حکومت پنجاب اور معذورافراد

کالم نگار  |  امتیاز احمد تارڑ
 حکومت پنجاب اور معذورافراد

تندرستی ہزار نعمت ہے۔ ہر ذی شعور اس نعمت کو انجوائے کرکے بارگاہ ایزدی میں شکر ادا کرتا ہے۔ اپنے خوابوں کو پورا کرکے دلی تسکین حاصل کرتا ہے اور پھر اسے اپنی تمنائوں کی مالامیں پرو کراپنے من میں سجاتا ہے‘ لیکن اگر انسان کو بیماریوں اور معذوری نے گھیر رکھا ہو تو انسان اپنے شکستہ خوابوں کی کرچیاں چنتے چنتے ہی بڑھاپے سے پہلے بوڑھا ہو جاتا ہے۔ دل میں تمنا کی شادابی آتی ہے نہ ہی انسان لہلہاتے چمنستانوں کے معطر جھونکوں کے لمس سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ مایوسیاں چہرے پر ڈیرے ڈال لیتی ہیں اور آنکھوں میں جھریاں سی پڑ جاتی ہیں۔ ان حالات میں معذور کو کسی مسیحا کی ضرورت ہوتی ہے جو آکر اسکے دکھوں کا مداوا کرے۔ اسکی تکلیف کا ازالہ کرے۔ اسکے کرچی ہوئے خوابوں کو جوڑ کر اسے سہارا دے۔ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے معذوراں کیمطابق وہ افراد جنہیں طویل المیعاد جسمانی‘ ذہنی یا حسیاتی کمزوری کا سامنا ہو جس کی وجہ سے انہیں معاشرے میںاپنا کردار ادا کرنے میں رکاوٹ پیش آتی ہو‘ انہیں معذور انسان شمار کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں معذور افراد پائے جاتے ہیں‘ لیکن انکی دیکھ بھال حکومت اس طریقے سے کرتی ہے کہ انہیں اکیلے پن کا احساس ہوتا ہے نہ ہی وہ بے کسی‘ مجبوری کی حالت میں سڑکوں‘ چوکوںاورچور اہوں پر جھولی پھیلا کر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ بھرنے کیلئے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں۔ یورپ میں تو انکی تعلیم‘ رہن سہن‘ کھانے پینے کیلئے حکومت کی طرف سے ملازم مقرر ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اسلامی ریاست پاکستان میں اس طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔ یہاں اگر کوئی معذور تعلیم حاصل کر لیتا ہے تو پھر اسے ملازمت کے حصول کیلئے پولیس کی لاٹھیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنی مجبوری اور معذوری کا تمسخر اڑانا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں نابینا افراد نے ملازمتوں کے حصول کیلئے احتجاج کیا۔ سینٹ الیکشن سے قبل پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر قبضہ جمایا۔ گرچہ حکومت مخالف جماعتوں نے انہیں اس کیلئے تیار کیا تھا اور بڑے منظم انداز میں نابینائوں کو پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچایا گیا تھا۔ حکومت پنجاب نے باقاعدہ انکے پاس وفد بھیجے‘ لیکن وہ اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے۔ رات گئے مذاکرات کے متعدد دور ہوئے‘ لیکن حکومت پنجاب کو منہ کی کھانی پڑی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سید ہارون احمد سلطان بخاری وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال کو ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے کمال مہارت سے بینڈ ایسوسی ایشن کے صدر عامر سے مذاکرات کئے اور انہیں اسمبلی کی سیڑھیوں سے اٹھانے میں کامیاب ہوئے۔ ہمارے ملک میں ایک دستور ہے کہ اپنا مطلب نکلوا کر آنکھیں پھیر لو‘ لیکن سیدزادے نے اپنے وعدے کو ایفا کیا اور ابھی تک نابینائوں کے معاملات حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز 8 کلب میں نابینائوں کے اجلاس میں راقم کو بھی مدعو کیا۔ اس اجلاس میں پنجاب کے تمام محکموں کے نمائندے شریک تھے جنہوں نے بتایا کہ ان کے محکمے میں معذوروں کے 2 فیصد کوٹے پرا ب تک کتنا عمل ہوا ہے۔ بعداز تحقیق یہ بات سامنے آئی کہ ہمارے ملک میں مصنوعی معذوروں نے اصل معذوروں کا حق مار رکھا ہے۔ رشوت دیکر معذوری کا سرٹیفکیٹ جاری کرا کر لوگ سیٹوں پر قابض ہیں حالانکہ ڈس ایبل کا سر ٹیفکیٹ محکمہ صحت‘ سوشل ویلفیئر مکمل تشخیص کرکے جاری کرنے کا مجاز ہے‘ لیکن اس میں بھی دو نمبری سامنے آرہی ہے۔ اب حکومت نے ڈی سی او کو بھی اس میں شامل کر دیا ہے۔ امید ہے کہ کچھ اچھا رزلٹ نکلے گا۔ اس سلسلہ میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر ہارون رفیق کو اہم کردار ادا کرنا ہوگاکہ معذوروں کے ساتھ ایسا ظلم کیوں ہورہا ہے۔ حکومت پنجاب نے معذوروں کا کوٹہ تین فیصد کر لیا ہے۔ کمیٹی برائے معذوران کے چیئرمین سید ہارون سلطان بخاری نے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اور سوشل ویلفیئر کو تمام اضلاع کے معذوروں کا ڈیٹا اکٹھاکرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اسکے بعدپنجاب کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں معذوروں کے کوٹے پر عملدرآمد یقینی بنانے پر کام شروع ہوگا۔ اجلاس میں ہائیر ایجوکیشن پنجاب کے نمائندے بھی آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے پنجاب بھر کی 18 یونیورسٹیوں کے نمائندوں کو بھی بلا رکھا تھا جنہوں نے معذوروں کے کوٹے بارے بتایا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس وقت سرگودھا یونیورسٹی‘ یونیورسٹی آف ایجوکیشن اور یو ای ٹی لاہور کے علاوہ کسی بھی یونیورسٹی میں 2 فیصد کوٹے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر اکرم چودھری پھر ایک دفعہ بازی لے گئے ہیں۔ ایچ ای سی کو سختی سے دیگر یونیورسٹیزسے بھی عمل کروانا چاہئے۔ نابینائوں کا دعویٰ تھا کہ پنجاب یونیورسٹی ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے اور ہمارے کوٹے پر عمل نہیں ہو رہا۔ مجاہد کامران وی سی پنجاب یونیورسٹی کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ اجلاس میں ووکیشنل تعلیم پر بڑا زور دیا گیا۔ کمیٹی میں شامل آصف سعید منیس وزیر سپیشل ایجوکیشن نے بھی اس پر زور دیا۔ اس وقت سوشل ویلفیئر کے ادارے صنعت زار میں 39 معذورافراد کو کام سکھایا جا رہا ہے۔ یہ اچھی روایت ہے سید ہارون سلطان بخاری اس کو پنجاب بھر میں پھیلائیں پرائیویٹ ادارے اخوت نے 4ہزار افراد کو قرضہ دیاجو کاروبار کرکے نہ صرف اپنے پیٹ بھر رہے ہیں بلکہ اپنے خاندان والوں کا بھی سہارا بن چکے ہیں۔ اجلاس میں سب سے آخر میں شریک ہونیوالی فوڈ اتھارٹی کی میڈم عرفانہ پرائیویٹ اداروں‘ ہوٹلوں‘ ریسٹورنٹس میں ڈس ایبل کے کوٹے پر مکمل عملدرآمد کرانے پر بڑی سنجیدہ تھیں۔ انہوں نے بڑے ریسٹورنٹس میں سینئر سٹیزن کیساتھ معذور افراد کی لائن بھی الگ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ بہرحال اس وقت معذر افراد کو ملازمتیں‘ تعلیم اور رہائش دینے میں مدارس نمبر نمبرون ہیں جہاں ہمارے شہری اپنے سب سے ناکارہ بچے کو داخل کراتے ہیں اور مدارس اسے قیمتی ہیرا بنا کر نکالتے ہیں۔ سید ہارون سلطان بخاری اپنے وعدے کو ایفا کرنے پر لگے ہوئے ہیں جس سرعت سے وہ آگے بڑھ رہے ہیں‘ امید ہے چند دنوں میں وہ اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔ وزیر اعلی پنجاب نے ان کا اس کار خیر کیلئے اچھا انتخاب کیا ہے ۔ خزاں کو بہار‘ رات کو دن‘ اور موت کو زندگی میں بدلنے والی ذات سے دعا ہے کہ اس نیک کام میں انکی مدد فرمائے۔ یوں نظر آ رہا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنیوالا ہے کہ حکومت نوکریاں دینے کیلئے معذوروں کو تلاش کریگی اور معذور کم پڑ جائینگے۔