چمکتا ہو ا ستارہ !!

کالم نگار  |  روبینہ فیصل ....دستک
چمکتا ہو ا ستارہ !!

محمود خان نے max khanکے جنازے میں آئے ہوئے لوگوں کو بتایا کہ" تین مہینے پہلے میرے بیٹے نے مجھے کہا تھا میرے جنازے پر ہر مذہب ، ہر فرقے اور مختلف سیاسی نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگ آئینگے ،ان سب کا بہت والہانہ استقبال کرنا ۔کوئی اپنے آپکو بیگانہ محسوس نہ کرے "سیالکوٹ کے چھوٹے سے گائوں سے تعلق رکھنے والے محمود خان نے اپنے بیٹے میکس خان کو کتنی بڑی سوچ سے نوازا ہوا تھا۔
 اور میکس خان کے جنازے پر ISNAمسجد میں دیکھنے والوں نے یہی دیکھا ۔ ہر مذہب ،ہر قوم اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے لوگ ایک مسجد کی چھت کے نیچے ایک مسلمان ، پاکستانی کینڈین کونسلر اور لبرل جماعت کے کامیاب الیکشن nomineeکی اچانک موت پر دلوں میں ایک سا دکھ اور آنکھوں میں ایک سے آنسو لئے کھڑے تھے ۔ ایک طرف کینڈا کی بڑی سیاسی" لبرل" پارٹی کا لیڈر justin trudeau ،موجود تھا تو دوسری طرف ٹورنٹو کے سابقہ مئیر راب فارڈ جیسی متنازعہ شخصیت بھی وہاںموجو د تھی ۔ اووک ول کے مئیر Rob burtonنے اپنی تعزیتی تقریر میں میکس خان کا بچپن کا ایک واقعہ دہراتے ہو ئے بتا یا کہ جب خان آٹھ سال کا تھا تو انکے گھر کے باہر کسی نے کوئی" متعصب لفظ" لکھ دیا ، ننھے بچے نے جب وہ لفظ پڑھا تو اس کا دل بہت دکھی ہوا ،اس نے اپنے والدین کو بتایا اور انکی راہنمائی چاہی ۔ ماں نے پاس بٹھایا اور کہا " اس سے لڑنے کا طریقہ نہ جوابی نفرت ہے اور نہ تشد د کی راہ ، اس کا جواب دینا ہے تو اچھی مثال بن کر دو "۔ میکس نے یہ بات پلے باندھ لی اور ساری عمر اس کی عملی تصویر بن کر جیا ۔ اووک ول کا مئیر کہتا ہے کہ "ہم ان والدین کے شکر گذار ہیں جن کی ایسی تربیت نے کینڈا کی ساکھ میں اضافہ کیا "۔Max Khanکی یہ تربیت اور یہ کردار کینڈا یا دنیا میں کہیں بھی بسنے والے پاکستانیوں اور مسلمانوں کیلئے مشعل ِ راہ ہے ۔ خان interfaith  (مذاہب کے تقابلی جائزے ) مباحثوں میں شرکت کرتا اور لوگوں کو بتاتا کہ اسلام کی تعلیمات میں تشدد نہیں بلکہ امن وآشتی کا پیغام ہے ایسا کر کے اس نے نہ صرف ایک مسلمان بلکہ انسان ہونے کا فرض نبھایا ۔ اپنی شناخت بھی ایک مسلمان کی حیثیت سے برقرار رکھی اور کینڈین سیاست میں مسلمانوں کی آواز بھی بنا ۔ 2006 اکتوبر ،میں پہلی دفعہ max khan  نے oakvilleکے وارڈ 6کے کونسلر کے الیکشن سے فتح حاصل کی تھی ۔ یہ راستہ آسان نہیں تھا ۔ مخالفوں کی طرف سے کافی الزامات کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہا گیا کہ وہ وارڈ 6کا رہائشی ہی نہیں ہے ۔ چونکہ خان بنیادی طور پر ایک وکیل تھا۔اپنا کیس بہت سکون سے اور صبر سے صحیح ثابت کیا ۔ اور شاید ماں کی کہی گئی وہی بات کو پھر سامنے رکھتے ہوئے سیاست میں بھی اپنی محنت ، ایمانداری اور لگن سے ایسی اچھی مثال قائم کی کہ اسی حلقے سے تین دفعہ مسلسل کامیابی حاصل کی اور اکتوبر کے حالیہ کونسلر کے الیکشن میں تو 85.5% ووٹ حاصل کئے ۔ ابھی لبرل پارٹی کی طرف سے فیڈرل الیکشن ٹکٹ جیتا اور اب اووک وول سے آٹوا کا سفر جاری کرنے ہی والے تھے کہ موت کے بے رحم فرشتے نے آ لیا ۔ ایک اچھے مسلمان اور ایک اچھے انسان کیساتھ ساتھ سیاست میں بھی نیک نامی کمائی ۔ اسی لئے اسکے ساتھی سیاست دان نے تعزیتی تقریر میں کہا "ان میں وہ سب خوبیاں تھیں جو ہم ایک اچھے سیاست دان میں دیکھنا چاہتے ہیں ، اس نے اپنے کام میں بہت عاجزی سے کام لیا۔ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر یہ سوچا کہ لوگوں کیلئے کیا اچھا کرنا ہے کبھی یہ نہیں کہتا تھا کہ میں کتنا اچھا ہوں ہمیشہ یہ بتاتا تھاکہ تم کتنے اچھے ہو "۔باپ نے اپنی تقریر میں کہا "گو کہ وہ کم عرصہ زندہ رہا مگر سو سال جتنا کام کر گیا"  یہ نہ تھکنے والا چیتا جب 46سال کی عمر میں اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ کے چلا گیا ہے تو لوگ حیران ہیں کہ کیا کسی کے جانے سے اتنا بڑا خلا بھی محسوس ہو سکتا ہے ؟وہ ایک کامیاب وکیل ، کامیاب سیاست دان ہونے کیساتھ ساتھ ایک سوشل ورکر بھی تھا ۔ damoff نے بتایا کہ ٹیری فوکس رن کو ہمیشہ سپورٹ کرتا ۔ چونکہ وہ خود کینسر کے مرض کو تین دفعہ شکست دے چکا تھا اس لئے کینسر کیلئے ہونیوالے کام کی ہمیشہ مدد کی ۔ ایک وکیل کی حیثیت سے فلاحی تنظیموں کیلئے وکالت بھی فری کرتا ۔ damoff بتاتی ہے کہ جب خان کیمو تھراپی کیلئے ہسپتال بیٹھا تھا ، میں اس سے ملنے گئی تو وہ اس وقت بھی اپنے لئے نہیں بلکہ لوگوں کیلئے سوچ رہا تھا ۔ اس وقت بھی اسکی پریشانی اپنا کینسر نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل تھے".اگر وہ سیاست ، وکالت اور زندگی کے ہر میدان میں ایک فائٹر ایک ناقابل ِ شکست چیمپئن تھا تو موت کے فرشتے کو بھی اس چیتے نے اپنے پیچھے بہت دوڑایا اور اسے تین دفعہ شکست دی اور سب سے بڑی خوبصورتی یہ کہ اس مرض سے نہ گھبرایا نہ ڈرا۔ موت اسے ڈرا نہ سکی۔ موت کا خوف اسکے چہرے سے مسکراہٹ چھین کے نہ لے جا سکا۔ Sean 'o"Meareنے کہا" اس کا دل اسکی مسکراہٹ سے بھی زیادہ بڑا تھا" ۔ موت کے خوف نے نہ دل کو چھوٹا اور خوفزدہ کیا اور نہ مسکراہٹ میں کوئی کمی آئی ۔ آج کسی کی بھی آنکھوں کے سامنے میکس خان کا چہرہ آئیگا تو ہنستا ہوا موت کے خوف سے کمھلایا ہوا ، ڈرا ہوا ۔ سیالکوٹ کا سپوت محمود خان جن کا بیٹا میکس خان ٹورنٹو میں پیدا ہوا، بلاشبہ پاکستانی مسلمان کمیونٹی کا فخر تھا اور یہ قرض ہم یوں ادا کر سکتے ہیں کہ اسکی مثال کو صرف' ایک" ہی نہ رہنے دیں بلکہ اسے ہزاروں سے ضرب دیدیں کیونکہ ہماری کمیونٹی کو میکس خان جیسے بہت سے لوگوں کی ضرورت ہے ۔ستارہ چلا تو گیا مگر اس کی روشنی کو ہاتھوں میں تھام لیں اور ڈوبنے نہ دیں ۔