دوستوں کی محفل میں

اسرار بخاری
قیام پاکستان کے بعد نصف مدت سے زائد ملکی اقتدار پر فوج کا قبضہ رہا ہے پاکستان جن سنگین حالات اور عوام جیسے اذیت ناک مسائل کا مسلسل شکار ہے اس کا اصل ذمہ دار کون ہے فوجی جرنیل یا سیاستدان؟ محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ نے لاہور پریس کلب میں ٹیلی فونک پریس کانفرنس سے خطاب کیا پیپلز پارٹی کے لیڈر عبدالقادر شاہین رابطہ کے ذریعہ تھے میں نے بے نظیر بھٹو سے یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ خود دانش ور ہیں خود فیصلہ کریں میں تو سیاستدان ہوں میری بات کو جانبدار ہی سمجھا جائے گا۔ بلاکی ذہین لیڈر نے بڑی خوبصورتی سے بالواسطہ طور پر جو کہنا تھا کہہ دیا بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان سے سوال کیا تو لگی لپٹی رکھے بغیر کہا طالع آزما جرنیل لفیٹیننٹ جنرل (ر) فیض علی چشتی 1977ءمیں جنرل ضیاءالحق کے فوجی انقلاب کے سرخیل تھے فوجی قبضہ کامیاب ہو تو انقلاب ناکام ہو تو بغاوت ہوتا ہے اس لئے جنرل چشتی اگر جرنیل حکمرانوں کو بری الذمہ قرار دیں اور سیاستدانوں کو موردِ الزام ٹھہرائیں تو باعث تعجب نہ ہونا چاہئے البتہ ایک خاص پہلو کی نشاندہی قابلِ غور ضروری ہے۔ یہ فائیو سٹار ہوٹل میں دس بارہ حضرات پر مشتمل مختصر محفل تھی جس میں میرے ساتھ والی نشست پر موجود واحد خاتون اداکارہ سنگیتا تھیں۔ تعمیر وطن پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ عبدالستار عاصم کا پرخلوص اصرار اس میں شرکت کا باعث بن گیا جس کا اہتمام تعمیر وطن پارٹی کے سیکرٹری جنرل عزیز اعوان نے کیا وہ اپنی پارٹی کے نام کی مناسبت سے تعمیر وطن کے جذبہ کو فروزاں کرنے کا مخلصانہ جذبہ رکھتے ہیں اور اس کےلئے تقاریب و سیمینار وغیرہ کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ جنرل فیض علی چشتی نے ”کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے“ کے مصداق فوجی حکمرانوں کی طرفداری اور خرابیوں کےلئے سیاستدانوں کی ذمہ داری کی بات سوالوں کی شکل میں کی ایوب خان کو کمانڈر انچیف کس نے بنایا‘ مدت پوری ہونے پر ریٹائر کس نے نہیں کیا‘ ملازمت میں توسیع کس نے دی کئی جنرلوں کو سپر سیڈ کر کے ضیاءالحق کو فوج کا سربراہ کس نے بنایا سینئر جنرلوں کو نظر انداز کر کے پرویز مشرف کو آرمی چیف کس نے بنایا کیا یہ فوجی حکمران تھے؟ سوال اٹھایا گیا۔ کیا مہربانی کا جواب ایسے دینا چاہئے تھا جنرل چشتی نے جواز پیش کیا پرانی انار کلی سے جو کچھ شروع ہونے والا تھا ہونے دیتے ملک کو تباہ کر دیتے پر سوال ہوا مگر پی این اے اور بھٹو میں معاہدہ طے پا گیا تھا پی این اے کے لیڈروں نے جھوٹ بولا ہے جس شخص نے ان کا معاہدہ سبوتاژ کیا اس کے وزیر کیوں بنے صرف پروفیسر غفور نے وزیر بننے سے انکار کیا تھا۔ ان سے کہا گیا یہ فہرست مفتی محمود نے دی ہے ہم رد و بدل نہیں کر سکتے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے حوالے سے سوال پر کہا وزیر اعظم ملک کا چیف ایگزیکٹو ہے وہ آرمی چیف کو سری لنکا میں‘ طیارہ میں یا میدان میں سبکدوش کر سکتا ہے۔ نواز شریف کا قدم آئینی تھا مگر یہ ضیاءالدین بٹ کہاں سے آ گیا۔ سینئر کی حیثیت میں پشاور کے کور کمانڈر سعید الظفر کو آرمی چیف بنایا جاتا تو کچھ نہ ہوتا سوال و جواب کی یہ نشست دیر تک جاری رہی البتہ میرے ساتھیوں خواجہ فرخ سعید‘ ایثار رانا اور منیب الحق نے دلچسپ جملوں سے محفل کو گرمائے رکھا۔ میرے بزرگ حمید اختر تمام عرصہ خاموش رہے مگر جب بریگیڈیئر (ر) یوسف نے کہا کہ فوجی جرنیل آ ہی گئے تھے تو کچھ ڈلیور کرنا چاہئے تھا گند صاف کرنا چاہئے تھا تو وہ اپنی خاموشی پر قابو نہ پا سکے فوجی جنرلوں کو آنے اور گند صاف کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے ایک صاحب نے جملہ کسا بندوق نے۔ بہرحال اس محفل کا حاصل وہ باتیں ہیں جن کے بین السطور کچھ کہانیاں اور بعض پیشن گوئیاں تھیں جن سے اپنی اپنی ذہنی استطاعت کے مطابق بہت کچھ اخذ کیا جا سکتا ہے۔