قرض معافی کی عالمگیر مہم

عزیز ظفر آزاد ۔۔۔
بانیان پاکستان مجسمہ خلوص و دیانت ہونے کے ساتھ ساتھ ایثار و قربانی کے پیکر تھے ۔ حضرت قائداعظم نے آزادی کی چومکی جنگ لڑتے ہوئے اپنی بیماری کو سینے کے اندر نہ صرف چھپائے رکھا بلکہ اس کی خبر اپنی حقیقی اور چہیتی بہن تک کو نہ ہونے دیا ۔ قائد ملت جو ایک نواب زادہ تھے جب بطور وزیر اعظم پاکستان شہید ہوتے ہیں تو ان کی جرابیں اور بنیان پٹھی ہوئی تھیں یہی حال سردار عبدالرب نشتر ، خواجہ ناظم الدین اور دیگر زعما کا تھا جنہوں نے بڑی ناز برداریوں میں آنکھ کھولی مگر قومی زندگی کندھوں پر پڑنے کے بعد ٹھاٹ باٹ شان و شوکت کو خیر آباد کہتے ہوئے تعمیر وطن میں جتے رہے ۔دنیا نے دیکھا کہ ایک نومولود ریاست جس کا ڈھانچہ ایسے مخدوش حالات میں بنایا گیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ پاکستان کا پہلا بجٹ ہی فاضل بجٹ تھا جسے دیکھ کر دوست و دشمن دنگ رہ گئے تاہم چار سال کی قلیل مدت کے بعد ہندو کے ہاتھ بکے ہوئے کلرکوں اور انگریز کو سلیوٹ کرنے والے رنگروٹ گہری سازش کے ذریعے مملکت خداداد پر قابض ہوگئے ۔پھر اسلامی دنیا کی سب سے بڑی ریاست پر بونوں اور بوٹوں کا راج ہوگیا ۔ غلامانہ ذہنیت کے لوگ آفاقی پرواز تر ک کرکے حشرات الارض کی مانند رینگتے رہے ۔ اسلام کی تجربہ گا ہ کو بے ایمانوں کی تجربہ گاہ بنا دیا گیا ۔ قوم کی خاطر گھر لٹانے والوں کی مسند پر لٹیرے اور وڈیرے برجمان ہوگئے ۔ قوم کو لہو دینے اور بیٹے قربان کرنے والوں کو سیاست سے دور کرکے لینے اور مانگنے والے ریاست اورسیاست پر کچھ اس طرح قابض ہوئے کہ تاحال قوم و ملت ان کی ذہنی اولاد سے چھٹکارے کا تصور نہیں ۔ان ملامتی عناصر نے ملی افکار اور قومی امنگوں کو پامال تو کیا ہی تھا مگر ان کا بڑا جرم یہ ہے عوام کے لئے تعلیم صحت مواصلات صنعت جان و مال ثقافت مذہبی قومی روایات کی حفاظت غرض ایک فلاحی ریاست کی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی کی جگہ سامان تعیش حاصل کرکے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دباتے چلے گئے ۔ آج عالم یہ ہے کہ آدھے پاکستان کی آبادی اٹھارہ کروڑ سے تجاوز کرنے کو ہے جس میں پچاس سے ساٹھ فیصد چودہ سے انیس سال کے نوجوان ہیں جن کےلئے روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ تعلیم صحت اور روشن مستقبل کی کوئی کرن موجود نہیں مگر وہ غیر ملکی اداروں کے مقروض ضرور ہیں ۔
کشور حسین پر مسلط اشرافیہ کی بداعمالیوں اور خودغرضانہ حرکات کے باعث رب ذوالجلال ولاکرام کبھی زلزلہ اور کبھی سیلاب کے ذریعے عبرت کے پیغام بھیجتا ہے مگر ہماری الیڈ کلاس ٹس سے مس نہیں ہوتی وہ قرض اٹھاﺅ اور موج اڑاﺅ کے فارمولے پر کاربند ہے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہم آزاد مملکت ہونے کے باوجود اپنی خود مختاری عالمی اداروں کو گروی کر چکے ۔ ماہرین کے مطابق موجودہ مقرر کردہ جی ڈی پی کے اہداف 4.5% حاصل کرنا ممکن نہیں ۔ سابقہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے جو قرض پیرس کلب اور دیگر ادارو ں سے ری شیڈول کرائے تھے ان کو ادا کرنے کا وقت 2011ءسے شروع ہوتا ہے جو کسی طورممکن نہیں ۔ ہمیں تجارتی توازن بہتر کرنے کے لئے مزید قرض درکار ہیں جن کے عوض ان اداروں کی شرائط نہایت سخت ہونگی جس میں اہم سرکاری اداروں کی نجکاری پٹرولیم مصنوعات گیس اور بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ کے بعد اکتوبر سے پرچون سطح پر لگنے والے جی ایس ٹی کے نفاذ سے مہنگائی میں خطرناک حدتک اضافہ ہو جائے گا ۔ شرائط نہ ماننے پر قرض کی اقساط رکنے کا امکان ہے ۔ (جاری ہے)