غربت اور بے روزگاری دور کرنے کے لےے سستی اور وافر بجلی

خورشید احمد۔۔۔
ہمارے ملک میں غربت کی شرح میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، عام اندازے کے مطابق 60 فیصد غربت کی شرح میں اضافہ ہو گیا ہے اسے کم کریں۔ ملک میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ اور اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے اس پر جلتی کا تیل کا کام کر رہی ہے، پہلے ہی ہمارا ملک دہشت گردی کی وجہ سے گونا گوں اقتصادی، سماجی اور سیاسی مسائل کا شکار ہے اب طوفانی سیلاب نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان مشکلات سے نکلانے میں ہمت دے۔ آمین
سستی اور وافر بجلی ہماری صنعتی و زراعت کے لےے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس سے غربت اور بے روزگاری بھی دور ہو گی اس لئے ہمارے حکمران طبقہ کو بجلی کی پیداوار کی کمی اور مہنگائی کو دور کرنے کے لےے جنگی بنیادوں پر حسب ذیل اقدامات کرنے چاہئیں۔
1۔ قومی آمدنی و تعیش کی اشیاءکی درآمدات پر ضیاع کرنے کی بجائے سستی بجلی پیدا کرنے کےلئے نئے ڈیم اور ہائیڈرل پاور سٹیشن بنائے جائیں۔ اس وقت تربیلا اور منگلا سے بجلی کی قیمت ایک روپیہ پچیس پیسے فی یونٹ ہے جبکہ رینٹل پاور ہاﺅس و پرائیویٹ تھرمل پاور ہاﺅس کی 16 سے 18 روپے فی یونٹ قیمت دینی پڑی ہے۔
2۔ سندھ اور بلوچستان کے کوئلہ کے قیمتی ذخائر کو برائے کار لاکر نئے تھرمل پاور سٹیشن تعمیر کرائے جائیں۔
اس سلسلہ میں ہمارے ایٹمی کمیشن کے سائنسدانوں کی خدمات بہتر ٹیکنالوجی کے حصول کے لےے حاصل کی جائیں۔
3۔ بجلی کی چوری روکنے کے لےے خصوصی اقدامات کےے جائیں جو ملازمین بجلی چوری روکیں انہیں قابل قدر حوصلہ افزائی اور کام پر بجلی چوروں کی غنڈہ گردی کے خلاف ملازمین کو تحفظ دیا جائے کیونکہ اس وقت بعض صوبوں میں چالیس سے پچاس فیصدی بجلی چوری ہو رہی ہے اور ان کا اثر بھی بھاری نرخوں پر بجلی کا بل ادا کرنے والوں پر پڑتا ہے۔
4۔ واپڈا اور محکمہ بجلی کے 150 ارب روپے کراچی الیکٹراک سپلائی کمپنی اور دوسرے صوبوں کی حکومتوں سے وصول کےے جائیں تاکہ ادارہ سود پر قرضہ لے کر بنانے کی بجائے خود کفیل ہو۔
5۔بجلی میں ناجائز سیاسی دباﺅ پر آفیسران کی تعیناتی روکی جائے اور محنتی اور ایمان دار قابل انتظامیہ کے ارکان کی حوصلہ افزائی کرکے صارفین کو بہتر خدمات مہیا کرنے کا کلچر قائم کیا جائے۔
6۔ محکمہ بجلی کی کئی کمپنیاں قائم کرنے کی بجائے ماضی کی طرح ایک ادارہ ہو جس کے لےے فالتو انتظامی اخراجات مختص ہوں۔
7۔ بجلی کے قومی بحران پر عوام کو بجلی کی بچت کی مہم قومی سطح پر چلائی جائے اور اس پر پہلے صدر، وزیراعظم پاکستان اور دیگر وی آئی پی خود عمل کرکے دکھائیں تاکہ بجلی سے کارخانوں کو چلانے اور زراعت کی ضروریات پوری ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے پالیسی سازوں کو ملک کو بجلی کے بحران سے نکلالنے کی ہمت دے: آمین