ذرا یک نظر ادھربھی

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

نہ میں کوئی مبصر ہوں نہ دانشور نہ کوئی ناول نگار نہ نابغہ روزگار ہستی بس اپنے قارئین کی طرح ایک سادہ سی شخصیت ہوں لیکن جب سے قلم ہاتھ میں تھا ماہے جب سے تخیل کی پرواز کو مفلوک الحال پسماندہ اور بے بس لوگوں کے بال و پر عطا کیے ہیں۔جب سے انسانوں کی زمین پہ انسانیت کا خون ہوتے دیکھا ہے اور جب سے مال و متاع کے عوض رشتوں اور قدروں کو خریدتے اور بیچتے دیکھا ہے تو قلم زادی ہونے کے ناطے اپنے لفظوں اور احساسات کو پا بجولاں کر کے علم و ادب کے اصل مآخذ کو بنجر نہیں کر سکتی کہ مجھے بھی اپنے علم اور آگہی کا حساب دینا ہے۔ یہ علم فقط میرا علم نہیں یہ شعور و آگہی میری ملکیت نہیں بلکہ یہ وہ مستروکہ املاک ہے جسے امانت کے طور پہ میرے ربِ کریم نے مجھے سونپا ہے۔ میرے اندر کے کردار اور گفتار کا سیل رواں دنیاوی مخلوظات سے اور نفسیاتی مدو جزر سے خود کو بچا کر ا یسے جزیرہ ادب میں پڑاﺅ کا خواستگار ہے کہ جہاں ادب بھی آئینہ ، شخصیت بھی آئینہ اور قلم بھی آئینہ ہو۔
علم تو خُدا کا تحفہ ہے اور آگہی نبی پاک و سلم کا اپنی اُمت پر انعام۔ زندگی کے کتنے برس بیت گئے ۔ یہی سُنتے سُنتے کہ کل نیا سورج نکلے گا تو دنیا دیکھے گی۔ مگر دنیا کیادیکھے گی یہ کبھی کسی نے نہیں بتایا اور نہ کسی نے دیکھا ۔ مگر راقمہ کی فصاحت میں یہ بات آئی کہ ہاں دنیا ظلم و ستم،درد والم، قتل و غارت، لوٹ کھسوٹ،انسانیت سوزی اور داستان ِ الم رقم ہوتے دیکھے گی جس کی سنگینی شاید عذرائیل لرز اُٹھے۔ مگر ایسا کیوں ہوا ۔ کہاں گئے وہ دانشور ،اخلاقی اور روحانی اُستاد،والدین کی تربیت گاہیں،ہمارا میڈیا،ادب جو کہ ہمارے کردار اور رویوں کا ذمہ دار ہے۔ان تمام اداروں اور شخصیات کا تعلق بلواسطہ یا بلا واسطہ قلم سے بنتا ہے تو کیا ہمارا قلم رعشہ کے مرض میں مبتلا ہو گیا۔ کیا ہمارے خیالات و افکار کو دیمک چاٹ رہا ہے۔ کیا ہمارے الفاظ و معنی اپنی اہمیت اور حرمت کھو رہے ہیں۔ کیا ہمارا قلم بانجھ ہو رہا ہے۔ ہمارے قلم میں اب وہ حدت نہیں جو علامہ اقبال کے قلم کی نو ک پہ چنگاری بن کر جلا کرتی تھی اور جب اُنہوں نے فرمایا کہ
 ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لر کر تابخاکِ کا شغر
تو غفلت کی نیند سے قوم بیدار ہو گئی کیوں نہیں ہمارے قائدین کی تقریروں میں وہ گرمی اور جوش جو قائدِ اعظم محمد علی جناح کے لہجے اور الفاظ میں ہوتی تھی۔ کیا کروڑوں کی عوام میں ایک بھی سر سید احمد خان جیسا نڈر نہیں۔کیا بدقسمتی سے ان لوگوں کے ساتھ ہی ان کے فیض ان کے جمالیاتی عمل ختم ہو گئے۔
داخلی اور خارجی معاملات جتنا انتشار کا شکار ہو رہے ہیں اُس سے ایک نئی فکر عمومی طور پر اُبھر کے سامنے آرہی ہے۔ جس کا متن یہ ہے کہ "کیا ہم آزاد ہیں" "کیا ہم غلامی کی زندگی کی طرف تو نہیں لوٹ رہے""کیا ہم واقعی دہشت گردی کی صف میں کھڑے ہو چکے ہیں" اس سوچ کی چنگاری کو نہ صرف مختلف علاقوں اور حساس اداروں پہ دہشت گردی کے اقدامات امریکہ کے ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی بحالی نے ہوا دی ہے۔ بلکہ ہمارے داخلی معاملات بھی مٹی کے تیل کا کام کر رہے ہیں۔
بہت سے ایشو ز ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق ذاتیات سے ہوتا ہے۔ اُس کو میڈیا یا ادب کی کسی بھی صنف میں اُچھالنے ،اُبھارنے اور سامنے لانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن یہاں پر اس بات سے قطع نظر کہ اللہ کا فرمان ہے کہ "راز رکھنے والے کو اللہ پسند کرتا ہے" یہاں پر ہمارا میڈیا اور ادب گھروں کے اندر گھس کر اندرونی معاملات کو اپنا فرض سمجھ کر منظرِعام پہ لا کے تحقیر کے مقام تک پہنچاتا ہے۔ وہ ایشوز جو کہ ملکی سطح پہ اُبھارنے ہوں اُن کو اجاگر کرنے اور پھیلانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں کہ ملکی سطح تو دور ، بات سات سمندر پار تک جا پہنچتی ہے اور ہمارے دشمن اُنہی تفصیلات اور نشریات کی بنیاد پہ پاکستان کو دہشت گرد قرار دے دیتے ہیں۔ اس الزام تراشی کی تردید میڈیا یا ادب کیسے کر سکتا ہے کہ جو کچھ بھی ہے (پیٹ سے کپڑا تو ہم خود اُٹھاتے ہیں)۔
کیا آپ سب لوگ یہ سمجھے نہیں کہ اگر ہمارے اکابرین اور عہدیدار میڈیا کے لیے کچھ ایسی حد بندی کریں کہ میڈیا اپنی زبان کے کرارے پن سے محظوظ بھی ہوتا اور کرتا رہے مگر اپنی مٹی اور اپنے گھر کی عزت کو اس چسکے کی نذر نہ کرے....!