انقلاب کی دستک

کالم نگار  |  پروفیسر محمد مظفر مرزا

اللہ رب العزت نے کائنات کی تخلیق کے حوالے سے بے شمار اسرار و رموز پنہاں فرمائے ہیں، لیکن اولاد آدم کو اس کائنات کی پہچان اور تسخیر کیلئے اپنے احکامات بھی قرآن پاک میں فرما دئیے ہیں۔ یہ حقیقت ابدی ہے کہ قرآن الحکیم کا اصل منبع و مرکز انسان اور اس کے تمام احوال و اقعی سے ہے اور ہدایات اور احکامات کے حوالے سے بھی صرف انسان کو مخاطب فرمایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کا تعلق انسان ہی سے ہے اور انسان ہی جوابدہ ہے۔ اقوام عالم کی تاریخ بدلتی، سنورتی اور بگڑتی رہتی ہے، وہی اقوام نقشہ کائنات پر زندہ و پائندہ رہتی ہیں جن میں تنظیم، اتحاد اور مستقبل میں زندہ رہنے کا جذبہ کار فرما ہو، پاکستان عزم عالیشان کو تخلیق پذیر ہوئے تقریباً64 برس ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک اجتماعی قومی تنظیم و ترتیب نہ ہوسکی۔ حضرت قائداعظمؒ نے تین اصول فرمائے تھے۔ ایمان ، اتحاد اور تنظیم۔ لیکن شومئے قسمت کہ ان اصولوں میں سے ایک پر بھی عمل نہ ہوسکا۔ یہ خوش قسمتی تھی کہ تقسیم ہند سے پہلے مسلمان ایک قوم تھے، آج ہم پاکستان میں پاکستانی قوم تلاش کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ حضرت قائداعظمؒ اور ان کے معتمد رفقائے کار کے دنیائے فانی سے رخصت ہوجانے کے بعد سارا ملک درندوں اور وحشی جانوروں کے حوالے ہوگیا اور پورا معاشرہ وحوشستان بن گیا۔ وہ پاکستان کو اپنے آباﺅ اجداد کی ملکیت تصور کرتے رہے۔ اپنے سیاسی جانورانہ حقوق کا سکہ جمالیا، یہ ہماری قومی بد قسمتی تھی اور ہنوز یہی حال تا حال جاری و ساری ہے۔ لوٹ کھسوٹ، کرپشن، بے انصافی کو اعلیٰ ترین انسانی وصف تصور کیاجانے لگا۔ وہ اعلیٰ مقاصد اور معاملات جن کیلئے پاکستان تخلیق کیا گیا انھیں پس و پشت ڈال دیا گیا۔ آج تک نہ حضرت علامہ اقبالؒ کے پیغامات پر عمل کیا گیا اور نہ ہی حضرت قائداعظمؒ کے فرمودات پر۔ پاکستان کے دستور کو گھر کی لونڈی سمجھ لینا کہاں کی سیاست و حکومت ہوسکتی ہے۔ ایک مثلث ہے جس میں قومی اور سیاسی احوال و کیفیات منجھدہار کی طرح برسر پیکار ہیں۔ عدلیہ، حکومت اور فوج، مسلح افواج کا کام ہے سرحدوں کی حفاظت اور سرحدوں کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ کا قلع قمع کرنا اگر انہیں قومی اور سیاسی موفیوں اور گنجلک دھاروںکو سنوارنے کیلئے اپنا قیمتی وقت صرف کرنا پڑے تو سا لمیت اور استحکام پاکستان کا مسئلہ پس منظر میں چلا جائے گا اور یہ انتہائی بدبختی کا شاخسانہ ہوگا۔مجھے بتایاجائے کہ کیوں ہر پاکستانی بلوچی، پٹھان، سندھی اور پنجابی ہے۔ پاکستان کی تخلیق صوبائی تعصبات پر یالسانی تعصبات پررکھی گئی تھی۔ یہ انتہائی شرمناک پہلو ہے اور ہر سچا پاکستانی، پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے شاکی ہے اور خون کے آنسو رو رہا ہے۔ایسا کیوں ہے حکومت
وقت کی سیاسی اور قومی حب الوطنی اور وضعداری کا تقاضا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین شعبوں میں کھنچاﺅ اور تناﺅ کے اسباب و علل کو ختم کیاجائے۔ اتنی بھونڈی اور لا یعنیت پر مبنی سیاست دنیائے فانی کے سیاسی نظریات و افکار میں پہلی مرتبہ نظر آرہی ہے اور کتنی ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ ہورہا ہے ، کوئی بھی شرف انسانیت کا حامل انسانی یہ کیسے برداشت کرسکتا ہے۔اس وقت اگریہ کہا جائے کہ پاکستان کا پورا معاشرہ ہی وحوشستانی معاشرہ بن گیا ہے تو کوئی سیاسی غلطی کا ارتکاب نہیں ہوگا۔ مجھے یاد ہے کہ جنرل ایوب خان کو جب گلیوں میں بچوں نے کتا کتا کہا تو غیرت و حمیت کے حامل صدر ایوب خان اپنے گاﺅں چلے گئے اور پھر ایسے گئے کہ مستقل طورپر واپس نہ آسکے۔ غیرت و حمیت ایک ایسا انسانی وصف ہے،جو خدا تعالیٰ کیدین ہے جسے بحال رکھنا بہت اہم ہوتا ہے یہاں یہ بھی عرض کردینا بے جانہ ہوگا کہ پاکستان کے چاروں اطراف کے جغرافیائی احوال کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلح افواج اور اس کے آرمی چیف جناب اشفاق پرویز کیانی صاحب کوامتحان میں نہ ڈالا جائے اور عدلیہ کے احکامات پر پورا پورا عمل کیاجائے۔پاکستان کسی کی بھی جاگیر نہیں ہے پاکستان کی حضرت قائداعظمؒ اور حضرت علامہ اقبالؒ کے افکاراور نظریات کی روشنی میں ترتیب و تنظیم کرنے کا اہتمام کریں وگرنہ خونی انقلاب آپ کے درودیوار پردستک دینے کیلئے تیار ہے۔