مسلم لیگ کے اتحاد کیلئے مجید نظامی کا مثالی کردار

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کے وصال کے بعد جوں جوں پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ اندرونی انتشار کے باعث کمزور پڑتی گئی توں توں مملکت خداداد سیاسی سطح پر قائد اعظم کے تصور پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرنے سے دور ہوتی گئی یہاں تک کہ حکمرانی مسلم لیگ کے قائدین کے ہاتھوں سے پھسل کر غیر سیاسی ہاتھوں میں منتقل ہو گئی جن میں غلام محمد سکندر مرزا چودھری محمد علی اور پھر فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان نے اقتدار کو سنبھال لیا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان دونوں میں مسلم لیگ کی حکومتیں ختم ہو گئیں اور پھر جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا ایک طویل تاریخ باب ہے اس دوران شہید صحافت جناب حمید نظامی اور ان کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بھائی جناب مجید نظامی کا کردار نظریہ پاکستان کو رخشاں و تاباں رکھنے کیلئے چاروں طرف گھٹا ٹوپ تاریکی میں روشنی کے ایک مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلم لیگ کی نشاط ثانیہ کیلئے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے جس جرات اور اپنے بھائی کی طرح بھرپور عزم سے ایک تاریخی کردار ادا کیا وہ مسلم لیگ اور قائد اعظم کے پاکستان کی وحدت کو برقرار رکھنے کی آخری کاوش تھی۔ مادر ملت کی قیادت میں اگر وطن عزیز کے دونوں حصوں میں مضبوط اور فعال مسلم لیگ ایک متحدہ قوت کا مظاہرہ کرتی تو مشرقی پاکستان کبھی مملکت خداداد سے جدا نہ ہوتا۔ اس دور کے نام مصاعد حالات کے باوجود نوائے وقت اور جناب مجید نظامی نے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی وحدت اور یگانگت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور مسلم لیگ کے تمام دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر مربوط اور مضبوط سیاسی قوت کے قیام کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ یہ خاکسار ذاتی طور پر نظامی صاحب کی جہد مسلسل کا گواہ ہے کہ اپنی صحت کو داﺅ پر لگا کر اور 3 بار دل کے بائی پاس آپریشن ہونے کے باوجود ایک غیبی طاقت نے ان کے مشن کی کامیابی کیلئے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ اپنے مشاہدے کی بناءپر میں نہ صرف نظامی صاحب کی خدمت میں بلکہ اپنے دیگر احباب کو بھی کہا کرتا ہوں کہ رضائے الٰہی نظامی صاحب کے ہاتھوں قائد اعظم کی مسلم لیگ کو وجود میں لائے گی تاکہ مملکت خداداد کو ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کیلئے مسلم لیگ کو ایک حیات نو کا موقع ملے۔ میں سجھتا ہوں کہ شاید معجزانہ طور پر وہ گھڑی قریب آ رہی ہے جس کیلئے جناب مجید نظامی کئی دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ میں موجودہ حالات کی خوش آئند نقشہ کشی اس لئے نہیں کر رہا کیونکہ جناب مجید نظامی صاحب نے نوائے وقت کے 30 ستمبر بروز جمعرات کے اداریہ میں مملکت کے اعلیٰ ترین مفاد میں مسلم لیگ کے اتحاد کے بارے میں جو تجزیہ اور قیمتی مشورہ پیش کیا ہے وہ پاکستان کو اپنی موجودہ سیاسی معاشی مالی اور اقتصادی بحران سے نمٹنے کیلئے ایک نسخہ کیمیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی طویل تاریخ میں پہلی بار ماسوائے مسلم لیگ (ن) کے دیگر تمام دھڑے بزرگ مسلم لیگی جناب پیر صاحب پگاڑا کی سرپرستی میں یکجان ہو گئے ہیں کیونکہ مملکت خداداد کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنج مسلم لیگ کی وحدت کا تقاضا کر رہے ہیں لیکن یہ اتحاد اس وقت تک موثر کردار ادا نہیں کر سکتا جب تک مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف پارٹی مفادات اور ترجیحات سے بالاتر ہو کر اور ایک عزیز سیاستدان اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور مفادات کو پش پشت ڈالتے ہوئے ایک عظیم مدبر کا کردار ادا کریں تاکہ ریاست کو درپیش اس کے وجود کی سالمیت کو باقی تمام ترجیحات میں اولیت دی جائے۔ اس سلسلہ میں نظامی صاحب نے پہلا قدم اس وقت اٹھایا تھا جب میاں صاحب جدہ میں جلاوطنی کے دن گزار رہے تھے اور چودھری شجاعت حسین نے نظامی صاحب کی وساطت سے میاں صاحب کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ اس وقت سے میں شہادت دیتا ہوں کہ چودھری شجاعت حسین نے جناب مجید نظامی کے ہر فیصلے کو مسلم لیگ کی وحدت کیلئے غیر مشروط طور پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سٹیج پر آ کر قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سٹیج پر نہایت خلوص سے ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا تھا۔
اگر کوئی شخصیت پورے پاکستان میں میاں نواز شریف کو مسلم لیگ کی وحدت کے سیاسی اور سٹرٹیجک رموز کے بارے میں قائل اور مائل کر سکتی ہے تو وہ شخصیت صرف اور صرف جناب مجید نظامی صاحب کی ذات گرامی ہے۔ مجھے آج مرحوم و مغفور میاں محمد شریف صاحب بہت یاد آ رہے ہیں کہ اگر وہ حیات ہوتے اور جناب مجید نظامی ان کو ساتھ لیکر میاں نواز شریف صاحب کو مسلم لیگ (ن) کے پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کو اپنی شمولیت سے محروم رکھنے کے خطرناک بلکہ مہلک نتائج سے آگاہ کرتے تو مجھے یقین ہے کہ میاں نواز شریف اس تاریخی موقع کو ضائع نہ کرتے اور ان کی شمولیت سے مسلم لیگ پاکستان کی سب سے مضبوط اور طاقتور سیاسی طاقت بن کر مملکت خداداد کو اپنا جائز اور پاکستان کی بانی جماعت ہونے کا تاریخی کردار ادا کرنے میں تامل نہ کرتے۔ اگر میاں صاحب نے یہ تاریخی موقع کھو دیا تو نظامی صاحب کے الفاظ میں مستقبل کی سیاست میں سوائے پچھتاوے کے شاید ان کے ہاتھ کچھ نہ آ سکے۔ اگر ریاست کا وجود ہی خطرہ میں پڑ گیا تو باقی کیا رہ جائے گا۔