے وقت پی اے شفیق سلطان نے یہ کہہ کر میرے ہاتھ میں تھما دی تھی کہ یہ ملتان کا معاملہ ہے۔ اقراءوحید نامی بچی کی تقرری کی داستان بڑی دلچسپ اور نظامی صاحب کی دوست نوازی اور دوستوں کے بچوں سے محبت کی مظہر ہے۔ ملتان میں نظامی صاحب مرحوم کے ایک عقیدت مند عبدالوحید نامی شخصیت ہیں جو قلعہ کہنہ ملتان پر واقع نگارخانے کے مالک ہیں۔ گزشتہ تقریباً 25 سال سے عبدالوحید صاحب کا معمول ہے کہ وہ جب بھی ملتان سے لاہور جاتے‘ نظامی صاحب مرحوم سے ملے بغیر نہیں آتے تھے۔ 2009ءمیں وحید صاحب نے نظامی صاحب سے متاثر ہوکر ہی اپنی بچی اقراءکو صحافت کی تعلیم دلوانے کا فیصلہ کیا اور جب اس عزم کا اظہار انہوں نے نظامی صاحب سے کیا تو وہ بے حد خوش ہوئے اور اقراءکے نام باقاعدہ ایک خط لکھ کر وحید صاحب کو دیا خط میں لکھا تھا ”پیاری بیٹی اقراءآپکے ابو نے بتایا ہے کہ آپ ایم اے جرنلزم کرکے صحافت میں آنا چاہتی ہیں‘ خدا کرے آپ یہ منزل جلدی کامیابی کے ساتھ طے کر لیں۔ نوائے وقت آپ کا اپنا اخبار‘ ہے آپ فکر نہ کریں اور آغاز اس سے کریں۔“
بعدازاں وحید صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی‘ نظامی صاحب اقراءکی تعلیم کے بارے میں ضرور سوال کرتے۔ اسی سال جنوری کی ایک ملاقات میں وحید صاحب نے بتایاکہ اقراءکے امتحان میں صرف تین ماہ رہتے ہیں تو نظامی صاحب مرحوم نے وحید صاحب کو پھر ایک تحریر لکھ کر دی جو دراصل آر ای ملتان کو ہدایت تھی۔ اپنی ہدایت میں مرحوم نے لکھا ”اقراءوحید کے ایم اے کے تین ماہ باقی ہیں‘ اس بچی کو ایم اے کا امتحان دینے کے فوراً بعد بطور ٹرینی نیوز رکھ لیں۔“ اقراءنے امتحان پاس کر لیا تو وحید صاحب تقرری کیلئے درخواست لیکر گئے۔ فائل میں دونوں تحریکیں بھی لگا دی گئیں۔ فائل پیش کی گئی تو نظامی صاحب نے پی اے شفیق سلطان کو ہدایت کی کہ آر ای ملتان سے کہیں کہ وہ بچی کیلئے جگہ نکالیں۔ اسی روز رات کو فون پر بات ہوئی تو نظامی صاحب نے پھر اقراءکا ذکر کیا۔ میں نے گزارش کی کہ آپ حکم صادر کریں اقراءکیلئے جگہ بن جائے گی۔ پھر کچھ روز نظامی صاحب کی طبیعت ٹھیک نہ رہی وہ دفتر بھی نہ آئے تو یہ فائل جوں کی توں پڑی رہی۔ 7 جولائی کو جب میں آپ سے ملنے کیلئے آفس میں جا رہا تھا تو پی اے نے یہ فائل بھی مجھے دیدی۔ میں نے فائل پیش کی تو اس میں سب سے اوپر اپنی لکھی ہوئی دونوں تحریریں پڑھ کر انہوں نے فرمایا کہ اس پر اپنی سفارش لکھ دیں۔ میں نے فوراً تعمیل کی تو انہوں نے اوکے لکھ کر دستخط کر دیئے اور فائل جنرل منیجر گروپ ایڈمن مجاہد حسین سید صاحب کو ریفر کر دی۔ مجھے وہاں بیٹھے دس منٹ سے زیادہ ہو چکے تھے‘ مجھے منیر کی ہدایت یاد تھی۔ میں نے اجازت چاہی اور آگے بڑھ کر ہدایت .... تو نحیف سی آواز میں کہا ”اسی طرح محنت جاری رکھیں“ میں سلام کرکے باہر نکل آیا۔ میرے بعد ڈائریکٹر فنانس جناب اعظم بدر ملنے کیلئے گئے اور پھر نظامی صاحب گھر جانے کیلئے اٹھنے لگے تو اٹھا نہ گیا۔ انہیں سہارا دیکر گھر لے جایا گیا۔ اسی روز وہ ہسپتال میں داخل ہو گئے اور پھر 26 جولائی کی صبح اڑھائی بجے ان کا انتقال ہو گیا۔ ”انا للہ و انا الیہ راجعون“انتقال کے بعد لاہور گیا تو جنرل منیجر گروپ ایڈمن سجادحسین سید نے بتایا کہ آپ آخری ملاقاتی تھے اور اقراءوحید کی تقرری انکا آخری آرڈر تھا۔ اس طرح مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ میں دفتر میں آخری بیرونی ملاقاتی تھا اور اقراءوحید کی تقرری مرحوم کا آخری آرڈر تھا۔