بابری مسجد کا متعصبانہ فیصلہ

کالم نگار  |  احسان اللہ ثاقب

بابری مسجد کی اراضی کے بارے میں الہ آباد ہائیکورٹ کے متعصبانہ فیصلے نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ریاست نہیں ہے بلکہ ایک خالص ہندو ریاست ہے جس پر انتہا پسند جنونی ہندو¶ں کا راج ہے قبل ازیں اس کا بھرپور مظاہرہ 6 دسمبر 1992ءکو دیکھنے میں آیا تھا جب لاکھوں ہندو¶ں نے وی ایچ پی‘ شیوسینا اور بی جے پی کی مدد سے بابر مسجد کو شہید کر دیا تھا جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ فسادات میں 2 ہزار مسلمان ہلاک ہوئے۔ تاریخی حوالے سے یہ مسجد مسلمانوں کی ملکیت ہے کیونکہ یہ 482 سال قبل مغلیہ حکمران ظہیر الدین بابر کے زمانے میں تعمیر کی گئی تھی۔ متعصب ہندو¶ں نے 1528ءمیں اس کی تعمیر کے بعد ہی احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ تاہم تقسیم ہند کے بعد دسمبر 1949ءمیں جنونی ہندو¶ں نے رات کے وقت بابری مسجد میں مورتیاں رکھ دیں جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے عدالت کا درازہ کھٹکھٹایا۔ حکومت نے اس مسجد کو متنازع قرار دے کر بند کرا دیا تھا۔جہاں تک بابری مسجد کے قانونی پہلو کا تعلق ہے ہندو¶ں کا کہنا یہ ہے کہ بابر نے جس مقام پر یہ مسجد تعمیر کی وہ رام کی جائے پیدائش ہے اور وہاں ایک مندر موجود تھا۔ 1853ءمیں یہ تنازعہ پہلی بار فرقہ وارانہ فسادات کا باعث بنا۔ انگریز حکومت نے مسجد کے اندرونی حصہ کو مسلمانوں اور بیرونی حصہ کو ہندو¶ں کے استعمال کیلئے اجازت دے دی۔ 1885ءمیں منہت وگھو ویر داس نے رام چبوترے پر سائبان تعمیر کرنے کی اجازت مانگی لیکن فیض آباد کی ضلع عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی 1949ءمیں مسجد کے اندر رام کی مورتی نمودار ہونے کا دعویٰ کیا گیا مگر مسلمانوں نے کہا کہ یہ ہندو¶ں کی کارستانی ہے۔ حکومت نے احاطہ کو متنازع قرار دے کر پھاٹکوں پر تالے لگوا دئیے۔ 1950ءمیں عدالت نے جنم بھومی پر نصب مورتیوں کی پوجا کرنے کی اجازت دے دی۔ 1959ءمیں نرمو ہی ہندو میدان میں آگئے اور متنازعہ جگہ کے دعویداروں میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے خود کو اس جگہ کا رکھوالا ظاہر کیا جہاں رام پیدا ہوئے تھے۔18 دسمبر 1961ءکو اتر پردیش سٹی سنٹرل وقف بورڈ نے مسجد اور اس سے متصل اراضی کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔ مسلمانوں نے اپنے حقوق کا دفاع کرنے کیلئے بابری مسجد ایکشن کمیٹی قائم کر دی۔ 23 اکتوبر 1989ءکو فیض آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا 4 مقدمات خصوصی بنچ کو منتقل کر دئیے گئے۔ اسی برس دشوا ہندو پریشد نے مسجد سے متصل اراضی پر رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔ 1990ءمیں ہندو¶ں نے بابری مسجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا مگر دو سال بعد 1992ءمیں اسے مکمل طور پر شہید کر دیا۔الٰہ باد ہائیکورٹ نے اپنے حالیہ فیصلہ میں کہا ہے کہ اراضی تین ماہ تک مرکزی حکومت کے پاس رہے گی۔ مسجد کے اصل گنبد کے نیچے جہاں رام کی مورتی تھی اس کو وہاں سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ دو حصے ہندو گروپوں رام جنم بھومی اور نرموہی اکھاڑ دئیے گئے ہیں جبکہ ایک حصہ سنی وقف بورڈ کو دے دیا گیا ہے۔ فیصلہ سنانے کے بعد تینوں ججز اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔ فیصلہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سنی بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی نے الٰہ باد ہائیکورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے تاہم بی جے پی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب مسلمان متھرا اور کاشی بھی ہمارے حوالے کر دیں۔ بابری مسجد سے متعلقہ متعصبانہ فیصلے اور بھارت کی ہندو تنظیموں کے ردعمل سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بھارت ایک ہندو ریاست ہے جس میں مسلم اقلیت کے سیاسی‘ مذہبی اور سماجی حقوق محفوظ نہیں ہیں اور وہ ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ حقیقت دو قومی نظریے کو ثابت کرتی ہے۔