امریکہ کو گارنٹیاں بمقابلہ قومی خود مختاری

ڈاکٹر شیریں مزاری ۔۔۔
پاکستانی ریاست قومی خود مختاری اور اپنے شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت کو نقصان پہنچانے کیلئے کہاں تک جانے کیلئے تیار ہے؟ 2004ء سے امریکہ نے پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان میں مارے جانے والے بیشتر معصوم پاکستانی شہری ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر ان پاکستانیوں کی فہرست ہے جو مشرف حکومت نے وصولیاں کر کے امریکہ کے حوالے کئے جن میں انتہائی اہم نام ڈاکٹر عافیہ کا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے حوالے نہیں کیا گیا بلکہ امریکہ کے خفیہ طور پر سرگرم اہلکار اسے لے گئے جبکہ اس سے بھی بڑی بری طرح ہماری سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی حالت زار کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر اپنے ہی شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتی جنہیں غیرملکی ایجنسیاں اغوا کر رہی ہیں۔
اوباما کے ایوان صدر میں آنے کے بعد ڈرون حملوں میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے اور جیسا کہ امریکہ کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ یہ حملے پاکستان کی سویلین قیادت اور فوج کی اجازت اور تعاون سے کئے جا رہے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ڈرون حملوں کے خلاف قومی اتفاق رائے کے باوجود پاکستانیوں کے قتل کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حکومت اس ایشو پر عوام سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے۔ 2004ء کے شروع سے شہر میں کسی بھی مہینہ سے زیادہ حملے کئے گئے جن کی تعداد 20سے زائد ہے۔ ڈرون حملوں کے ساتھ پاکستان کے طول و عرض میں امریکہ کے ظاہر و خفیہ اہلکاروں کی موجودگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس میں نہ صرف امریکی سپیشل فورسز کے اہلکار ہی نہیں بلکہ سی آئی اے، ایف بی آئی آپریٹوز اور بدتر یہ کہ پرائیویٹ کنٹریکٹرز ڈائن کواپس اور ایکس ای (سابق بلیک واٹر) بھی شامل ہیں جن کی پاکستانی زرخرید معاونت کر رہے ہیں اور پاکستانی حکومت کی جانب سے ہلکا سا احتجاج بھی نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ پوری ریاستی مشینری زرخریدوں کے ٹولے کی شکل اختیار کر چکی ہے جو پاکستان اور اس کے لوگوں کو فروخت کرنے میں مصروف ہے۔ موجودہ سیاسی حکومت کی جانب سے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ وہ تو محض ان اہم گارنٹیوں پرعملدرآمد کر رہی ہے جو مشرف حکومت نے امریکہ کو دی تھیں لیکن یہ دلیل اطمینان بخش نہیں کیونکہ یہی حکومت یہ دعویٰ بھی کر رہی ہے کہ وہ مشرف حکومت کی آمرانہ نشانیوں کو ختم کر رہی ہے۔ معاملہ جو بھی ہو آخر ایک جمہوری منتخب حکومت اپنے ہی لوگوں و قتل کرنے کی اجازت دینے کی غیرمعمولی گارنٹیاں کیسے دے سکتی ہے؟ عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس معاملہ سے ہمارے اپنے لوگوں اور اس سرزمین کے قانون کے تحت نمٹنا چاہئے۔ ریاست اور حکومت اپنی اس ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتیں جو اس پر اپنے شہریوں کے حوالے سے عائد ہوتی ہے۔ خصوصی طور پر اقتدار میں آنے والی موجودہ حکومت جو ان دنوں یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتی کہ اسے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔ بدتر بات یہ ہے کہ کسی انسان کو محض عسکریت پسند ہونے کے شبہ میں قتل کر دیا جائے لیکن پھر ڈرون حملوں میں دیگر معصوم لوگوں کے مارے جانے پر صدر کے یہ ریمارکس جن کا حوالہ باب وڈورڈ کی کتاب ’’اوباماز وارز‘‘ میں دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی عمل کا حصہ ہے۔
