آئین کے آرٹیکل 245 پر تنقید کیوں؟

کالم نگار  |  سجاد ترین
آئین کے آرٹیکل 245 پر تنقید کیوں؟

آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد کی سکیورٹی کی ذمہ داری یکم اگست سے تین ماہ کیلئے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد شدت پسندوں کی طرف سے یہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ ملک کے شہروں میں حملہ کرینگے اور اسی تناظر میں اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کی جا رہی ہے۔ ہماری جتنی اہم تنصیبات ہیں، وہاں پہلے سے فوج تعینات ہے انہیں وہاں رہنے کیلئے ایک قانونی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں فراہم کیا جا رہا ہے۔ آئین حکومت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے اندرونی یا بیرونی خطرے سے نمٹنے کیلئے سویلین انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج کو بُلا سکتی ہے۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف فوجی آپریشن 15 جون سے جاری ہے اور اس کارروائی کے آغاز کے بعد ہی سے ملک میں سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی لیکن وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سلامتی کی ذمہ داریاں فوج کو دینے کا یہ فیصلہ ایسے وقت کیا جب حزبِ مخالف کی جماعت تحریک انصاف نے مئی 2013ءکے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف14 اگست کو اسلام آباد میں ایک بڑی احتجاجی ریلی کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کے فیصلے کا تعلق عمران خان کے اعلان کردہ احتجاجی مارچ سے نہیں ہے، وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں تین ماہ کیلئے فوج کو دینے کے فیصلے کا مقصد دہشت گردوں کی طرف سے حملوں کے خطرات ہیں۔ دہشت گردی کا ڈر ہے۔ فوج کے دستے ایر پورٹ سمیت دیگر حساس مقامات پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد کیلئے اسلام آباد میں موجود ہوں گے فوج کو کوئیک رسپانس فورس کے طور پر استعمال کیا جائیگا۔ فوج کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مدد اور تحفظ حاصل ہو گا چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں جہاں جہاں بھی فوج کی ضرورت ہو تو وہاں پر بھی اسی ماڈل کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ فوج اسلام آباد کی انتظامیہ کی مدد کیلئے شہر میں موجود ہوگی۔ وفاقی حکومت کے پاس خفیہ اداروں کی جا نب سے فراہم کردہ ایسی معلومات بھی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ دہشتگرد وفاقی دارالحکومت کو نشا نہ بنا سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں موجود کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی کی بھی اطلاع ملتی رہتی ہیں اسکے علاوہ 14 اگست کی رات ایک تقریب بھی ہو رہی ہے جس میں پہلی بار پاک افواج کی پریڈ ہو رہی ہے۔ اس تقریب اور پریڈ کی سکیورٹی پو لیس کے بس کی بات نہیں ہے، اس تقریب کی سکیورٹی پاک فواج ہی کر سکتی ہے۔ ایسی تقربیات کے موقع پر دہشتگردی کا خطرہ ہوتا ہے کیو نکہ اس تقر یب میں فوج کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں سفارتکاروں کے علاوہ 5 سے 7 ہزار لوگ اس تقریب کو دیکھنے آئینگے، فوج اس تقریب کیلئے ریہرسل بھی کریگی حکومت تو سول انتظامیہ کی مدت کے لیے فوج کو بُلا رہی ہے اور یہ کام آئین کیمطابق ہو رہا ہے۔ اسکے علاوہ اسلام آباد میں بہت سارے سفارت خانے بھی موجود ہیں۔ دہشتگرد اگر وفاقی دارالحکو مت میں کوئی چھوٹی سی بھی کارروائی کر دیتے ہیں تو اس کو اپنی کامیا بی قرار دیں گے پھر یہی اپوزیشن کی جماعتیں حکو مت کو تنقید کا نشا نہ بنائیں گی۔ پاکستان کا آئین بنانے والوں نے آرٹیکل 245 کو آئین کا حصہ بنایا ہے حکو مت تو آئین پر عمل کر رہی ہے اپوزیشن اس پر بھی تنقید کر رہی ہے۔ تحفظ پاکستان آرڈیننس کے وقت بھی اپوزیشن نے تنقید کی تھی جبکہ دنیا بھر میں تحفظ پاکستان آرڈیننس سے بھی زیادہ سخت قوانین موجود ہیں موجودہ قانون کسی شخص یا جماعت کیخلاف نہیں۔ کمزور قوانین یا قوانین کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملک دشمنوں کو سزائیں نہیں دی جا سکتیں۔ اداروں کو دشواریاں پیش آتی ہیں مجرم گواہوں کے عدالتوں میں نہ آنے کا فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔ ملک میں جتنی شدت کے جرائم ہو رہے ہیں اس شدت کے سخت قوانین موجود نہیں مجرموں کو گرفتار کرنیوالے بعض اوقات خود عدالتوں میں مجرم بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ طالبان اور شدت پسندوں سے تو سوال نہیں کیا جاتا کہ وہ کس ضابطے اور قانون کے تحت کاروائیاں کر رہے ہیں لیکن حکومت اور ریاست پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اس لئے قانون کا بننا لازمی تھا آج پاکستان کے عوام اور ادارے دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، معصوم بچے مارے جاتے ہیں، معاشرہ خوف کے حصار میں ہے۔ عوام کے جان و مال کو ہر قیمت پر تحفظ حکومت کی پہلی ترجیح ہے جو لوگ عوام کے جان و مال سے کھیل رہے ہیں وہ کس حد تک اسلامی اقدار اور تعلیمات کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اسلام میں ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے پاکستان سے لیکر سعودی عرب تک، تمام علما متفق ہیں کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ اسلام تو جان و مال کے احترام میں مذہبی امتیاز کو بھی قبول نہیں کرتا ادھر شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی جاری ہے شمالی وزیرستان کے انتظامی مرکز میرانشاہ کے علاوہ دہشت گردوں کے دو دیگر مضبوط گڑھ کہلائے جانیوالے علاقوں بویا اور دیگان سے شدت پسندوں کا صفایا کیا جا چکا ہے اور فوج اب میر علی کو صاف کیا جا رہا ہے حکو مت پاکستان کو دہشتگردی سے پاک کرنے کیلئے اقدا مات کر رہی ہے۔داخلی اور خارجی سکیورٹی کیلئے ماضی میں 11 مرتبہ 245 کے تحت مختلف مقاصد کیلئے فوج بلائی گئی بے نظیر ائر پورٹ اور اہم عمارتوں پر فوجی دستہ پہلے ہی تعینات ہیںاسے لیگل کور نہیں تھا حکو مت نے فریم ورک کے ذریعہ یہ لیگل کور فراہم کر دیا ہے۔ کراچی میں کچھ دنوں میں پہلے ایک جماعت نے ووٹوں کی گنتی کیلئے فوج بُلائی، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فوج بھیجی گئی اس وقت تو کوئی تنقید نہیں ہوئی کوئی شہر فوج کے حوالہ نہیں کیا جا رہا۔ نوٹیفیکیشن میں واضح لکھا ہے کہ فوج سول آرمڈ فورسز کی معاونت کیلئے ہو گی اور شہر کا انتظام فوج کو نہیں دیا جا رہا۔ سول انتظامیہ اپنا کام کریگی حالت جنگ میں ایمرجنسی اختیار بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن حکومت نے آئین اور قانون کے تقاضے پورے کئے صوبے بھی اپنی ذمہ داری پر فوجی بلا سکیں گے 245 کے تحت فوج بلانے کا کسی بھی جلسہ یا سیاسی مقاصد کیلئے نہیں ہے۔ 245 کے تحت عرصہ کا تعین حالات پر منحصر ہوتا ہے حالات بہتر ہونگے اس میں کمی یا بیشی کی جا سکتی ہے یہ سب کچھ امن کیلئے ہے پھر آئین کے آرٹیکل 245 پر تنقید کیوں؟