ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے

پاکستان اور پاکستان کے عوام و خواص ملت اسلامیہ کا زریں اثاثہ ہیں۔ ملت اسلامیہ کسی بھی کڑے وقت میں پاکستان کی طرف ہی دیکھتی ہے۔ پاکستان کے غریب، مفلوک الحال لیکن ملت اسلامیہ کے درد سے معمور دلوں کے مالک عوام اپنی آفت اور مصیبت کو بھول کر اسلام کی سربلندی اور اہل اسلام کی سرفرازی کیلئے دل و جان قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا قبلہ و کعبہ انکے محبت بھرے وہ احساسات ہیں جو نسبت توحید و رسالت ہی سے زندہ رہ سکتے ہیں۔ پاکستان کا دفاعی اثاثہ بھی ملت اسلامیہ کی برتری کیلئے ہی وقف ہے۔ اہل باطل کو یہ حقیقت پوری طرح سے بیدار رکھتی ہے کہ مسلمان اگر اتحادواتفاق سے کسی بھی وقت اہل طاغوت پر حملہ آور ہو جائیں تو ان کو کسی جگہ بھی پناہ نصیب نہ ہو سکے گی۔ بین الاقوامی باطل قوتوں کو بقا اس وقت نصیب ہو سکتی ہے جب وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑواتے ہیں۔ ہمارے تاریخی اور جغرافیائی ورثے کو اہل باطل نے مسلسل اپنی مکارانہ سازشوں کی زد میں رکھا ہے۔ مسلمانوں کے مختلف خطوں میں قائم اقتدار کو وہ کسی بھی لمحے برداشت نہیں کرتے۔ انہوں نے مسلمانوں کو معاشیاتی، سیاسی اور معاشرتی طور پر نیم غلام بنایا ہوا ہے۔ اسلحہ ان کا بکتا ہے اور خون مسلمان کا بہتا ہے۔مسلمان مار بین الاقوامی قزاق اور مکروفریب کے ماہرین بہت ہی منظم انداز اور شائستہ سلیقے سے مسلمان ممالک کو میدان جنگ میں لانے کا اہتمام کئے ہوئے ہیں۔ انکے پاس اپنے ہتھیار فروخت کرنے کا یہ ایک اچھا طریقہ موجود ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کو مذہبی اور مسلکی اختلافات کے حوالے سے بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔ مسلمانوں کی باہمی مسلکی منافرت اور عدم اتفاق کے رویے نے اہل باطل کا کام بہت آسان کر دیا ہے۔ دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم مخلص اور دانشمند دینی قیادت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ بظاہر تو یہ دینی قیادتیں ایک پلیٹ فارم پر کبھی کبھی نظر آتی ہیں لیکن فی الحقیقت یہ بھی ایک فریب فکر ہی ہوتا ہے۔ دراصل اپنے گروہی مفادات کی تکمیل کیلئے بھی اتحادویکجہتی کا نعرہ لگانا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ عوام انتشار اور فساد کے مذہبی رویوں کو بالکل ہی ناپسند کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی بربادی کی تاریخ بھی وہی مرتب کرتے ہیں جن کا ذوق فکری کسی خاص مکتب فکر کے غلبہ کو پسند کرتا ہے۔ اس لئے نوجوان نسل کو حقائق آشنائی کی نعمت نصیب نہیں ہوتی۔ وہ کسی بھی پیش آمدہ مسئلے کو گہرائی سے نہیں سمجھ سکتے۔ وہ کسی بھی غیر مخلص اور جذباتی قیادت کے جھانسے میں آ کر نئی طرز جنوں ایجاد کرتے ہیں کہ اپنے بڑوں کے قابو میں بھی نہیں آتے، فساد فکر کا نیا دروازہ کھلتا ہے اور پھر فرقہ در فرقہ، جماعت در جماعت اختلافات فسادات کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ مکار اور فریب کار قیادت کا ہاتھ حکمران پکڑتے ہیں تو ایک نیا منظر سامنے آتا ہے۔ اسی لئے نئے منظر کو ہم وقت کی ضرورت قرار دیتے ہیں اور اتحاد دین و ملت کیلئے حقیقی اسباب کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کی یہی حالت یکساں اور عمومی ہے۔ فساد گر اہل باطل پوری قوت اور پوری دانش سے ایسے برے حالات کو مزید بڑھانے کیلئے متحرک ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کی جنگ کیلئے اگرچہ انکے نزدیک پاکستان کو میدان جنگ کے طور پر استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے لیکن اس کیلئے ذہنی ماحول کی تیاری میں ابھی وقت درکار ہے کیونکہ اندرون پاکستان اتحاد کی اور اتفاق کی کوششیں جاری رہتی ہیں اگرچہ وہ کوششیں پوری طرح سے کامیاب نہیں ہوتیں۔ بین الاقوامی سطح پر شیعہ سنی فساد کروانے کیلئے حالات پوری طرح تیار کئے جا رہے ہیں اور آہستہ آہستہ حکمرانوں کو بھی مختلف پلیٹ فارمز پر علیحدہ علیحدہ جمع کئے جانے کا بھی خاموش اہتمام جاری ہے اور پاکستان کے کردار کو بھی طے کئے جانے کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان ملت اسلامیہ کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ عرب و عجم میں اسلام کی برتری اور سیاسی غلبے کیلئے فکری توانائی اور دفاعی قوت کا سب سے بڑا مرکز پاکستان ہے۔ پاکستان کی افواج عالم اسلام کی افواج ہیں۔ وہ کسی فرقے یا کسی حکمران کی ذاتی انا کی محافظ نہیں ہیں۔ انکے نزدیک پورا عالم اسلام ہی ان کا وطن ہے۔ وہ مسلمانوں کے غلبے کیلئے جذبہ ایمانی سے لبریز افکار کی نمائندہ ہیں۔ سعودی عرب اور یمن کے قبضے میں بین الاقوامی طاقتوں کو بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ وہ بھاگ بھاگ کر اپنی خدمات سرانجام دینے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ مسلمان اہل دانش کو بخوبی جانتے ہیں کہ عالم اسلام کی ریاستوں میں کون کون سا حکمران اپنے کشکول میں غیر کی عطا کا اقتدار ڈالے ہوئے ہے اور کون سے حکمران اہل طاغوت کی بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی سوچ محدود نہیں ہونی چاہئے۔ دھرم چھوڑ کر دھڑے کو اختیار کرنا بہت بڑی بے وقوفی ہوتی ہے۔ نہ ہی عزت نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی مقصد حاصل ہوتا ہے۔ سعودی عرب بے شک ہمارا دوست اور ہمدرد ہے لیکن اس دوستی اور ہمدردی پر غالب عالم اسلام کا اتحاد ہی ہونا چاہئے ایک مسلمان ملک کے حق میں اور دوسرے مسلمان ملک کے خلاف ہم اپنی قوتوں کو استعمال نہ کریں۔ ہمارے نظریے اور عمل میں موافقت ہونی چاہئے۔ مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی کا آغاز کرنے کیلئے اہل باطل کیلئے ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے مشترکہ اثاثہ پاکستان کی حیثیت کو متنازعہ بنا دیں پاکستان کا کردار تو یہ ہونا چاہئے کہ اتحاد اسلامی کیلئے اپنی صلاحیتیں اور تمام تر قوتیں صرف کرے۔ اپنے اندرونی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی داخلی خانہ جنگی کو دور کرنے کی جدوجہد کریں نہ کہ وہ باہر کے محاذ پر جا کر اپنے آپ کو نئی جنگ میں پھنسا لیں۔ پاکستان کو ہرگز ہرگز فریق نہیں بننا چاہیے بلکہ تجویز یہ ہے کہ پاکستان فوری طور پر اسلامی کانفرنس کے اجلاس کا اہتمام کرے اور اسلامی ممالک کے درمیان تنازعات کے عارضی یا مستقل حل کیلئے ایک قابل عمل ایجنڈا تیار کرے اور اسلامی غیرت کی بقا کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر دے۔