جو شاخ نازک پر آشیانہ بنا تھا وہ جل رہا ہے

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی

 انسان اپنی تخلیق میں نہایت ہی کمزور ہے۔عجلت پسند ہے اور اسکی کمزوریوں کی ایک طویل فہرست ہے اور وہ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کیلئے اپنے آپکو نت نئے انداز سے پیش کرتا ہے۔اپنی اس حرکت کو درست قرار ینے کیلئے وہ ہر شیطانی حربہ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ وہ شیطانی تربیت کو اپنی ذات کا جوہر بناتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ انسانی معاشرے میں شیطانی قوتوں کا ایک نمائندہ بن جاتا ہے پھر اپنے ہی جیسے انسانوں کو اپنے ہی رنگ میں رنگنا شروع کردیا ہے اور یہ شیطانی حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوجاتا ہے اسی حلقے میں ہامان پیدا ہوتے ہیں۔اسی گروہ سے قارون جنم لیتے ہیں اور فرعون بھی اسی منحوس و جابر معاشرے سے پیدا ہوتے ہیں۔اقوام اور سلطنتیں ایسے ہی غلیظ طبیعت کے مالک افرار کے سامنے سرتسلیم خم کرتی ہیں۔
انسانی معاشروں کے بگاڑ میں وقت کے فرعون و نمرود کا ایک مستقل اور پُر اثر حصہ ضرور ہوتا ہے۔ تاریخ کا ہر دور اسی معرکہ آرائی کی زد میں رہتا ہے۔ قرآن کتابِ حکمت نے ایسے افرار اور اقوام کے قصے بیان کئے ہیں۔ ان سب قصوں میں ایک اخلاقی برائی تکبر و غرور مشترک نظر آتی ہے۔کائنات کی مخلوقاتی معرکہ آرائی شیطان و آدم کے درمیان پائی جاتی ہے۔اس پنجہ آزمائی میں شیطان کی اصولی شکست بھی ایک ایمانی اور کائناتی حقیقت ہے۔ شیطان اپنی خفیہ منفی قوتوں کو بد نیت اور غافلین کی رگوں میں انکے خون کےساتھ ہی منتقل کرتا ہے پھر انکے مرکز حیات قلوب پر پوری طرح سے گرفت کرنے کے بعد ان کی قوت معرکہ دماغی صلاحیتوں پر تسلط جماتا ہے ان لوگوں پر یہ اثرات زیادہ قوی تر ہوجاتے ہیں جو نسل در نسل اسی تکبر و غفلت کی معاشرتی پالیسی کےساتھ انسان دشمنی کو اپنا وطیرہ¿ زندگی بنا لیتے ہیں۔برائی کو اچھائی کی شکل میں ڈھالنے کا ایک فکری، علمی اور عملی سلسلہ کرتے ہیں،پوری دنیا میں اپنی فکر تجربہ گاہیں اور عملی مراکز کو فلاحِ انسانیت کے مقدس نام پر پھیلا دیتے ہیں۔ انسانوں میں طبقاتی تفریق اور معاشروں میں تہذیبی کشمکش کے علاوہ مذہبی تصادم کے راستے ہموار کرتے ہیں۔ابلیسی نمائندہ قوتوں کی یہ کارستانی آج کے دور کی ہی نہیں ہے بلکہ اولیں انسانی معاشرے اور تہذیب کی ترتیب ہی سے انسانیت کشی کا یہ ابلیسی سلسلہ جاری ہے۔تاریخ امم بتاتی ہے کہ انکی عصیان بھری طرز حیات نے ہمیشہ ہی انسانیت کو مذہب، ثقافت، معاشرت اور معیشت کے نام پر ذلیل کیا ہے اور انسان کو حیوانوں سے بدتر بنانے کیلئے ہر ظالمانہ حربہ استعمال کیا ہے۔
لیکن انسان کا خالق خدائے وحدہ¿ لا شریک ہے۔ انسان کی ابتداءو انتہا خدائی فضل و کرم کی محتاج ہے اور خدا کا اپنا ایک انسان پر ور قانون ہے جو فطرت کو تجریدی مراحل سے گزار کر کائنات کو حیات نوبخشتا ہے وہ مظلوموں کو استبداد کی قوت سے ٹکراتا ہے۔ خونیں معرکہ برپا ہوتا ہے۔غریب اقوام کی رفتار حیات میں عروج و زوال کے درجے متحرک ہوتے ہیں اور پھر نظام قدرت مستبکرین اور مستعضفین کو غالب کردیتا ہے اور چھوٹے گروہوں کو بڑے معاشروں پر بالادستی عطا کرتا ہے۔ ہر دور کے فرعون سے موسیٰ اپنے ہی طرز جدید سے آکر ملاقات کرتا ہے۔ خاک نشینوں کو بالائے تخت بٹھانے کیلئے ہر قارون کا تاج اچھالا جاتا ہے۔ برتر اقوام کو ذلت کی گہرائیوں میں اتارنے کیلئے اہتمام فطرت ہوتا ہے۔ آندھیاں چلتی ہیں،طوفان اٹھتے ہیں۔ انجانے موسموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج بھی کچھ اہتمام فطرت ہورہا ہے۔پھر ایک اور جسارت، ناپاک اور دلسوز جرا¿ت، مبنی برغلط آزادی¿ اظہار کا غلغلہ بھی تو فطرت کی تحریروں میں محفوظ ہورہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب اعظم حضرت محمدﷺ کی ذات و صفات مقدسہ کو متعصبانہ اور جاہلانہ تنقیدی آستینوں کے سامنے رکھ گیا۔بالآخر فطرت کروٹ لیتی ہے اور زمانہ حساب کرتا ہے۔زور آوروں کو ضعیفی کے ذائقے سے آشنا کرتا ہے۔نعمت بے بسی کا روپ دھارتی ہے۔ذلت لباس زندگی بنتی ہے۔خوف اور بھوک ان کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے۔استعمار پرخدا کا عذاب نازل ہورہا ہے۔ دودھ پیتے بچوں کی شہادتیں انتقام میں تبدیل ہورہی ہیں۔ مسکینوں اور یتیموں کی بد دعائیں بلائے آسمانی کا روپ دھار رہی ہیں۔ ظلم پھر ظلم ہی ہوتا ہے۔بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ،ظلم مٹتا ہے توظالم کی گردن کا سریا نکلتا ہے اور پھر زمین اپنی تمام تر وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوجاتی ہے۔رسول عالمینﷺ کی معصوم و مطہر ذات اقدس پر جس دیدہ دلیری سے گستاخانہ فلم بنائی گئی ہے۔ وہ خدا کے عذاب کو دعوت دینے کی جسارت کی گئی ہے۔انسانیت اور انسانیت پرور انبیاءعلیہم السلام انسانیت کے سب سے بڑے محسن محمدﷺ کی ذات کرم نواز پر سوقیانہ حملے اب فطرت کو کروٹ بدلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔امریکہ،برطانیہ، جرمنی،فرانس اور ان کے بغل بچوں پر آسمان بے بلائیں اتر رہی ہیں۔خدائی انتقا م کا قافلہ غضبناکی کیساتھ ان کے شہروں پر پڑاﺅ ڈالنے والا ہے۔ان پر ان کے گھر خدائی عقوبت خانے بن جائیں گے۔ان کی باطنی غلاظتیں ان کو خود کشی اور حیات بے زاری پر مجبور کردیں گی۔یہ آشیانہ کمزور ترین شاخ پر رکھا ہوا ۔ خدائی قبر کی آگ میں بھسم ہوا چاہتا ہے....ع
جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا