لاہور میں وکلا اور پولیس افسران کے بھنگڑوں کا مقابلہ

ایک زمانہ تھا کہ وکلائے کرام جب کالے کوٹ کے اندر اترتے تھے تو آدابِ عدالت کے پابند ہوجاتے تھے کیونکہ وہ مثل مشہور ہے کہ وکلائے عالی مقام کو ایک جج کا احترام اسی طرح کرناچاہیے جس طرح مقتدی پر لازم ہے کہ وہ نمازکے دوران اپنے امام کا احترام کرے مگر اس کے ساتھ ہی ایک نازک حقیقت کا تقاضا وہ ہے کہ اگر غازی کسی امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتے ہوں یا کسی وجہ سے اسے امامت کا اہل تصور نہ کرتے ہوں تو امام کو امامت کے منصب پر قابض رہنے کی اجازت بھی نہیں جس کا ایک ثبوت اس وقت بھی ملا جب عید کے موقع پر تحریکِ قیام پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکنوں نے جامع مسجد دہلی میں واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ کانگرس کے لیڈر مولانا ابو الکلام آزاد کو اپنا امام تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھے تو مولانا ابو الکلام آزاد نے مسلم لیگ کے عظیم کارکنوں کی اس رائے کا احترام کیا اور امامت کرانے سے گریزاں ہو گئے،اسی طرح جج حضرات بھی ایک ایسے مقدس مقام پر فائز ہوتے ہیں کہ اگر ان کو ” مال روڈ“ کہنے والے ان کو اس قابل تصور نہ کرنے لگیں کہ ان کو ” مائی لارڈ“ کہاجائے تو مقدمات کوکسی اور جج کی عدالت میں منتقل کردیاجانا چاہیے اور اگر سیشن جج اور اس سے بھی ماتحت عدالتوں کے کسی جج یا مجسٹریٹ سے وکلاءخوش نہ ہوں تو یقینا اس کی بھی کوئی وجوہ باور کی جا سکتی ہیں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کسی سیشن جج یا کسی مجسٹریٹ کوتبدیل کردینے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہوناچاہیے شاید وہی خیال لاہور کے ان وکلا ءکا تھا کہ لاہور کے سیشن جج شیخ زوار احمد کو تبدیل کردیا جاتا اور اس معاملے کو غالباً گزشتہ فروری میں اٹھایا گیا مگر وہ لاینحل چلا آرہا تھا تاآنکہ وکلائے کرام برافروختہ ہوگئے کیونکہ لاہور ہزاروں وکلاءکا مرکز ہے اور واقعتا لاہورہی وہ شہر ہے جس کے وکلائے کرام نے پرویز مشرف جیسے بد ترین ڈکٹیٹر کو ٹھڈا مار کر اقتدار کی مسند سے ہٹایا۔اب اگر انہوں نے سیشن جج کو ہٹا دینے یا تبدیل کردینے کا مطالبہ کیا تھا تو اسے انصاف کے تقاضوں اور عدالتی کارروائی کو پُرامن انداز میں جاری رہنے کی فضا فراہم کرنے کیلئے تبدیل کیا جاسکتا تھا مگر نوبت وہاں تک پہنچ گئی کہ وکلائے کرام نے سیشن جج کے خلاف کھلے احتجاج کا راستہ اختیار کرلیا اور حکومت اس احتجاج کو ناکام بنادینے کیلئے طاقت استعمال کرنے پر مجبور ہوگئی چنانچہ لاہور یوں نے دیکھا اور میڈیا کی برکت سے تمام دنیا نے دیکھ لیا ہوگا کہ ایوان عدل لاہور کے اندر اور باہر پیکران آئین و قانون وکلائے کرام پر ڈنڈے برسائے جارہے تھے اور ان کو منتشر کرنے کیلئے غالباً آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے گئے ایک لہولہان بہادر وکیل کی تصویریں بھی اتاری اور چھاپی گئیں جبکہ وکلاءکی متوقع ریلی کی قیادت کرنے والی ایک خاتون وکیل سیدہ لبنیٰ تھیں لیکن ریلی ابھی برآمد نہیں ہوئی تھی کہ پولیس نے اندازہ کرلیا کہ اگر ریلی نکل گئی تو دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہوجائے گی چنانچہ ایوان عدل کے گیٹ بند کرکے وکلاءکرام کو ہدف بنالیا گیا، با رروم اور لائبریری تک مار کی گئی اور اس کے بعد سڑک پر پولیس افسران اور جوانوں نے کامیابی کے نشے میں دھت ہوکر بھنگڑا ڈالا، للکارے مارے اور اپنے اندازے کے مطابق وکیلوں کو بھگا دیا مگر اس صورت حال پر کئی وکلاءگرفتار بھی ہوئے اور بعد ازاں ان کو بھی جب ضمانت پر رہا کیا گیا تو انہوں نے بھی پولیس افسروں کے بھنگڑے کی یاد تازہ کرنے کیلئے اپنی خوش کا اظہار کرنے کیلئے بھنگڑا ڈالا حالانکہ وکلاءکو بھنگڑا ڈالنے کا موقع لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے عطا کیا کہ انہوں نے وکلاءکی درخواست پر آئی جی پولیس سے کہا کہ گرفتار وکلاءکو رہا کردیا جاتا جبکہ ایک روز قبل وکلاءنے اپنی طاقت آزمائی کیلئے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کے کمرہ عدالت اور چیمبر میں گھسنے کی کوشش بھی کی تھی چنانچہ صورت وہی پیدا ہوگئی کہ لاہور میں غالباً ایوب خان کے دور حکومت میں مظاہرین نے جلوس نکالا کہ”سر گنگا رام ہسپتال “کا نام تبدیل کر دیا جائے چنانچہ پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا اور جو مظاہرین اس لاٹھی چارج میں زخمی ہوئے ان کو پھر سر گنگا رام ہسپتال میں طبی امداد کیلئے داخل کردیا گیا۔
”بَہ ایں عقل و دانش ببا ید گریست“