منصورہ میں قومی کشمیر کانفرنس

عالمی قوتوں کا سب سے بڑا متحدہ اور متفقہ ادارہ یونائیٹڈ پنشنرز آرگنائزیشن یعنی یو این او ہے جس کو ”تنظیم اقوام متحدہ“ کہا جاتا ہے چنانچہ 1948ءمیں جب مجاہدین پاکستان اور پاکستان کے قبائلی حریت پسندوں نے کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق اور بانی پاکستان اور بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی دلی آرزو کے مطابق پوری ریاست جموں و کشمیر کو بہ نوک شمشیر ہندو کی گرفت سے نکال کر پاکستان میں شامل کر لینے کیلئے اپنی یلغار کا آغاز کیا تو بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو بھاگ کر اقوام متحدہ پہنچے اور واشگاف الفاظ میں درخواست گزار ہوئے کہ اقوام متحدہ اس یلغار کو روک دینے کیلئے اس اصول کی آئینہ دار قرارداد منظور کر لیتی کہ کشمیر کے مستقبل اور اس کے بھارت یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کشمیری عوام کے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب سے کیا جائے گا۔ چنانچہ یکے بعد دیگرے اقوام متحدہ نے دو قراردادیں منظور کر لیں اور پاکستان نے بھی اپنے انصاف پسند قوت ہونے کے نقطہ نظر سے استصواب کے ذریعے کشمیر کے الحاق کا فیصلہ کرنے کے اصول سے اتفاق کر لیا مگر بھارت نے اپنی درخواست پر منظور کرائی گئی اقوام متحدہ کی ان قراردادوں سے آہستہ آہستہ انحراف کرنا شروع کر دیا تاآنکہ ایک حل ہوتا ہوا مسئلہ کشمیر آج تک ایک لاینحل مسئلہ بنا ہوا ہے جس کے حل کر لینے کیلئے پاکستان موجودہ حکمرانوں کو بیداری عطا کرنے‘ ان کو واقعی اس مسئلے کی اہمیت سے آگاہ کر دینے اور بہ نوک شمشیر بھارت کی اس رٹ کو ختم کر دینے کی خاطر کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو تیار کر دینے کیلئے 30 ستمبر 2010ءکو جماعت اسلامی نے اپنے ہیڈ آفس منصورہ میں ایک ایسی عظیم قومی کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کے ممتاز رہنماوں نے شرکت کی اور متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارتی چنگل سے آزاد کرا کے اسے پاکستان سے ملحق کر دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی‘ تمام رہنماوں نے تجزیاتی طور پر اس حقیقت کا اعتراف و اظہار بھی کیا کہ بھارت صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے لہٰذا مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے چنگل سے نکال لینے کیلئے پاکستان فوری طور پر بھارت کے منہ پر مکا مارنے کیلئے تیار ہو جائے‘ اس کانفرنس کی صدارت کے فرائض موجودہ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے ادا کئے جبکہ قاضی حسین احمد بھی اس کانفرنس میں موجود تھے اور لیاقت بلوچ بھی ان کے ساتھ رہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (قائداعظم) کے سنیٹر ایس ایم ظفر‘ تحریک استقلال کے سربراہ سید منظور علی گیلانی جماعة الدعوہ کے حافظ محمد سعید‘ قاری زوار بہادر‘ سید صلاح الدین تحریک انصاف کے جاوید اقبال‘ پروفیسر ساجد میر مسلم لیگ (ن) کے غلام دستگیر خان‘ میجر جنرل (ر) راحت لطیف‘ مولانا
امجد خان‘ پیر عبدالحکیم‘ زعیم قادری‘ کاظم رضا نقوی‘ غلام محمد صفی‘ نور الباری‘ سیف اللہ سیف‘ ملک عبدالروف‘ محمود احمد ساغر‘ ضیاءاللہ بخاری اور دیگر متعدد لیڈرز نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند لیڈر سید علی گیلانی نے بھی اپنا ایک پیغام اس کانفرنس کے نام روانہ کیا تھا جو غلام محمد صفی نے پڑھ کر سنایا‘ اس کانفرنس میں شریک تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کے رہنماوں میں مکمل فکری ہم آہنگی موجود تھی اور تمام رہنماوں کے دل و دماغ میں وہی احساس موجزن تھا کہ بھارت ایک وعدہ خلاف ملک ہے اس کی اس بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اس لئے طاقت کی زبان میں ہی اس سے بات کی جائے کیونکہ بھارت کی آٹھ لاکھ سے زیادہ فوج نہتے کشمیری حریت پسندوں پر ناقابل بیان مظالم ڈھا رہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر بہرحال کشمیری عوام کی صوابدید کے مطابق حل کیا جانا چاہئے اس مقصد کےلئے پاکستان اور بھارت جو بھی کوششیں کریں ان سے کشمیری باشندوں کو آگاہ رکھنا چاہئے کیونکہ بالآخر کشمیر کا وہی حل قابل قبول ہو گا جو کشمیری عوام کی امنگوں کا آئینہ دار ہو۔ ایس ایم ظفر نے بجاطور پر کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے ہر تین مسلمانوں پر ایک بھارتی فوجی مسلط ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کی پالیسی میں جو تبدیلی آتی رہی اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو پہنچا جبکہ اس کا سب سے زیادہ نقصان تحریک آزادی کشمیر کو ہوا۔