چاروں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی .

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

کیا اچھے زمانے تھے، لوگ عشق کرتے تھے، اور جب دل کے پھپھولے جل اٹھتے تھے تو کہا کرتے تھے ع
دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی
مگر اب تو یہ حالت ہے کہ چنیں قحط افتاد اندرد مشق کہ یاراں فراموش کردند عشق، آج پاکستان جیسا لاکھوں کروڑوں دلوں کا ارمان، اور قربانیوں کی داستان ملک پر چاروں جانب سے ہر طرح کی مشکلات و آفات کی یلغار ہے، یہاں صرف غریب عوام ہی محب وطن ہیں، شاید اس لئے کہ وہ امیر نہیں، اشرافیہ سے تعلق نہیں رکھتے، وگرنہ جو بھی صاحبِ حیثیت و اثر ہیں وہ اکثر و بیشتر کرپٹ بھی ہیں اور غدار بھی، یہی وجہ ہے کہ یہ ملک جہاں کھڑا ہے وہیں اس پر سکتہ طاری ہے، باہر کے ملکوں کی کرنسی کی طاقت اور معاوضے سنتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم ایک منڈی میں رہ رہے ہیں جہاں ساہوکاروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ چند سکے ہماری ہتھیلی پر رکھ دیتے ہیں، جن سے زندگی سے نحیف سا رابطہ تو قائم ہو سکتا ہے زندہ نہیں رہا جا سکتا۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ ان کے عزیز بارسلونا میں ٹیچنگ کرتے ہیں وہ بیس لاکھ روپے تنخواہ پاتے ہیں، پچھلے دنوں ان کے بازو میں فریکچر ہو گیا، اور چار ماہ سے صاحبِ فراش ہیں، انہیں تنخواہ بھی ملتی ہے اور حکومت ان کے 9 افراد پر مشتمل کنبے کی کفالت بھی کرتی ہے، یہ مثال مشتے نمونہ از خر وارے ہے، باقی بدیشی ممالک میں اس سے بھی بہتر زندگی اور معاوضے ہیں، ہمارے ہاں کیا نہیں، ہماری زمینیں سونا اگلتی ہیں، مگر ہمارے ہمسائے نے ان کو بھی بانجھ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، آمریت نے ہمیں امریکہ کا تحفہ عطا کیا ہے اور آج وہ ہمارے ملک میں آ کر حکومت کی آشیرباد سے نہ صرف ڈرون حملوں بلکہ نیٹو فورسز کی دراندازی کے ذریعے بھی معصوم پاکستانی قبائلی شہریوں کا خون بے دریغ بہا رہا ہے، ایک نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سوچ کو مصروف کر رکھا ہے۔ ہماری سرحدیں گو کہ بظاہر بند ہیں مگر شارع عام ہیں، ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ اس قدر فیاض ہیں کہ انہیں گھر بلا کر اپنے گھر کو جلانے کا سامان کرتے ہیں، کرپشن ہمارا قومی نشان بن چکی ہے، لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس لانے کے لئے 9 ماہ سے سپریم کورٹ نے فیصلہ دے رکھا ہے، مگر یوں لگتا ہے کہ جیسے تمام ادارے ایک دوسرے کو تاخیر کے تحفے دے رہے ہیں، یہ ملک تو خدا کے فضل و کرم سے قائم رہے گا کیونکہ اس کے گرد قائد و اقبال کی روحیں منڈلاتی اور پیچ و تاب کھاتی رہتی ہیں، سارا ملک مہنگائی کی لپیٹ میں ہے اور اب تو اس کے پیٹ سے عجیب عجیب فتنے بھی جنم لینے لگے، کوئی محفوظ نہیں، عصمتیں ہو یا مال و دولت ہر چیز خطرے کے زون میں ہے، حکمرانوں، سیاستدانوں کو صرف 2013ءتک پہنچنے میں دلچسپی ہے کے عوام کے مسائل گونا گوں ہیں بلکہ بعض تو ناقابل بیان ہیں مجال ہے کہ حکمران اس طرف توجہ دیں، بھارت نے اودھم مچا رکھا ہے، 62 ڈیم بنا کر اس نے ہمیں ریگستان بنانے اور سیلاب کی زد پر رکھ دیا ہے، ایک آمر جس نے لٹیا ڈبوئی وہ بزدل ملک سے باہر بیٹھ کر یہاں فتنہ انگیزی پھیلا رہا ہے، ملک کی بیٹی عافیہ محض ایک سفیر کی اپنی سفارت بچانے کے نتیجے میں 86 سال کی سزا امریکی عدالت سے پا چکی ہے، جو ملک اپنی بیٹی نہیں چھڑا سکتا وہ ملک میں موجود بیٹیوں کی کیا خاک حفاظت کرے گا، یہی وجہ ہے کہ اجتماجی زیادتیاں عروج پر ہیں، اکثر کالم نگار صرف مرثیہ لکھ سکتے ہیں اپنی تحریروں سے کوئی انقلاب نہیں لا سکتے، کوئی خمینی پیدا نہیں کر سکتے، البتہ اخبارات کے صفحات بھر کر اپنا بھڑاس نکال سکتے ہیں، اپنے معاوضے کھرے کر سکتے ہیں، لکھنے کو بہت کچھ ہے، مگر کیا کیجئے کہ لقد جف القلم (قلم ہی خشک ہو گیا) ۔!