یمن کی صورتحال

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
یمن کی صورتحال

برادر اسلامی ملک یمن کے حالات ہر مسلمان کیلئے انتہائی پریشانی کا باعث ہیں۔ یمن جزیرہ نما عرب اور اسلامی دُنیا کا ایک انتہائی اہم ملک ہے جسکی تاریخی اور تدویراتی لحاظ سے اپنی اہمیت ہے۔ یہاں کی ثقافت نہ صرف انتہائی قدیم ہے بلکہ اسلامی تاریخ کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل بھی۔ یمن کی سعودی عرب کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے جسکی بنا پر دونوں ممالک کے قدیم سماجی اور ثقافتی تعلقات بھی ہیں۔ یمن رقبے کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے مگر آبادی اتنی زیادہ نہیں ہے۔ ذرائع آمدو رفت اور ترقی کے لحاظ سے یہ ایک نہایت پسماندہ ملک ہے جسکی بنا پر غربت پسماندگی اور جہالت بھی عروج پر ہے۔ معاشرہ قبائل، نسل، فرقے اور علاقائی بُنیادوں پر منقسم ہے جسکی وجہ سے مرکز کی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بیشتر اسلامی ممالک کیطرح یہاں پر بھی ہمیشہ سے شخصی آمریت ہی بر سرِ اقتدار رہی ہے نتیجتاً جمہوری ادارے نہ صحیح معنوں میں بن سکے اور نہ ترقی پا سکے۔ امورِ مملکت اور روز مرہ کے معاملات میں عوام الناس کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود عوام اسکے ثمرات سے محروم ہیں۔ دشوار گزار علاقے اور ذرائع آمدو رفت کے معدوم ہونے کیوجہ سے جرائم پیشہ گروہوں کو چھپنے اور رہنے کیلئے آسانی میسر ہوتی ہے جسکی وجہ سے القاعدہ جیسے گروہ یہاں پر پنپتے رہے ہیں۔ 90 کی دہائی میں شمالی اور جنوبی یمن کیا الحاق کے بعد وحدت اور یکجہتی کی بجائے انتشار کو بڑھنے کا موقع ملا اورہوسِ اقتدار اور مفادات کی جنگ نے آج یمن کو خانہ جنگی کیطرف دھکیل دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک کی تباہی کے بعد امریکہ اور مغرب کا اگلا ہدف یمن ہے۔ اسلامی دُنیا نہ صرف منقسم ہے بلکہ اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ عراق، شام، لیبیا، مصر، الجزائر، سوڈان اور تیونس سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ حوثی باغیوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور بیرونی مداخلت کے بعد ہمسایہ ملک سعودی عرب نے بھی اس ساری صورتحال میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھا اور بظاہر یمنی حکومت کی درخواست پر مداخلت کرتے ہوئے یمن میں حوثی باغیوں اور دوسرے اتحادی گروپس کیخلاف فوجی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کیمطابق بے پناہ جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے جسکے اثرات اب خطے کے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک دفعہ پھر سے ایک اور اسلامی ملک تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک اور انسانی المیہ ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے مگر ہر کوئی اپنے حال میں مگن ہے۔ پاکستان میں آج کل سعودی عرب فوج بھجوانے کا موضوع سر فہرست ہے۔ کچھ ناعاقبت اندیش سیاستدان اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے حضرات انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اسے شیعہ سنی کی لڑائی قرار دے رہے ہیں حالانکہ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں۔ حوثی باغیوں کی اکثریت کا تعلق اہلِ تشیع کے زیدی گروپ سے ہے مگر ایران میں بسنے والے اہلِ تشیع مختلف سوچ اور نظریے کے حامل ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کا انتہائی قریبی دوست اور قابلِ بھروسہ برادر اسلامی ملک ہے جسکے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ سے خاص نوعیت کے رہے ہیں۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل حالات میں ہماری ہر طرح سے مدد کی ہے۔ ہمارے ہاں بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی حالات کے باوجود یہ دوستی کا رشتہ مضبوط سے مضبوط ہوتا رہا ہے۔ سعودی سر زمین ہر پاکستانی کیلئے انتہائی مقدس اور مقدم ہے جس کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا سعودی عرب کی حمایت یا امداد کرنا ایک مستحسن قدم ہے جسے وقتی مصلحتوں اور مشکلات کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔ ایران کی طرف سے ابھی تک باضابطہ طور پر حوثی باغیوں کی حمایت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ہمارا میڈیا تمام حدود کو عبور کرتے ہوئے اب بین الاقوامی تعلقات پر بھی براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ ملک کے اندر فرقہ وارانہ تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ہمارے لیے ایک زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ اس موقع پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا جائے چاہے کوئی ناراض ہو یا راضی۔ سیاسی و عسکری قیادت حالات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے مشاورت سے جو بھی فیصلہ کرے قوم کو اسکی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔ اس ضمن میں ایران سمیت خطے کے تمام ممالک سے مشاورت بھی بہت ضروری ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی بد امنی پورے علاقائی امن کیلئے شدید خطرناک ہے۔ سعودی عرب کو بالخصوص اور مسلم امہ کو بالعموم یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ یمن کی سلامتی اور وحدت کو ہر ممکن یقینی بنایا جائے نہ کہ صرف کسی ایک گروہ کی حمایت کر کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا جائے۔ اس طرح کے طرزِ عمل سے وقتی فوائد اور کامیابی تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر طویل المدتی فوائد حاصل نہیں ہو سکتے۔ وزیرِاعظم کی طرف سے ثالثی اور امن کی خاطر مسلم اُمہ کے سربراہان سے رابطے کا فیصلہ بھی ایک مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی عرب کی سر زمین کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے جسے انفرادی، شخصی یا فرقہ کی بنیاد پر مبنی سوچ سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے۔ ایران اور سعودی عرب تو بظاہر تعلقات ٹھیک کرنے کیلئے کوشاں ہیں مگر ہم اپنی اپنی سوچ اور مفاد کی خاطر گروہ بندی کر کے ایسا ہی نقصان کرنے کے درپے ہیں جس کا خمیازہ ماضی میں بھگتنا پڑا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی اندیشہ ہے۔