جہاں تک فوج کا تعلق ہے اس کی جانب سے اپنے شہریوں اور علاقے کو ڈرون حملوں کی شکل میں امریکی فوج کے حملوں سے نہ بچانے کا جو جواز پیش کیا جاتا ہے وہ بھی کہیں زیادہ نامناسب ہے۔ کہ کہتے ہیں کہ ہم تو سویلین حکومت کے احکامات کی پیروی کر رہے ہیں۔ کیا یہ وہی ہدایات ہیں جن کی وہ مشرف دور میں پیروی کر رہے تھے؟ معاملہ جو بھی ہو اس ملک نے بھاری دفاعی بجٹ برداشت کرنے کیلئے بھاری قربانیاں دی ہیں تاکہ اس کی مسلح افواج کو بہترین دفاعی سامان فراہم کیا جائے جس کے بدلے وہ توقع کرتے ہیں کہ یہ فوج بیرونی فوجی حملوں کی صورت میں اپنی سرحدوں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کریگی نہ کہ ان کی حمایت کریگی اور بیرونی حکم کی تعمیل میں اپنے ہی شہریوں میں چڑھائی کریگی۔ مسلح افواج یہ دلیل دے سکتی ہیں کہ وہ وفاقی حکومت کی ہدایات پر عمل کرتی ہیں جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 245کے تحت ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’مسلح افواج دفاعی حکومت کی ہدایات کے مطابق بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے میں پاکستان کا دفاع کریں گی۔ لہٰذا ہم شہریوں کے لئے جو سوالات اٹھتے ہیں وہ یہ ہیں:پہلا، اگر وفاقی حکومت مسلح افواج سے کہتی ہے کہ وہ ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کی اجازت دے تو کیا مسلح افواج اس کی تعمیل کریں گی؟ کیا اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ درست ہے؟
دوسرا، کیا وفاقی حکومت قانونی طور پر ایسا قدم اٹھا سکتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو حتمی تجزیہ میں بیرونی جارحیت کے خلاف ملک کا تحفظ کون کرے گا؟ اتفاق سے ہم میں سے بہت سے لوگ سادہ لوحی کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلح افواج بیرونی دشمنوں وغیرہ سے پاکستان اور اس کے علاقے کا دفاع کرنے کا حلف اٹھاتی ہیں لیکن جب کوئی آئین کے شیڈول III میں مسلح افواج کا حقیقی حلف دیکھتا ہے جو اس نویت کی کسی بات کا ذکر نہیں کرتا وہ آئین پاکستان کے تحفظ اور کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کا حلف اٹھاتی ہیں لیکن کہیں بھی حلف میں علاقے یا عوام کے تحفظ کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ آرٹیکل 245 اور مسلح افواج کے حلف کا جائزہ لینے کے بعد صاف بات یہ ہے کہ بطور پاکستانی شہری میں خود کو اتنا محفوظ نہیں سمجھتی جتنا کہ میں سمجھتی رہی ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ کل کو اگر وفاقی حکومت فوج کو حکم دیتی ہے کہ وہ ہمارے دفاع اور ایٹمی اثاثوں کو بھی بیرونی طاقت کے حوالے کر دے تو پھر ہم کہاں ہوں گے؟ یہ ایشو اب بڑے سنگین نوعیت کے ہیں کیونکہ پاکستانی ریاست کی سازش سے امریکی ڈرون حملے واحد بیرونی جارحیت نہیں ہے جس کا اس وقت ہمیں سامنا ہے۔ نیٹو نے ہمارے اپنے علاقے میں پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے گن شپ ہیلی کاپٹرز فاٹا کے عوام کو بلا روک ٹوک نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستانی ریاست کی جانب سے ہلکے سے احتجاجی الفاظ سنے گئے ہیں لیکن ہم ابھی تک اس بات کے منتظر اور مشاہدے کے آرزومند ہیں کہ ہماری مسلح افواج پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف بیرونی فوجی جارحیت میں توسیع کے خلاف ہماری سرحدوں کا دفاع کریں گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نیٹو نے پاکستان کے اندر اپنے حملوں کو ’’اپنے دفاع کا حق‘‘ قرار دیتے ہوئے دفاع کیا ہے جبکہ پاکستانی خود اپنے علاقے پر ایسا کوئی حق رکھتے دکھائی نہیں دیتے۔ ایشو کو الجھانے کیلئے نیٹو ایساف اور اقوام متحدہ مینڈیٹ کے حوالے کو استعمال کر رہا ہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایساف نیٹو نہیں ہے اور نیٹو نے زبردستی ایساف یو این مینڈیٹ پر قبضہ کیا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے اس کے قانونی ہونے کا سوال اہم ہے کیونکہ یہ دو طاقتیں نظام کے خاتمہ کے بعد سے اپنے مینڈیٹ اور آپریشنل دائرے کو توسیع دے رہی ہے۔ لہٰذا افغانستان کے تناظر میں اس کے قانون ہونے کا ایشو آخر کیونکہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ یہ علاقے سے باہر کا آپریشن ہے۔ نیٹو قانونی لحاظ سے اقوام متحدہ کے سسٹم کے ذریعے ایک اجتماعی دفاعی تنظیم ہونے کا جواز رکھتا ہے اور یہ حقیقت اسے اقوام متحدہ کے چیپٹر VII، آرٹیکلز 13-52اور چیپٹر VIIکے آرٹیکل IIمیں یکجا کئے گئے اجتماعی سیلف ڈیفنس کے نظریہ کے طور پر دی گئی ہے جس میں بہت واضح اور محدود فریم ورک میں اجتماعی دفاعی تنظیموں علاقائی اجتماعی دفاعی تنظیموں کو ان کی ممبرشپ کے علاقے میں کام کرنے کیلئے کہا گیا ہے اور فیصلہ سازی کو ان کی ممبر شپ تک محدود رکھا گیا ہے۔ نیٹو کی یورپی اٹلانٹک ممبر شپ کے جاری رکھنے کو دیکھتے ہوئے یہ بات کسی قدر پریشان کن ہے کہ نیٹو خود کو ایک اجتماعی دفاعی تنظیم سے (نیٹو چارٹر کا آرٹیکل 5 یقینی طور پر اجتماعی دفاع کے حوالے سے ہے) ایک اجتماعی سکیورٹی تنظیم میں بدل رہی ہے تاکہ اس کے ارکان کے مفادات یا شاید مستقبل میں مرضی کے تشکیل دئیے جانے و الے اتحادوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کی اپنی یونیورسل ممبر شپ کے سوا کسی بھی اجتماعی سکیورٹی تنظیم کے قیام کا کوئی جواز نہیں ہے۔
علاقائی تنظیموں کے تناظر میں بھی انکی کارروائیوں کیلئے اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ضروری ہے اور یہی بات ہے جہاں افغانستان کا معاملہ غیرواضح ہے۔ نائن الیون کا بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد1386(دسمبر 2001ئ) کے ذریعے افغانستان کیلئے انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف)کی منظوری دی تھی جیسا کہ دسمبر 2001ء کی منظوری دی تھی جیسا کہ دسمبر 2001ء کے بون سمجھوتے میں کہا گیا ہے کہ کابل سے آگے ایساف کی دیگر اربن سنٹرز اور علاقوں تک توسیع اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ذیلی قراردادوں کے ذریعے مناسب طریقے سے منظوری دی گئی ہے۔ لہٰذا نیٹو کس طرح ایساف میں داخل ہوئی؟ کیا نیٹو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ملوث کیا یا نیٹو نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اپنے ریکارڈ پر جو دستیاب ہے و ہ یہ ہے کہ اپنے سیکرٹری جنرل کے نیٹو نے 2اکتوبر 2003ء کو ایک خط کے ذریعے یو این سیکرٹری کو آگاہ کیا کہ 11اگست 2003ء سے نیٹونے انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) و سٹریٹجک کمانڈ کنٹرول اور کوآرڈی نیشن سنبھال لی ہے۔ اس کے بعد نیٹو سیکرٹری جنرل کی جانب سے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کو ایک اور خط کے ذریعے آگاہ کیا گیا کہ افغانستان کے اندر انٹرنیشنل اسسٹنس فورس (ایساف) میں نیٹو کے کردار کیلئے طویل مدتی حکمت عملی پر نارتھ اٹلانک کونسل کا سمجھوتہ ہوا ہے۔ یہ دونوں خطوط اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے صدر کو اس وقت کے یو این سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے 7اکتوبرکواس درخواست کے ساتھ بھجوائے کہ ان پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کرائی جائے۔ لہٰذانیٹونے بڑے موثر طور پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو اپنے حتمی فیصلہ سے آگاہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں اس کی موجودگی قانون طور پر قابل اعتراض ہے۔ دریں اثنا پاکستان کیلئے بنیادی سوال جس کا سول اور فوجی قیادت کو لازمی جواب دینا چاہئے یہ ہے کہ امریکہ کو دی گئی نام نہاد حکومتی گارنٹیوں کی تکمیل کیلئے ریاست اپنے عوام اور اپنی خود مختاری کا تحفظ کیلئے کہاں تک کمپرومائز کریگی؟