ہماری آزادی کشمیر کی مدھم پڑتی آواز

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

چھوٹے چھوٹے مسائل پر آسمان سر پر اُٹھا لیا جاتا ہے۔ لیکن ایک ایسا مسئلہ جو عالمی سطح کا ہے، اس پر ہماری وزارت خارجہ کی آواز آج نہیں گذشتہ کئی ادوار سے بے اثر ہے، البتہ کبھی کبھی مذاکرات کی خفیف سی پیشرفت کو ہی کافی شافی سمجھ لیا جاتا ہے، ہماری سفارت کاری بھی اس سلسلے میں خاموش ہے، بین الاقوامی سطح پر اب تک کوئی لابنگ نہیں کی گئی، کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے وہاں سات لاکھ فوج رکھنا اور کشمیریوں پر مظالم ڈھانا یہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کا وہ سلسلہ ہے جو 64 برس سے جاری ہے، البتہ دہشت گردی کا کوئی معمولی سا واقعہ ہو جائے اُس پر ہم بھی اور امریکہ سمیت پورا مغرب دہائی دینے لگتا ہے اور فوری طور پر ایکشن در ایکشن لیا جاتا ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ جب بھی کشمیر کی بات اگر کسی کوارٹر سے بلند ہوتی ہے تو اُس پر غیر تو کیا ہم خود بھی خاموشی سادھ لیتے ہیں، جبکہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ حل کر چکا ہے، لیکن اُس پر عملدرآمد کے ضمن میں وہ بھی خاموش ہے، یہ بھی نہیں کہ پاکستان کی قیادتوں کو معلوم نہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے، اور ہمارے وجود کا اس پر انحصار ہے، بابائے قوم نے تو اس سلسلے میں راست اقدام بھی کر دیا تھا، لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور جنہیں یہ مہلت ملی انہوں نے 65 سالہ مواقع ضائع کر دئیے اور مذاکرات کی گھاس ہی چرتے رہے، کشمیر میں بھارت دنیا کی ہولناک دہشت گردی کر رہا ہے، اور ہماری جانب سے اسے لائم لائٹ میں لانے کے بجائے بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دیدیا گیا۔ ہم کبھی امریکہ اور کبھی بھارت کے خلاف بات کرتے ہیں تو یہ ٹھیک ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ آخر ہمارے ملک کے ساتھ ہمارے مسائل کے ساتھ ایسا رویہ کیوں برتا جاتا ہے، اگر ہماری قیادتیں روزِ اول سے اپنی آزاد خارجہ و داخلہ پالیسی پر نظریہ¿ پاکستان کے مطابق کاربند ہوتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا کہ چومکھی ڈکٹیشن کی زد میں ہیں۔ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا تنازعہ ہے، جسے اقوام متحدہ حل کر چکا ہے، اور نہرو مان بھی چکا تھا، لیکن ہنوز یہ لاینحل ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری جانب سے یہ تنازعہ اقوام عالم کے سامنے اُس طرح سے نہیں اٹھایا گیا جو اس کا حق تھا، ایک ایسا رویہ ہی ظاہر کیا کہ اُدھر تم اِدھر ہم، اور اب تو بھارت آزادکشمیر کو بھی متنازعہ بنا رہا ہے، یہ ڈرون حملے، یہ امریکہ کی بے اعتدالیاں، ہمارے اُس نرم رویے کی پیداوار ہیں، جو ہم نے کشمیر کے معاملے پر اختیار کئے رکھا، اور اب تو عامل معمول کا رشتہ قائم ہو گیا ہے کہ امریکہ جو کہتا ہے، اس کا جواب دیا جاتا ہے، سر مور! ڈو مور اور اُس کا جواب نو مور تو بہت دور کی بات ہے۔ قومیں، قومی غیرت سے قائم رہتی ہیں، جب یہ قومی حمیت رخصت ہو جائے تو ایک کمزور بھی حملہ آور ہونے کی ٹھان لیتا ہے۔ جیسے بنیا ہمارے ساتھ کر رہا ہے، میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کی رفتار تیز ہے، لیکن چینلز کبھی کشمیر کو اپنے جغرافیائی پروگراموں میں بھی جگہ نہیں دیتے، اسی طرح پرنٹ میڈیا جس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں، وہ کشمیر کو زیر قلم نہیں لاتا، اور اگر لاتا بھی ہے تو اس پر تواتر اختیار نہیں کرتا، مسئلہ کشمیر کے اب تک حل نہ ہونے کا واحد سبب ہماری لاپرواہی ہے، اور ہم شترمرغ ذہنیت پر عمل پیرا ہیں، اُس دن کا اندازہ نہیں جب پاکستان کے کھیت کھلیان ریگستان بن جائیں گے۔ قیادتوں نے تو اس سلسلے میں جیسے ایکا کر رکھا ہے، مگر ہم عوام سے پوچھتے ہیں کہ اے کشتہ¿ِ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا، جو قوم کالاباغ ڈیم پر چپ سادھ لے، وہ کشمیر کیسے آزاد کرا سکتی ہے، ہمارا امریکہ میں موجود سفارت خانہ کشمیر کے معاملے پر کبھی واشنگٹن میں بولا ہے، یا اُس نے کوئی آواز بلند کی ہے، یہی حال ہماری تمام تر سفارتکاری کا ہے، کشمیر کو مذاکرات سے حاصل نہیں کیا جا سکتا اس کا ثبوت ہم نے نہیں بھارت نے فراہم کیا ہے، اب اس کے بعد اقوام متحدہ پر دباﺅ ڈالنا باقی رہ جاتا ہے، لیکن وہ امریکہ کے زیر اثر ہے، او آئی سی کشمیر پر قرارداد پاس کرنے کی حد تک جا سکتی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونا ہماری ہر طرح کی کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم سے کہا گیا کہ جہاد کو نصاب سے نکال دو، ہم نے دیر نہ لگائی، یہ تو ابھی کچھ عوامی سطح پر جذبہ موجود ہے وگرنہ ان کمزور اور گاﺅدی قیادتوں کے ہاتھ سے پاکستان بھی نکل جاتا، اب ایک ہی حل ہے، کہ جذبہ¿ جہاد جو ہمارا حقِ دفاع ہے، اور ہر قوم کا اپنا حقِ دفاع ہوتا ہے۔ جسے زندہ رکھنا ہی اُس قوم کے زندہ رہنے کا ضامن ہوتا ہے، آج پورا باطل، مسلمان کے جذبہ¿ جہاد سے خوفزدہ ہو کر ہی اُسے نیست و نابود کرنے پر تُلا ہوا ہے، پاکستان میں موجود تمام دینی ادارے بھی جذبہ جہاد کو زندہ رکھیں۔ لیکن حق جہاد کا استعمال قیادت کے پاس ہونا چاہئے، یہ نہیں کہ کوئی تنظیم یا جماعت اسے اپنے ہاتھ میں لے لے۔