دہشت گردی کیخلاف جنگ کا ایک مقصد پاکستان کواسلام سے دور کرنا بھی ہے

غلام اکبر ۔۔۔
رچرڈ پال نے کہا تھا…
’’ اگر ہم نے آگے بڑھ کر اسلامی خطرے کو ختم نہ کیا تو اسلام آگے بڑھ کر ہمیں ختم کرڈالے گا ‘‘
عالم اسلام کے بارے میں بالعموم اور پاکستان کے بارے میں بالخصوص امریکہ نے جو حکمت عملی اختیار کررکھی ہے اور جن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے انہیں سمجھنے کے لئے نیو کون تحریک کے اغراض و مقاصد اور صہیونی ایجنڈے کی باریکیوں پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔
جارج بش کے دور صدارت میں نیوکون تحریک کے کئی سرکردہ لوگ اہم عہدوں پر فائز تھے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ جو کچھ دنیا میں نائن الیون کے بعد ہوا وہ نائن الیون کے واقعات کے خلاف ردعمل تو نظر آتا ہی ہے مگر درحقیقت عراق اورافغانستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ پہلے سے ہی تیار تھا۔ایک مخصوص نظریاتی ایجنڈے کی تیاری پہلے سے ہی ہو چکی تھی۔ جیسے ہی نائن الیون کے واقعات پیش آئے متذکرہ منصوبے یا ایجنڈے کو فائلوں میں سے نکال لیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اسے عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کرلیاگیا۔ ڈک چینی اور پال وولفووٹز جیسے لوگ اس بات کے حق میں تھے کہ پہلے حملہ عراق پر کیا جائے لیکن جارج بش کے دوسرے مشیروں نے انہیں ایسا کرنے سے روکا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ نائن الیون کے واقعات کے ساتھ عراق کا تعلق ثابت کرنا بہت مشکل کام تھا۔ اس کے علاوہ اگر دہشت گردی کا تعلق ’’ اسلامی انتہا پسندی ‘‘ یا ’’ سیاسی اسلام ‘‘ کی کوکھ سے جنم لینے والی عسکریت کے ساتھ ظاہر کرنا مقصودتھا تو اس کے لئے افغانستان کو حملے کا ہدف بنانا ناگزیر تھا کیوں کہ اسلامی انتہا پسندی کو فروغ دینے والا اسامہ بن لادن بھی افغانستان میں تھا اور ’’ اسلامی سیاست ‘‘ یا ’’ سیاسی اسلام ‘‘ کے تصورات کو ریاستی ڈھانچے میں ڈالنے والے ملا عمر کا قلعہ بھی افغانستان تھا۔سٹیفن ہالپر نے اپنی تصنیف \\\"America Alone\\\"میں لکھا ہے کہ جس روز افغانستان پر حملے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ٗ اس روز جارج بش میٹنگ کے دوران پال وولفووٹز کو ساتھ والے کمرے میں لے گئے اور راز دارانہ انداز میں بولے۔ ’’ پہلے افغانستان ۔ پھر عراق ۔ میں جانتا ہوں کہ تم پر اسرائیلی لابی کا دبائو ہے کہ عراق پر حملہ کرنے کا یہ موقع ضائع نہ کیا جائے۔ لیکن پال عراق کی باری بھی جلد آجائے گی ۔ ہمارا ہدف اس وقت اسلامی دہشت گردی ہے۔ اور صدام حسین کواسلامزم کے ساتھ نتھی کرناہمارے لئے آسان نہیں ہوگا۔‘‘
جواب میں پال وولفووٹز نے کہا ۔ ’’ میں سمجھتا ہوں جناب صدر ۔ لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم افغانستان میں الجھ کر عراق کو نہ بھول جائیں۔‘‘
’’ تم رچرڈ پرل کو میری طرف سے یقین دلا سکتے ہو کہ افغانستان کے بعد عراق کی باری بھی جلد آجائے گی۔ ‘‘ جارج بش نے کہا۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ رچرڈ پرل کون تھا۔ اگر چہ نیو کون تحریک کے روحانی باپ کا درجہ ارونگ کرسٹل کو دیاجاتا ہے لیکن نیو کون ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور اس کے لئے ’’ فعال سالاروں‘‘ کا ایک لشکر تیار کرنے میں جو کام رچرڈ پرل نے انجام دیا اس کی کوئی برابری نہیں۔ رچرڈ پال ٗ جارج بش کی ٹیم کے پالیسی ساز شعبے سے وابستہ تھے اور انہیں ڈک چینی اور رمسفیلڈ دونوں اپنا ’’ گرو‘‘ مانتے تھے۔رچرڈ پرل کی ٹیم میں پال وولفووٹز کے علاوہ ایک بڑا نام پروفیسر برنارڈلیوس کا بھی تھا جنہوں نے ’’ اسلام ٗ عیسائیت اور مغرب ‘‘ کے موضوع پر درجنوں کتابیں لکھیں اور تاحیات یہ ثابت کرتے رہے کہ مسلمانوں کے زوال کی وجہ اسلام کی فطرت میں پائی جانے والی ’’ جمودیت‘‘ کے سوا اور کچھ نہیں۔برنارڈلیوس کا مشورہ دور جدید کے مسلمانوں کے لئے یہ تھا کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتے ہیں اور احساس کمتری سے نکل کر مہذب اور ترقی یافتہ مغرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے خواہشمند ہیں تو انہیں اسلام کی ’’فرسودہ ‘‘اقدار کو فیصلہ کن انداز میں ترک کرکے مغربی تہذیب کی قوت آفرین جدیدیت کو اپنانا ہوگا۔ اپنی ایک تصنیف Islam and the Westمیں برنارڈلیوس نے لکھا کہ مسلمانوں کی حالت زار کا سبب یہ ہے کہ عیسائیت نے تو اپنے آپ کو جدیدیت کے قالب میں ڈھال لیا لیکن اسلام ابھی تک روایات سے اپنی جان نہیں چھڑا سکا۔’’(جاری ہے)