تحریک آزادی کشمیر۔ تکمیل پاکستان

محمد صادق جرال........
کشمیر کی تاریخ ہزاروں برسوں پر محیط ہے، ان برسوں کے دوران معصوم کشمیری گردنوں تک دھنسے رہے۔ ان کی کیفیت دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، حق اور باطل کی لڑائی دنیا میں ہمیشہ رہی ہے، لیکن جیت ہمیشہ حق کی ہوئی ہے۔ جتنے بھی آمر آئے انہوں نے طاقت کے ذریعہ لوگوں کے بنیادی حقوق ختم کرنے کی کوشش کی لیکن طاقت کے بل بوتے پر کبھی کسی کو زیر نہیں کر سکے، یہی تاریخ بھارت کے مقبوضہ علاقہ میں دہرائی جا رہی ہے جتنا ظلم کیا اتنا ہی کشمیریوں کا جذبہ نکھر کر سامنے آیا ہے، تنازعہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے جس میں برطانیہ، جواہر لال نہرو، ڈوگرہ حکمرانوں اور شیخ عبداللہ نے سازش سے پنجاب کے مسلم اکثریت علاقے بھارت کے سپرد کر دیئے تاکہ بھارت کو رسائی حاصل ہو سکے اور بھارت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد کشمیریوں نے اپنے حقوق آزادی کی جدوجہد شروع کردی، بھارت اس کو اقوام متحدہ میں عالمی برادری کے سامنے لے کر گیا وہاں سے استصواب کا فیصلہ کرایا۔
مہاتما گاندھی اور پھر جواہر لال نہرو نے اپنی پارلیمنٹ کے خطاب میں آل انڈیا ریڈیو کے خطاب میں پھر پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان کے نام ایک ٹیلی گرام کے ذریعے اپنا وعدہ دہرایا اور کہا کہ اگر کشمیری لوگ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ افسوس کہ بھارتی قیادت نے وعدہ پورا نہیں کیا، بلکہ پاکستان کو عدم استحکام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، 63 سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق، حق خودارادیت نہیں دیا گیا۔ جس کا اقوام متحدہ اور بھارت نے وعدہ کیا تھا، کشمیریوں نے بھارتی ظلم و ستم اور بربریت کے خلاف علم آزادی بلند کیا ہوا ہے اور اب کشمیری نوجوان اس کا ہراول دستہ ہیں، نہتے کشمیری نوجوان بھارت کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں پرامن جلوس نکال کر بھارت سے کشمیر چھوڑنے دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جس کے جواب میں بھارت فوجی انہیں گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کشمیر کی آزادی تحریک کا پہلا مرحلہ 1947، دوسرا مرحلہ 1989 اور اب 10 جون 2010 سے سلگتی چنگاری شعلہ جوالا بن چکی ہے۔ اب بات ثابت ہو گئی ہے کہ استصواب کا وعدہ اور یقین دہانی 1947ءمیں صرف مجاہدین کو روکنے کے لےے تھی۔ اس کے بعد بھارت نے کشمیر میں ہمیشہ اپنے قدم جمانے کی کوشش کی اور پھر جب اس کی گرفت مضبوط ہوتی ہے تو اٹوٹ انگ اور جب تحریک آزادی کا ضرور ہوتا ہے تو پھر مذاکرات کی رٹ لگانا شروع کر دیتا ہے۔ اس وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تین خوفناک جنگیں ہو چکی ہیں اور اب ایٹمی جنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کے سابق فوجی سربراہوں اور تجزیہ نگاروں نے بھی بھارتی فوج کی ناکامیوں اور کشمیریوں کی جدوجہد کا سیاسی حل نکالنے پر زور دیا ہے۔ آل پارٹی کانفرنس کی ناکامی ہو چکی ہے اور بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے پیکیج کو بھی کشمیریوں نے مسترد کر دیا ہے۔ آل پارٹی حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے بھارت کو مذاکرات سے پہلے کہا کہ کشمیر کو منتازعہ علاقہ تسلیم کیا جائے۔ کالے قوانین ختم کرنے بھارتی فوج کا کشمیر سے انخلائ، قیدیوں کی رہائی، بنیادی انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کشمیری اور پاکستانی عوام کو پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی اور اس کے چیئرمین جناب مولانا فضل الرحمن کی میڈیا پر مسکراہٹ اور یہ اظہار کہ کشمیر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا معنی خیز اور کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کشمیری عوام پارلیمنٹ اور سینٹ میں منظور کی گئی قرارداد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ نیشنل عوامی پارٹی نے مخالفت کرکے اپنی پاکستانی دشمنی اور کشمیری عوام سے محبت کا ثبوت نہیں دیا۔او آئی سی وزارت خارجہ اجلاس میں کشمیریوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔
اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان اور پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھرپور نمائندگی کی جس سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے، لہٰذا ضرورت اس کی ہے کہ دیگر معاملات کو بالا تر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ کے رہنما میاں نوازشریف اور پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کو کشمیری قیادت اعتماد میں لے کر ایک ٹھوس اور جامعہ پالیسی تشکیل دے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بے گناہ کشمیریوں کا بے دریغ خون بہانا سے روکنے اور کالے قوانین کے نفاذ کو ختم کرنے کے لےے اقوام متحدہ سے رجوع کرے۔