دعوے، تقریریں اور بیانات

رفیق غوری ۔۔۔
بچپن میں ہم بھی تقریریں کیا کرتے تھے ایسی تقریریں جن کے معنی اور مفہوم سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے رٹا لگا کر غلط یا صحیح تلفظ کے ساتھ بڑی تقریریں کیں اور پھر ہم بچپن سے پچپن کی طرف آ گئے۔ اب بچپن سے بھی آگے بڑھ جانے کے سبب یہ اعتراف کرنے میں کیا حرج ہے کہ ہماری ہر تقریر دلپذیر کسی اورکی لکھی ہوئی ہوتی تھی جن میں ابتدائی طور پر ہماری زبان سے ادا ہو جانے والی تقریریں ہمارے ابا جی لکھ دیا کرتے اور ساتھ ہی تقریر کا ڈھنگ، اشارے کنایے کے ساتھ ساتھ سمجھانے کیلئے بڑی محنت کیا کرتے تھے۔ یہ تقریریں کرنے اور کافی تعریفی اسناد وصول کرنے کے دنوں میں ہمارے ذہن میں یہ بات راسخ ہو گئی تھی کہ ہر مقرر بھی تقریر کرتا ہے۔ وہ اس کے اباجی کی لکھی ہوئی اور رٹائی ہوئی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کی تقریریں ریڈیو پر سن کر اور اخبارات میں پڑھ کر معاً ذہن میں خیال آتا کہ کیا ان ڈکٹیٹروں کے حکمرانوں کے اباجی اب تک زندہ ہیں جو انہیں اچھی اچھی تقریریں لکھ کر دیتے ہیں جنہیں یہ ڈکٹیٹر رٹ لیتے ہیں۔ ایک تقریر جو اکثر سننے اور پڑھنے میں آتی تھی اس میں یہ مخصوص جملہ ہوا کرتا تھا۔ ”ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے“۔ ”جو میلی “ آنکھ ہماری سرحدوں کی طرف دیکھے گی وہ آنکھ ہی ہم نکال دیں گے۔ اسی طرح ہر جملہ بھی یاد ہے کہ ایسی زبانیں گدیوں سے نکال لی جائیں گی جن سے ہمارے نظریہ کے خلاف باتیں ہوں گی۔ قارئین! میری عمر کے لوگوں کو اس تقریر کا وہ جملہ آج بھی یاد ہے کہ دشمن کو پتہ چل جائے گا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ان مقررین، مدبرین بلکہ ہماری ذاتی تقریریوں میں بھی اکثر اس طرح کے جملے استعمال ہوا کرتے تھے کہ جو انگلی ہماری طرف اٹھے گی، وہ ہاتھ سمیت کاٹ دی جائے گی جیسا کہ پہلے اشارہ کیا۔ اکثر تقریریں سننے، پڑھنے کے بعد یہ خیال آیا کرتا تھا کہ ہونا ہو فاضل مقرر کو اس کے اباجی نے ہی تقریر لکھ کر دی ہے۔ اب آج کے راہنماﺅں، حکمرانوں کی تقریریں پڑھنے، سننے کے بعد خیال آتا ہے کہ ہماری طرح ان مقررین کے ابا جی بھی فوت ہو گئے ہوں گے اس لئے کہ ان کی تقریروں میں سے اکثر کی تقریروں میں وہ پرانا جذبہ موجود نہیں ہے۔ آج کے ہمارے صدر، وزیر اعظم جس طرح کی تقریریں اکثر کرتے ہیں ان سے بھی تسلی، تشفی نہیں ہوتی اور خیال آتا ہے کہ ایسی تقریروں سے اطمینان کیسے ہو سکتا ہے جو والد ماجد کے اٹھ جانے کے بعد کی جائیں یا جو استادوں کی رٹائی ہوئی نہ ہوں۔ صرف کرائے کے سپیچ رائٹروں نے لکھ کر دی ہوں جنہیں جلدی جلدی میں رٹ کر ریڈیو، ٹیلی ویژن یا کسی اور اجتماع میں دہرا دیا ہو۔ اب ہر حکومتی یا غیر حکومتی سیاستدان کی تقریر تقریباً ایک ہی طرح کی ہو گئی ہے۔ شائد ایسا نہیں رہا کہ کوئی کہہ سکے۔
بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
میں نے اور آپ نے اکثر تقریریں سنی، دیکھی اور پڑھی ہوں گی مگر ہر تقریر کے بعد یہ نہیں کیا جا سکتا کہ گویا میرے دل میں ہے کہ ہمارے تو دل ہی بجھ گئے ہیں، جل کے راکھ ہو گئے ہیں۔