’’جہاں چیک ہو‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’جہاں  چیک ہو‘‘

دھرنا کیا ختم ہوا۔عوام کی دلجوئی کے وقتی اقدامات بھی واپس ہونا شروع ہو گئے۔حکومت نے یکے بعد دیگرے عوام کو اُسکی اوقات میں لانے کے عملی ثبوت دینا شروع کر دئیے ۔پٹرول۔ڈیزل کی قیمت میں یکمشت ’’4 روپے‘‘ اضافہ کر دیا۔پٹرول سستا ہو یا مہنگا ہر دو صورت میںکئی دن عوام کو ذلت سہنا پڑتی ہے۔عوام تیار رہیں۔ گیس نرخوں میں بھی ’’64 فیصد اضافے‘‘ کی خوشخبری ’’عوامی جیب ‘‘ پھاڑنے کیلئے سکرین پر نمودار ہونے والی ہے۔اسکے باوجود مہنگی ہوتی ہوئی زندگی میں آسانیاں پھر بھی دکھائی نہیں دے رہیں۔ سسٹم کی مرمت کے نام پر ’’12سے 18‘‘ گھنٹے بجلی کی مسلسل بندش صارفین کے لیے عذاب بن جاتی ہے اور کبھی بارش فیڈرز کو اُڑا دیتی ہے اور کبھی قلتِ آب نظام زندگی مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے۔ پاکستان میں جینے کیلئے ایک سانس بھی ہزاروں روپے میں پڑ رہا ہے۔ اِس کے باوجود کوئی اشک شوئی نہیں۔ عوام کیلئے سہولت نہیں ۔۔ سہولت ہے تو صرف اشرافیہ کیلئے ۔اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس پر ’’ایک کروڑ‘‘ سے زیادہ اخراجات صرف ہوتے ہیں۔ اکثریت صرف حاضری لگانے آتی ہے۔2۔’’اِس وقت اسلام آباد‘‘ کے ایک ٹاپ ریسٹورنٹ میں کھلی فضا میں بیٹھے ہیں۔ اُوپر ستاروں بھرا آسمان اور سامنے روشنیوں میں نہایا ہوا اسلام آباد ہے۔ریسٹورنٹ ’’گلو کار ‘‘لائیو قومی ترانہ گا رہا ہے۔ موسم قدرے خنک ہے۔ مگر ملتِ ۔قوم کی محبت رگوں میں حرارت سی بھر رہی ہے۔ وطن سے محبت۔ برائیوں کے تدراک اور جرائم کے انسداد کے نقطہ پر پُوری قوم ایک صفحے پر ہے۔ چاہے ریڑھی بان ہو یا امیر ترین ۔ صنعت کار۔90 فیصد لوگوں کا جینا مرنا اِس دھرتی سے وابستہ ہے۔ لوگ اب سوچتے ہیں اور بالکل صحیح خطوط پر سوچ رہے ہیں کہ خدانخواستہ’’پاکستان‘‘ کو کچھ ہوا تو ہم کہاں جائینگے۔ہمارا وجود ختم ہو کر رہ جائیگا۔پے در پے سفاکانہ کارروائیوں خصوصاً ’’پشاور سانحہ‘‘ نے پوری قوم میں ’’پاکستانیت‘‘ کی محبت بھر دی ہے۔ 3۔’’پیر سوہا وہ‘‘ سے واپسی پر گاڑی کی سپیڈ زیادہ محسوس ہوئی۔ استفسار پر جواب مِلا کہ نشیب کی طرف جاتے ہوئے گاڑی کی رفتار خود بخود بڑھتی جاتی ہے۔ رات کا وقت تھا اس لیے ڈر بھی زیادہ لگا۔ساری زندگی خطرناک علاقوں میں سفر کرتے۔اُونچے ۔نیچے پہاڑوں۔ دشوار گزار علاقوں سے گزرتے گزر گئی۔پہلے کبھی ڈر نہیں لگا مگر زندگی کے اِس موڑ پر ہلکی سی چڑھائی اور معمولی سی رفتار بھی ڈرا دیتی ہے۔شاید جب خطرہ زیادہ ہو۔۔ سنبھلنے کے مواقع کم ہوں تو انسان زیادہ حساس ۔ہوشیار اور محتاط ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی گاڑی بھی نشیب میں جاتی محسوس ہو رہی ہے۔ نا گہانی واقعات دلسوز قصے قوم کو متوحش کیے جارہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ’’ریاست‘‘ فرنٹ فٹ پرآکر کھیلے۔۔عوام کو بھی زیادہ ہو شیاری سے کام لینا ہو گا کیونکہ نشیب کی طرف جاتے ہوئے رفتار خود بخود تیز ہوتی جاتی ہے۔ اگر ڈرائیور ماہر نہ ہو۔ سکرین پر توجہ مرکوز نہ رکھے تو گہری کھائی تو اپنی ہی جگہ پر موجود رہتی ہے۔ مگر گاڑی بمعہ مسافر اپنی جگہ پر نہیں رہتے۔ 4۔ موٹر وے کی مرمت کے سلسلہ میں کئی جگہوں پر دو لین کی بجائے ایک لین پر چلنے کی ہدایات اور مرمت ہو رہی جگہوں پر رُکاوٹیں کھڑی تھیں مگر ٹریفک چار لین کے معمول کیمطابق چل رہی تھی۔لا علمی کی بنا پر ایک ٹرک کو ’’اوور ٹیک‘‘ کرنے پر روک لیا گیا۔ معذرت کے جواب میں ’’اہلکار‘‘ نے افسوس کے انداز میں ڈانٹنے کے لہجہ میں بتایا کہ ’’سر‘‘ پابندی صرف’’5 میل‘‘ تک ہے۔ آپ اتنا چھوٹا سا فاصلہ بھی سکون سے برداشت سے طے نہیں کر سکتے۔ ہم شرمندگی میں ڈوب گئے۔ جواب ہی ایسا اور درست بھی تھا۔ ہم میں اگر برداشت ہوتی تو آج دنیا میں یوں بغیر قیمت کے بِک نہ رہے ہوتے۔ اُس دن درجنوں گاڑیاں خلاف ورزی کرتے ہوئے گزرتی رہیں مگر جہاں’’موٹر وے پولیس‘‘ دکھائی دی۔ فوراً سپیڈ کم کر دی جاتی۔ تمام مناظر دیکھ کر پختہ یقین ہو گیا کہ ’’جہاں چیک ہو‘‘۔ روک ٹوک ہو وہاں لوگ دائرے میں رہتے ہیں۔ طے شدہ فیصلوں۔ رائج قوانین سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے۔ بعینہ یہی صورتحال ’’کرا چی‘‘ کی ہے۔ قانون ۔سزا سب موجود تھا مگر عملدرآمد نہ تھا۔روک ٹوک سے گریز پائی نے حالات زیادہ مخدوش بنا دیے کہ چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ڈر تو لگنا ہی تھا۔ خوفزدگی کے حصار میں سب آتے گئے اور ریاستی فیصلے کمزوری کی بھینٹ چڑھ گئے۔ صوبائیت پرستی کے فروغ میں ’’اسلام آباد‘‘ کے سرد منفی رویوں اور غفلت شعاری کا بہت بڑا دخل ہے مگر اب کی مرتبہ سرنگ کے آخری سِرے سے نمودار ہونی والی روشنی پوری سرنگ کو روشن ضرور کریگی۔ ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ کا مقصد چند گز کی فتح نہیں بلکہ ’’دوڑ ‘‘ جیتنا ہے۔ برسوں سے تاریکی میں جینے کی عادت نے اکثریت کو منفی سوچوں کا حامل بنا دیا ہے اِس لیے ہر اچھی بات۔ قومی فیصلے میں بھی شک ڈھونڈنے کی اتنی عادت پڑ گئی ہے کہ صحیح کام کرنا شخص یا ادارہ بھی قابلِ اعتماد محسوس نہیں ہوتا۔ چند دن کے وقفہ کے بعد ماحول پھر سے بہت ساری شکایتوں۔ الزام بازی سے گرم ہوتا جا رہا ہے۔پچھلے ہفتے ملک کے مختلف حصے پھر سے دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ تاخیر ’’ملک دشمنوں اور جرائم مافیا‘‘ کو ازسرنو صف بندی اور دیگر گروپوں کیساتھ اتحاد کا موقع فراہم کریگی اس لیے بِلاتاخیر مجرمان کو کیفر کردار پر پہنچا دینا چاہیے۔ آپریشن کی محدود وقت میں تکمیل کو اولیت دی جائے۔ کسی ایک بندے کی چند گھنٹوں کی گرفتاری۔ ازاں بعد مہینوں پر محیط ضمانت جیسا ڈرامائی واقعہ عوام میں بیزاری پیدا کر رہا ہے۔ بہتر ہوگا جہاں ثبوت شواہد موجود ہیں وہاں بِلا تاخیر پھندہ ڈال کر لٹکا دیں۔ بغیر ثبوت کے کسی پر ہاتھ نہ ڈالیں شک اطلاع کی بنیاد پر کارروائی ’’واپسی گولی ‘‘ بن جاتی ہے۔ لمحہ موجود میں ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ پر مکمل اور بغیر کسی امتیاز کے عملدرآمد ہمارے بہت سارے مسائل کو سلجھا سکتا ہے۔