ڈرون حملے۔۔۔ قانونی یا غیر قانونی؟

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

وزیر خارجہ محترمہ حنا ربانی کھر کا سب سے بڑا ”کمال“ یہ ہے کہ وہ بار بار ڈرون حملوں پر نمائشی ہی سہی احتجاج ضرور کرتی ہیں۔ وقت رواں میں احتجاج کے معنی بھی تبدیل ہو چکے ہیں وگرنہ صرف احتجاج کی شدت حکومتوں اور بڑے سے بڑوں کو ہلا کر رکھ دیا کرتی تھی۔ جنیوا میں انسانی حقوق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔ ڈرون حملے مطلوبہ نتائج پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ڈرون حملوں پر کوئی قانون، کوئی طاقت اور کوئی شخصیت برملا اظہار نہیں کر سکتی کہ یہ پاکستانی موجودہ حیثیت اور حالات کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کے پروٹوکولز کے مطابق درست ہیں۔ خود امریکی سابق مشیر اور سفیر ان کو عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کا نام دے چکے ہیں۔ عالمی سطح پر اقوام متحدہ میں مختلف ممالک کے مندوبین اس کو غیر جمہوری اور امریکہ کی عالمی غنڈہ گردی کے نام سے تعبیر کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ ڈرون حملے کرتا ہے اور پھر امریکی برطانوی اور یورپی میڈیا پاکستانی حکومت کے تمام تر احتجاج کو محض زبانی احتجاج کا نام دے کر دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کے امریکہ کے ساتھ خفیہ معاہدے ہیں کہ امریکہ پاکستان میں ڈرون حملے کرتا رہے گا اور پاکستانی حکمران اس پر صرف اور صرف زبانی کلامی احتجاج کر کے قوم کو گمراہ کرتے ہوئے حقائق توڑتے مروڑتے رہیں گے۔ ایسی اطلاعات بھی پوری قوم کا سر شرم سے جھکا کر انہیں عالمی میڈیا کی رپورٹس کے ذریعے منہ چڑھاتی رہیں گی کہ شہباز ایئر بیس جیکب آباد سے ڈرون طیارے پرواز لے کر ہمارے شمالی اور قبائلی علاقہ جات میں حملے کرتے رہے۔ ایسے میں کیا کوئی احمق وزیر خارجہ تو کیا وزیراعظم صدر مملکت اور تمام حکومتی وزراءاور ارکان اسمبلی کے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کو حقیقی احتجاج تصور کر سکے گا۔ یقیناً ایسا ممکن نہیں اور اسی لئے ڈرون حملوں کے خلاف ہر احتجاجی بیان کو صرف اور صرف سیاسی نمبر سکورنگ گیم کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے جبکہ اس کا اصل دکھ اور غم وہ لوگ، وہ محب وطن اور جفاکش قبائلی اور شمالی علاقہ جات کے لوگ برداشت کر رہے ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے دستِ راست بنے اور انگریز سامراج کے خلاف سیسہ پلائی دیوار اور بلند چٹان کی طرح ڈٹ گئے۔ آج ہمارے حکمران اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ کیا کر رہی ہے، کیا ایسی رپورٹس نظر انداز کی جا سکتی ہیں جو خود بین الاقوامی میڈیا نے جاری کی ہیں کہ جب ڈرون طیارہ کسی علاقے میں حملہ کرتا ہے تو اس کے بعد حملے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی امداد کے لئے آنے والوں پر ایک مرتبہ پھر ڈرون حملہ کر دیا جاتا ہے اور اکثر و بیشتر شمالی اور قبائلی علاقہ جات میں ڈرون طیارے نچلی سطح پر پرواز کرتے رہتے ہیں جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا رہتا ہے۔ ڈرون حملوں کے بارے میں ایک انتہائی تلخ ترین انٹرنیشنل رپورٹ گذشتہ دنوں بھی منظر عام پر لائی گئی تھی کہ امریکہ ہمارے چیف آف آرمی سٹاف سے منظوری کے بغیر کوئی بھی ڈرون حملہ نہیں کرتا۔ ایسے حالات میں کیا امریکہ سے ڈرون حملوں پر احتجاج جائز ہے اور کیا امریکہ اس صورتحال میں ڈرون حملے کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے یا نہیں۔ پاکستان میں تو دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی نام نہاد جنگ میں بہت قربانیاں دے لیں۔ یہاں تک کہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو اعتراف کرنا پڑا کہ دہشت گردی کی آگ نے ہماری چالیس ہزار قیمتی بے گناہ جانوں کو نگل لیا ہے۔ یہ دہشت گردی امریکہ کی عالمی دہشت گردی کا شاخسانہ ہے لیکن برمحل کہ موجودہ امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے اسلام آباد پہنچتے ہی جو پہلا بیان داغا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے بہت کچھ کرنا ہو گا۔ ان کے اس بیان پر بہت سارے محب وطن لوگوں پر یہ صورتحال اور کیفیت طاری ہوئی ہو گی جو اپنی طرز کی منفرد اور شاندار شاعرہ پروین شاکر پر طاری ہوئی تھی کہ ”رات وہ درد اٹھا میرے دل میں --- کہ صبح تک چین نہ آیا لوگو، پیاس صحرا¶ں کی پھر تیز ہوئی --- ابر پھر ٹوٹ کے برسا لوگو!“ ۔ امریکہ ایسی حرکات و سکنات سے باز نہیں آ رہا مگر سوال وہیں ٹھہرتا ہے کہ آخر امریکی ڈرون حملے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور پروٹوکولز کے مطابق قانونی جواز رکھتے ہیں یا غیر قانونی ہیں؟ سال 2010ءمیں ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے زیر اہتمام ڈرون حملوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں ایک گول میز مذاکراتی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں خارجہ امور کی وزارت کے افسران کے علاوہ مہمانان مقررین میں ڈاکٹر نیاز اے شاہ جو کہ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کے سینئر لیکچرار ہیں اور ڈاکٹر رابرٹ جو کہ یونیورسٹی آف ریڈنگ برطانیہ کے سینئر لیکچرار ہیں، شامل تھے اس دوران ڈاکٹر نیاز اے شاہ نے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 1 کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیاں اگر کسی ملک میں نان سٹیٹ ایکٹرز کر رہے ہوں وہ ملک ان نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف کارروائی کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے لیکن اگر وہ ملک کارروائی کرنے کی حیثیت میں نہ ہو تو عالمی قوانین کے تحت امریکہ ایسے نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے لیکن اگر متعلقہ متاثرہ ملک اس کی اجازت دے۔ انہوں نے بتایا کہ حفاظتی خود اختیاری کے تحت اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایسے نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے جب متعلقہ متاثرہ ملک اس کی اجازت دے لیکن پاکستان جس طرح ڈرون حملوں پر احتجاج اور تشویش کا اظہار کرتا ہے یہاں ایسا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی مرضی کے بغیر عالمی قوانین کے تحت ڈرون حملے غیر قانونی ہیں۔ ڈاکٹر رابرٹ نے جنیوا کنونشن کے پروٹوکول نمبر1 اور 2 کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں کو قانونی جواز دینے کے لئے ہمیں انٹرنیشنل ہیومن ٹیرین لا کو اپنانا ہو گا اگر اس قانون کو نہیں اپنایا جاتا تو حملہ کرنے والی سٹیٹ ذمہ دار اور قصور وار ٹھہرے گی اور متعلقہ فوجی سزا¶ں کے حقدار ہوں گے۔ امریکہ مشرف دور سے مسلسل ڈرون حملے کر رہا ہے اور ان حملوں میں چار ہزار کے لگ بھگ افراد شہید کئے جا چکے ہیں۔ ایک طرف حکومت ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتی ہے ایران بھی ہمارے ہاں ڈرون حملوں کی بھرپور مذمت اور مخالفت کرتا ہے ڈرون حملوں کے ایشو پر ہمارا دوست چین بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے مگر دوسری طرف ایسے الزامات بھی موجود ہیں کہ خفیہ معاہدوں کے ذریعے ہمارے حکمران ڈرون حملے کروا رہے ہیں اور صرف نمائشی و روایتی طور پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنیوا کنونشن کے پروٹوکولز اور اقوام متحدہ کے چارٹرز کے مطابق امریکہ کی طرف سے کئے جانے والے ڈرون حملے قانونی ہیں یا غیر قانونی؟