آمریت سے جمہوریت سے آمریت

(اختر علی مونگا)........
مسافر بسوں پر لکھا ہوتا ہے لاہور راولپنڈی لاہور یعنی لاہور سے راولپنڈی اور پھر راولپنڈی سے لاہور اور اسی طرح باقی مقامات کےلئے۔ یعنی بار بار اُسی چکر میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اسی طرح سال ہا سال سے پاکستان میں بدقسمتی سے بلی چوہے کا کھیل جاری ہے۔ جمہوریت ہوتی تو ہے لوگ مارشل لاءکی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور مارشل لاءکے دور میں جمہوریت کےلئے تحریکیں چلاتے ہیں اور تمام حربے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ کیا لوگ بے سمجھ ہیں، Immature ہیں، متلوّن مزاج ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ کسی بھی حکومت سے وہ بہت جلد بدظن ہو جاتے ہیں۔ ساری دنیا میں جمہوریت کو حکومت کی بہترین شکل مانا جاتا ہے۔ لیکن پاکستانی مِن حیث القوم اس جمہوریت سے بہت جلد اُکتا جاتے ہیں اور ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے فوج کو پکارنے لگتے ہیں۔
ہمارا خیال تھا کہ دونوں بڑی پارٹیاں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو بہت ساری تکلیفیں اٹھانے کے بعد اتنی عقل آگئی ہوگی کہ وہ مفاہمت کا راستہ اختیار کریں اور ایک دوسرے کو برداشت کریں اور ایسے حالات ہرگز پیدا نہ کریں کہ جس سے حکومت Unstable یا حالات کو اس Stage تک خراب نہ کیا جائے کہ امن و امان کا بہانہ بنا کر کسی آمر کو اقتدار پر قبضہ کرنے کا موقع مل جائے۔ لیکن شوئی قسمت کہ اب موجودہ حکومت جس کے صدر اور وزیراعظم معروف طریقے سے منتخب ہوئے ہیں کی کارکردگی دو اڑھائی سال میں ہی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ یہ بدترین افواہوں کی زد میں ہے۔ کرپشن کی داستانیں جو ہمیشہ ہی جو زبان زد عام رہی ہیں اب اُن کی اخیر ہو گئی ہے۔ اخبارات دیکھیں، ٹی وی چینلز کی ٹیبل ٹاک پر یا مختلف بحث مباحثے وغیرہ سنیں تو یہی نظر آتا ہے کہ اس حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں۔ حکومت کے مخالفین کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ کبھی حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیان اختلافات اس حد تک چلے گئے ہیں کہ اب صرف یہ طے کرنا باقی رہ گیا ہے کہ تبدیلی تو نہایت ضروری ہے لیکن یہ غیرآئینی طریقے سے نہیں ہونی چاہئے۔ جس کا مطلب ہے کہ جناب چیف جسٹس حکومت کے خلاف اپنے احکامات کی تکمیل کےلئے چیف آف آرمی سٹاف کو طلب کریں مگر یہ ٹھیک نہ ہے یعنی تبدیلی تو آنی ہی چاہئے مگر اِن ہاﺅس ہونی چاہئے جس کےلئے گنتی شروع کر دی گئی ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے اور اس حکومت کو اقتدار سے نکال کر باہر کر دیا جائے۔ اللہ ہی کی طرف سے سیلاب آگیا ہے اور اس نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ غیرممالک کی طاغوتی طاقتیں پہلے ہی ملک کی سالمیت کے درپے ہیں اور کسی بھی حکومت کو امن و چین سے کام نہیں کرتا دیکھنا چاہتیں اور فضا اس قسم کی بنا دی گئی ہے کہ جس میں اب لوگ باور کرنے لگے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی ایک یقینی امر ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اب جو الزامات موجودہ حکومت کے خلاف لگائے جارہے ہیں کیا یہی الزامات پہلی حکومتوں کے خلاف نہیں لگائے گئے؟ اور کیا جو پارٹیاں اب گھات میں بیٹھی ہیں کیا اُن کے خلاف بھی اس قسم کی باتیں سننے کو نہیں ملتی تھیں؟ اگر کوئی غیرآئینی طریقہ ڈھونڈا جاتا ہے تو اس کے نتائج سے بھی تمام پارٹیاں پوری طرح آگاہ ہیں اور اگر یہی غلطی پھر دہرائی گئی تو پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ سارے سیاستدان اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے کہ ایسا قدم اٹھانا جس سے ملکی سالمیت پر زد پڑنے کا احتمال ہو وہ اُن کے اپنے لئے ہی نہایت خطرناک ثابت ہوگا۔ ملک رہے گا تو اس پر وہ حکومت کریں گے۔ امن و امان کا مسئلہ، دہشت گردی، مہنگائی، قرضوں کا بوجھ سیلاب یہ تمام چیزیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ سیاست دان سر جوڑ کر بیٹھیں۔ اقتدار کے حصول کو بھول کر پاکستان کی سالمیت کےلئے قربانی دینے کے جذبے کو بیدار کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں رہے گا۔