پاکستان میں تبدیلی کا عمل

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم

پاکستان معاشی اور سیاسی لحاظ سے اس قدر شکست و ریخت کا شکار ہو چکا ہے کہ ہر ذی شعور پاکستانی اپنے مستقبل کے متعلق گہری مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہو چکا ہے۔ سیاسی محاذ آرائی عدالتی بحران اور بااثر افراد کی کرپشن کی وجہ سے ہمارا ملک اقتصادی طور پر اس حد تک دیوالیہ ہو چکا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے گزشتہ دو سالوں میں 25بلین ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے کے باوجود معیشت کے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز (Indicators) کسی قسم کی معاشی بہتری کا اشارہ نہیں دے رہے ہیں۔ غیر ملکی قرضوں کا زیادہ حصہ حکمرانوں اور بیورو کریٹس کی کرپشن کی نذر ہو چکا ہے اور محض 20 فیصد رقوم ترقیاتی پراجیکٹس پر خرچ کی گئی ہیں اور ان میں بیشتر ادھورے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں اور بیورو کریٹس کی کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے امریکہ کیری لوگر امداد مختلف این جی اوز اور ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کے وضع کردہ معیار اور نگرانی میں خرچ کر رہا ہے۔ ہمارے اندرونی اور بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 105 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جو ہماری مجموعی قومی آمدنی جس کا حجم 172بلین ڈالر ہے اس کا 61فیصد ہے۔ گزشتہ چار ماہ میں ہماری حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے سٹیٹ بنک سے 231ارب روپے کی قرض گیری کر چکی ہے جس سے افراط زر کی شرح دوبارہ 20فیصد تک جا پہنچی ہے۔ سٹیٹ بنک نے ایک دفعہ پھر شرح سود میں 50 پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے جو سرمایہ کاری اور صنعتی عمل کو بُری طرح متاثر کرے گا اور بیروز گاری کی شرح خرید بڑھے گی۔ دوسری طرف کرپشن کے ذریعے حاصل کردہ کالا دھن ہماری معیشت کو سرطان کا شکار کر چکا ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ (Pildat) نے انکشاف کیا ہے کہ 2002-03 سے 2008-09 کے دوران چھ سالوں میں ارکان قومی اسمبلی کے اثاثے تین گنا بڑھ گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ممبران کے اوسطً اثاثے جو پہلے دو کڑور 70لاکھ سے نیچے تھے 2009ء میں بڑھ کر8 کڑور 10لاکھ تک پہنچ گئے ہیں۔ موجودہ اسمبلی کا ہر رکن اسمبلی پچھلی اسمبلی سے اوسطً تین گنا زیادہ امیر ہے۔ تمام مسلم لیگی دھڑوں کے ممبران قومی اسمبلی کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 376 ملین روپے ہے اور آزاد ارکان 102 ملین روپوں کی مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ ہمارے چیف جسٹس عزت مآب افتخار چودھری حیران اور پریشان ہیں کہ ہمارے فیڈرل بیور آف ریونیو نے دو سالوں کے دوران افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے 11ہزار کنٹینرز کو غائب کر دیا ہے جس سے قومی خزانے کو 200ارب کا نقصان پہنچا ہے۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس کے مطابق ہمارے کسٹم حکام ہر سال 500ارب روپے کا غبن کر رہے ہیں۔
ایسے حالات میں ہر پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ایسے وقت میں جب پورا ملک اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ ملکی معیشت قرضوں پر چل رہی ہے اور دن بدن روبہ زوال ہے۔ غربت، بیروزگاری، مہنگائی، لاقانونیت اور دہشت گردی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ 6کڑور سے زائد افراد خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں تو ایسے میں کس جادوئی عمل کے ذریعے ہمارے اراکین پارلیمنٹ کے اثاثے اس قدر تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جب جیل میں تھے تو انہیں اپنے بچوں کی فیسوں کی ادائیگی کے لئے اپنی رولیکس گھڑی بیچنا پڑی تھی مگر آج وہی بچے آٹھ آٹھ کروڑ کے لاہور ڈیفنس میں دو بنگلے خرید چکے ہیں ملتان میں وزیر اعظم کے گھر کے باہر کئی کروڑ کی بم پروف دیوار سیکورٹی کے لئے تعمیر کی جا رہی ہے جب ایک طرف کروڑوں عوام غربت اور مہنگائی کی چکّی میں پِس رہے ہوں اور 70فیصد سے زیادہ عوام غذائی قلت کا شکار ہوں اور دوسری طرف صاحب حیثیت افراد کے اثاثوں میں راتوں رات اربوں روپوں کا اضافہ ہو رہا ہو تو ان حالات میں غریب عوام کے صبر کا پیمانہ تو لبریز ہونا فطری بات ہے اور وہ لازماً تبدیلی کے خواہاں نظر آئیں گے مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض چہرے بدلنے سے نظام بدل جائے گا؟ کیا گیلانی زرداری سے اقتدار واپس لے کر نواز شریف، الطاف حسین یا پیر پگاڑو کی پارٹی کے حوالے کرنے سے ملک کے غریب عوام کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہو جائے گا۔ پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کا میوزیکل چیئر کا کھیل گزشتہ 62برس سے جاری و ساری ہے مگر اس طرح کی خصوصی تبدیلی سے عوام کے حقیقی دُکھوں کا کبھی ازالہ نہیں ہوا ہے بلکہ وہ حکمران طبقوں کی مفاداتی جھگڑوں میں الجھ کر تباہی اور بربادی کے کنارے پر پہنچ چکے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایک ایسی سماجی تبدیلی کے ضرورت مند ہے۔ معاشی ترقی کے ایک ایسے عمل کا آغاز ہو جہاں ملک کے دستیاب وسائل کے بھر پور استعمال سے زرعی اور صنعتی پیداوار میں آبادی کے بڑھنے کی شرح کے مطابق اضافہ ہو۔ توانائی کی سستے ذرائع کے ذریعے ملک کی ہنر مند آبادی کو استعمال میں لا کر صنعتی عمل کے ذریعے بیروز گاری کا خاتمہ کیا جا سکے۔ جب معاشی ترقی کے عمل کے ذریعے ملک میں سرمائے کی تشکیل اور صنعتکاری کو فروغ ملے گا تو پھر قومی پیداوار میں خود بخود اضافہ ہو گا۔ اس عمل کے نتیجے میں حقیقی آمدنی میں اضافے کو منصفانہ تقسیم کے ذریعے نچلے طبقوں تک پہنچانا بے حد ضروری ہوتا ہے جس سے لوگوں کے معیار زندگی میں خود بخود بہتری واقع ہوتی ہے۔ ماہرین سماجی معاشیات کے مطابق معاشی ترقی ایک کثیر الجہتی طویل عرصے پر محیط عمل ہے جس کے دوران حقیقی قومی آمدنی بڑھنے سے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آنے سے سماجی ڈھانچے میں تعلیم اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے عام لوگوں کے رویوں میں صحت مندانہ تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ حکمرانوں سے لے کر عام آدمی پر اس عمل کو چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں جو غیر پیداواری ہو یا اس میں فضول خرچی کا احتمال ہو۔ امراء معاشرے میں کمزور لوگوں کی مدد اور بہتری کے لئے اپنی دولت کو وقف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ فضول رسومات اور دولت کی نمائش ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے لہٰذا اگر نواز شریف اور الطاف حسین پاکستان میں سماجی تبدیلی کی خواہاں ہیں تو انہیں محض پیپلز پارٹی کی حکومت قبل از وقت ختم کرنے کی بجائے ایسے سماجی عمرانی معاہدے (Social Contracts) پیش کرنے چاہئیں جس میں پاکستان کے تمام عوام جمہوری عمل کے ذریعے معاشی ترقی کے عمل کا آغاز کریں اور اس کے نتیجے میں ملک کے ادارتی سلسلوں (Arrangements of Society) میں تبدیلی سے ملک کے تمام شعبوں میں ہوتی تبدیلی (Structural transfermatin of Society) واقع ہو۔ جب کسی ملک میں حقیقی سماجی تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے تو پھر چین، کوریا، سنگاپور اور ملائشیاء کی طرح (1) معاشی ترقی کے لئے ذرائع کو بھرپور استعمال میںلایا جاتا ہے۔ (2) نئے ذرائع پیداوار اور معدنیات کی تلاش کی جاتی ہے۔ (3) توانائی کے سستے ذرائع کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے۔ (4) غیر آباد اور بنجر زمینوں کو کاشت کاری کے لئے استعمال میں لایاجاتا ہے۔ (5) قدرتی اور انسانی ذرائع کو منافع بخش کاموں کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔ (6) پیداواری عمل میں بہتر اور نئے طریق پیدائش اختیار کئے جاتے ہیں۔ (7) اشیاء کی تیاری میں محنت کی تقسیم اور تخصیص کار کا عمل اختیار کیا جاتا ہے تاکہ اشیاء کی تیاری میں بہتری اور کوالٹی قائم رہ سکے(8) مزدوروں کی استعداد کار میں اضافہ ہوتا ہے۔ (9) ملک کے ادارتی، سیاسی، تکنیکی، عدالتی نظام میں ایسی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں کہ عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں اور ملکی ذمہ داریوں میں بلا خوف و خطر حصہ بنتی ہیں۔ لوگ تعلیم یافتہ، مہذب اور قانون کی حکمرانی کو بلاچوں و چراں تسلیم کرتے ہیں۔ (10) جمہوری عمل لوگوں کے حقیقی مسائل کو حل کرتا ہے۔(11) لوگوں کی فی کس آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ (12) دولت اور آمدنی کی تقسیم میں تفاوت کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور دولت نچلے طبقوں تک منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہے جس سے امیر اور غریب میں خلیج کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ (13) موثر آبادی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ (14) لوگوں کی آمدنیوں میں اضافے سے وہ سرمایہ کاری کے عمل کو فروغ دیتی ہیں بشرطیکہ ملک میں سیاسی استحکام ہو۔ سرمایہ کاری کے عمل سے فوجی پیداوار میں عمل ضارب (Multiplier effect) کے ذریعے کئی گناہ اضافہ ہوتا ہے جو آمدنی، روزگار اور پیداوار کی شرح کو مسلسل بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ لوگوں کی بچتوں میں خاطر خواہ اضافے سے سرمائے کی تشکیل کا عمل شروع ہوتا ہے جو معاشرے میں معاشی نمو، معاشی ترقی اور سماجی بہتری لاتی ہے۔ اگر کوئی بھی لیڈر یا پارٹی ایسی تبدیلی کے عمل کا عملی خاکہ پیش کرے تو پھر ہمارا ملک بھی ترقی یافتہ ملک بن جائے گا مگر اس کے لئے ملائشیاء کا مہاتیر، چین کے عظیم معمار ڈینگ سپانگ یاوینزویلا کے ہوگوشاویز جیسا وژن، خلوص اور فراست درکار ہے۔