کلامِ اقبال بانی پاکستان کی نظر میں!

کالم نگار  |  سید روح الامین

جناب محترم حمید نظامی (مرحوم) نے نوائے وقت کے پہلے پرچے میں ”کچھ اپنے متعلق“ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا تھا ”ہمارے دو سب سے بڑے مقاصد ہیں، اردو زبان کی ترقی اور علامہ اقبال کے کلام کی اشاعت“ خوشی ہے کہ آج بھی نوائے وقت کا کوئی شمارہ کوئی صفحہ ایسا نہیں ہوتا جو کلام اقبال سے مزین نہ ہو۔ کلام اقبال کی عظمت کے اپنے بیگانے سبھی معترف ہیں۔ فکر اقبال کا یہ اعجاز ہے کہ صدی ہونے کو آئی مگر صاحبان علم و دانش ہنوز فکر اقبال کی عقدہ کشائی میں مصروف ہیں۔ علامہ اقبال کی شخصیت اور فکر و فن پر سب سے زیادہ لکھا گیا، اتنا کہ اب ”اقبالیات“ نے معروف تنقیدی اصطلاح کی صورت اختیار کر لی ہے لیکن محسوس یوں ہوتا ہے کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ اگر یہ کہا جائے کہ فکر و نظر اور افکار و تصورات کے لحاظ سے علامہ اقبال شجر سایہ دار کی صورت اختیار کر چکے ہیں تو یہ مبالغہ نہیں ہو گا۔ آج ہم اپنے اس کالم میں مختصر طور پر اس بات کا جائزہ لیں گے کہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح اقبال اور کلام اقبال کو کس کسوٹی پر پرکھتے ہیں اور کس مقام سے نوازتے ہیں۔ قائداعظم نے 1944ءمیں تقریب یوم اقبال کے موقع پر علامہ محمد اقبال کو جس قدر خراج تحسین پیش کیا ان میں یہ کلمات بھی شامل تھے۔ قائداعظم نے فرمایا ”اگرچہ اقبال ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کا غیر فانی کلام ہمارے دلوں کو گرماتا رہے گا ان کی شاعری جو کہ حسن بیان کے ساتھ حسن معانی کی بھی آئینہ دار ہے اس عظیم شاعر کے دل و دماغ میں ان پنہاں جذبات، حیات اور افکار کی بھی عکاسی کرتی ہے جس کا سرچشمہ اسلام کی سرمدی تعلیم ہے۔ اقبال، پیغمبر اسلام کے سچے اور مخلص پیروکار تھے۔ وہ اول و آخر مسلمان تھے۔ اسلام کے مفسر اور اسلام کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ سعی پیہم ان کی مسلسل جدوجہد ان کے پیغام کا جزو لانیفک ہے۔ اس لحاظ سے وہ اسلامیت کا نمونہ تھے جہاں انہیں اسلام کے مقاصد سے شفتگی اور عقیدت تھی وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پہلے پہل ایک اسلامی سلطنت کا خواب دیکھا تھا ایک ایسی مملکت جو کہ ہندوستان کے شمال مشرقی اور جنوب مشرقی خطوں پر مشتمل ہو گی جو کہ تاریخی لحاظ سے مسلمانوں کا وطن سمجھے جاتے ہیں۔ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے جن کی جھلک ان کے کلام میں موجود ہے تاکہ ہم بالآخر پاکستان حاصل کرکے انہی اصولوں کو اپنی مکمل طور پر خود مختار اور آزاد مملکت میں جاری و ساری کر سکیں“ صرف یہی نہیں کلام اقبال کی عظمت کا اعتراف تو قائداعظم نے 1940ءکے یوم اقبال کی دوسری نشست کی صدارت کرتے ہوئے ان الفاظ میں بھی کیا تھا قائداعظم نے فرمایا کہ ”کارلائل نے شیکسپئر کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے ایک انگریز کا ذکر کیا کہ اسے جب شیکسپئر اور دولت برطانیہ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تو اس نے کہا میں شیکسپئر کو کسی قیمت پر نہ دوں گا“ یہ بیان کرکے قائداعظم نے کہا ”گو میرے پاس سلطنت نہیں لیکن اگر سلطنت مل جاتی اور اقبال اور سلطنت میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی نوبت آئے تو میں اقبال کو منتخب کروں گا“ اسلامی تعلیمات سے علامہ کو جس قدر انس تھا یہ بات تو عالم اسلام میں روز روشن کی طرح عیاں ہے اس کا اندازہ بھی قائداعظم کے کلمات سے لگائیے جو کہ انہوں نے دو مارچ 1941ءکو پنجاب یونیورسٹی میں یوم اقبال کے موقع پر کہے۔ قائداعظم نے فرمایا ”اس حقیقت کو میں سمجھتا ہوں کہ اقبال مرحوم دنیا کے بہت بڑے سیاستدان تھے انہوں نے آپ کے سامنے ایک واضح اور سیدھا راستہ رکھ دیا ہے جس سے بہتر اور راستہ نہیں۔ مرحوم دور حاضر میں اسلام کے بہترین شارح ہیں کیوں کہ اس زمانے میں اقبال سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا۔ اس پر مجھے فخر ہے کہ ان کی قیادت میں ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کرنے کا مجھے موقع مل چکا ہے۔ میں نے ان سے زیادہ وفادار رفیق اور اسلام کا شیدائی نہیں دیکھا“
یہ کلام اقبال کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہی تو ہے کہ آج ہر طرح کے سیاسی نظریات کے حامل سیاستدان، مسجدوں کے ملا، حکمران، بیوروکریٹ اور دائیں بائیں کے دانشور اپنے اپنے مخصوص مقاصد کی تائید میں اقبال کے اشعار پڑھتے نظر آتے ہیں۔ کلام اقبال کے جزوی مطالع اور صرف اپنے مطلب کے اشعار کا حوالہ دینے کے برعکس ضرورت اس امر کی ہے کہ کلام اقبال کا کلی مطالعہ کیا جائے۔ اسی صورت میں کلام اقبال کا درست تناظر میں مطالعہ کیا جا سکتا ہے اور پھر اس کی روشنی میں ہم انفرادی اور اجتماعی رویوں کا تعین کر سکتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کلام اقبال کا درست تناظر میں مطالعہ کرنے کے برعکس اور ان کے فکر کی گہرائی کی غواصی نہ کرتے ہوئے ہمارے دانشور صرف ساحل سے ہی لہروں کا تماشا کرتے رہتے ہیں۔ فکر اقبال بحرِ ذخار ہے اس سے کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ہماری اپنی علمی استعداد پر منحصر ہے سنگریزے یا موتی؟