یمن میں خانہ جنگی کا ایک جائزہ

یمن میں خانہ جنگی کا ایک جائزہ

گزشتہ چند ہفتوں سے سعودی عرب اور اس کے جنوبی ہمسایہ ملک یمن کی سرحدوں پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان متواتر پھیلتی ہوئی جھڑپوں نے خطہ کو ایک سنگین سکیورٹی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ چند برس پہلے جب شمالی افریقہ کے مسلمان ممالک کو "ARAB SPRING" کے نام سے موسوم بغاوتوں کی یلغار نے مراکش‘ تیونس‘ لیبیا اور مصر کے تخت و تاج مسمار کر دیے تھے تو جمہوریت کی باغ بہاراں نے مشرق وسطیٰ کے کئی دیگر عرب ممالک کو بھی اس باد نسیم کی لپیٹ میں لے لیا تھا جن میں یمن بھی شامل تھا چنانچہ کئی برسوں سے یمن کے دیرینہ حکمران علی عبد اللہ صالح جس کو مقامی فوجی دستوں کے علاوہ ایران کی حمایت بھی حاصل تھی۔ عوامی احتجاج اور "ARAB SPRING" کی لہروں کی طوفان کے باعث یمن سے بیرون ملک راہ فراراختیارکرنا پڑی۔ علی عبد اللہ صالح کے فرار سے پیدا ہونیوالی خلاء کو سعودی حکومت کی معاونت سے نئے حکمران پریذیڈنٹ عبدالرب منصور ہادی نے یمن کے دار الحکومت صنعا پر قبضہ کر کے پورا کر دیا جو ایران اور علی عبد اللہ صالح کے وفادار فوجی دستوں کو سعودی عرب سے عقائد کے اختلافات کے باعث ناپسندی سے بڑھتا ہوا ناراضگی اور پھر احتجاج کے بعد منصور ہادی کیخلاف بغاوت کی صورت اختیار کر گیا۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی و فرقہ واریت کی بناء پر عقائد کے اختلافات کوئی ڈھکی چھپی راز کی بات نہیں ہے۔ چنانچہ یمن کے بعض جنوبی قبیلوں نے سعودی نواز منصور ہادی کی حکومت کیخلاف باغی فوجی دستوں نے یمن کے دار الحکومت صنعا پر گزشتہ سال قبضہ کر لیا جسکے نتیجہ میں صدر منصور ہادی کو یمن سے فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینی پڑی ہے اور خانہ جنگی نے یمن میں اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے ایک خوفناک غیر مستحکم خلاء کی ایسی نازک اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں طاقت کا توازن باغیوں کی یمن کی سٹرٹیجک بندرگاہ عدن کی طرف پیش قدمی کے باعث سعودی حکومت اپنے لئے خطرہ محسوس کرتی ہے اور گزشتہ چند دنوں سے باغیوں کی طاقت کو کچلنے اور دارالحکومت صنعا پر صدر عبدالرب منصور ہادی کو اقتدار پر بحال کرنے کیلئے حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد اب زمینی فوجی آپشن اختیار کرنے کیلئے امریکہ اور دیگر دوست مغربی ممالک کے علاوہ پاکستان کی بھی فوجی معاونت بلاتاخیر حاصل کرنے کیلئے سفارتی سطح کے علاوہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان نے بذات خود وزیراعظم نواز شریف سے فوجی و دیگر فضائیہ کی ASSISTANCE کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس پر وزیراعظم پاکستان جناب محمد نواز شریف نے شاہ سلمان خادم حرمین شریفین کو حکومت پاکستان کی طرف سے ہر طرح کے سیاسی و سفارتی تعاون کے علاوہ فوجی اور دفاعی سطح پر اپنے تمام وسائل سعودی عرب کی خدمت میں مہیا کرنے کا یقین دلایا ہے۔ دریں اثناء ایک طرف سعودی حکومت یمن کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے پاکستان کے علاوہ امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی اور فرانس کے علاوہ ترکی اور ایران سے بھی یمن میں صورتحال کے بگڑنے اور بے قابو ہو جانے کو روکنے کیلئے اتحادی ممالک سے ہنگامی سطح پر مشورے کر رہی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن عبد العزیز کا کہنا ہے کہ باغی دستوں کی یمن میں سرکوبی کیلئے سعودی عرب فوجی اقدام سمیت تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے ادھر دوسری طرف مصر نے شرم الشیخ کے مقام پر عرب ممالک کی ایک چوٹی کی عرب لیگ نمائندوں کے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ عرب لیگ کے تمام ممالک ملکر ایک متحدہ ایسیـ’’ عرب فورس‘‘ کو وجود میں لانے کا فوری فیصلہ کیا ہے جو عرب ممالک کے درمیان تمام باہمی اختلافات اور CONFLICTS کا حل تلاش کرنے کیلئے ضروری کارروائی اور اقدامات بروئے کار لائے گی۔لیکن کئی وجوہات کی بناء پر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ شرم الشیخ کی اس کانفرنس سے پہلے گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے ریاض میں عرب ملٹری کولیکشن کے نام پر سعودی عرب قطر بحرین اور گلف کی ریاستوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک اجلاس میں یمن کے شیعہ باغی دستوں پر فضائی بمباری کا فیصلہ کرنے کے بعد یمنی باغیوں کے مختلف دستوں پر فضائی کارروائیاں شروع کر دی تھی جس پر ایران کے علاوہ بعض دیگر ممالک جن میں عراق اور شام کے علاوہ کچھ اور ممالک بھی شامل ہیں کہ اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر ایسی فضائی بمباری جو یمن میں جاری ہے اس کا بین الاقوامی قوانین کے تحت کیا جواز ہے۔ عرب لیگ کی طرف سے شرم الشیخ میں ایک عرب فورس قائم کرنے کا فیصلہ گو کہ عرب اتحاد کی طرف ایک اہم قدم ہے لیکن اسکے مستقبل کے بارے میں ماضی کے تجربہ کی بناء پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ 1950ء میں عرب لیگ کے ممبر ممالک نے ایک جوائنٹ عرب ڈیفنس فورس اور اکنامک کوآپریٹوز کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کی روک تھام کی جا سکے لیکن عملی سطح پر ان فیصلوں کا آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ آج بھی یمن میں خانہ جنگی کے موجودہ حالات میں یمن کی سلگتی ہوئی آگ میں سعودی عرب اور ایران کے حالات میں کشیدگی کے دھواں کو اگر روکا نہ گیا تو اس راکھ کی چنگاریاں شعلوں میں تبدیل ہو کر پورے خطہ کو فرقہ واریت کی آگ میں جھلس دیگی۔ کیا ایسے حالات میں پاکستان یمن کی خانہ جنگی میں شرکت کر کے دونوں ہمسایہ برادر ممالک یعنی سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم رکھ سکے گا؟ کیا پاکستان ان دونوں ممالک جن کیساتھ صدیوں پرانے تاریخی تہذیبی روحانی اور بھائیوں سے بڑھ کر دلی قربتوں کے رشتے ہیں ان میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ بھی پاکستان اپنے باہمی تعلقات اور رشتوں میں بال برابر لکیر کے خدشات کا متحمل ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب غیر ضروری جلد بازی یا جذباتی EMOTIONAL انداز میں حل کرنے کی بجائے صبر و تحمل کیساتھ دانش فراست اور تدبر کو بروئے کار لاتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف اسلامی سربراہی کانفرنس کا ہنگامی طور پر SUMMIT اجلاس اسلام آباد میں طلب کر کے پرامن حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں تو مجھے یقین ہے کہ رب العزت عالم اسلام کو مزید انتشار اور تباہی سے محفوظ رکھنے کی کوئی نہ کوئی صورت یقیناً پیدا کر دینگے۔ انشاء اللہ۔