بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

آج کا کالم ماضی کی روایت سے ہٹ کر صرف کسی ایک مسئلہ یا موضوع پر اپنے تبصرہ یا تجزیہ کو مرکوز رکھنے کی بجائے ایک سے زیادہ تازہ ترین مختلف نوعیت کی چند اہم خبروں کا احاطہ کرے گا۔ جن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اکثر اوقات انسانوں یا حکومتوں کی لاکھ تدبیروں کے باوجود قدرت ایک لمحہ میں ان سب تدبیروں پر پانی پھیر دیتی ہے۔ اس لئے یہ کبھی نہ بھولنا چاہئے کہ اصل طاقت و حکمت کا منبع و محور رب العزت ہے۔ قرآن کریم نے تاریخ عالم سے اسکی کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال امریکہ میں 6 نومبر کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات سے صرف چند روز پہلے تاریخ کے بدترین سمندری طوفان ”سینڈی“ کی صورت میں نہ صرف دونوں امیدواروں کی مہم کو عین نقطہ عروج پر پہنچنے سے قبل ہی آخری لمحات میں درہم برہم کر دیا بلکہ نیویارک اور واشنگٹن کو آفت زدہ علاقوں میں دھکیل کر امریکہ کے مشرقی ساحل کی کئی ریاستوں میں کاروبار زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ سمندری طوفان ”سینڈی“ کی تباہ کاریوں کے سامنے صدر باراک اوبامہ اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت اپنے تمام وسائل کے باوجود بے بس ہیں اور باقی ماندہ دنیا کے سامنے کسی قسم کی امداد کیلئے ہاتھ پھیلائے بغیر حالات کو پھر سے نارمل بنانے کیلئے کوشاں ہیں وہ قابل ستائش ہے۔ دونوں صدارتی امیدوار اپنی صدارتی مہم اور سیاست کو بالائے طاق رکھ کر عوام کی زندگی کو معمول پر لانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کر رہے۔ جمہوری اقدار کے استحکام کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ کوئی پارٹی بھی ”سینڈی“ کے طوفان سے برپا ہونے والی قیامت صغریٰ کے باوجود 6 نومبر کو انتخابات کے ملتوی ہونے کا مطالبہ نہیں کر رہی۔ صدارتی انتخابات مقررہ تاریخ 6 نومبر کو ہی ہونگے۔ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں حکومت وقت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کیلئے اس میں جمہوریت کے استحکام کا ایک بہت بڑا درس چھپا ہوا ہے۔
ایک دوسری قابل غور اور سبق آموز خبر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے ڈرون حملوں میں نہ صرف شہریوں کے مارے جانے کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے بلکہ نماز جنازہ اور مسجدوں میں نمازیوں کو ڈرون کا ہدف بنانا ثابت ہو جانے پر ایسے حملوں کو جنگی جرم بھی قرار دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ لندن اور نیویارک سے ملنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے مشہور اخبار گارڈین نے اپنی گزشتہ جمعرات کی اشاعت میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ جلد جنیوا میں ایک تحقیقاتی یونٹ قائم کرے گی جو نام نہاد دہشت گردی کے خلاف ڈرون حملوں میں سویلین شہریوں کی ہلاکت کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے گا۔ یہ اعلان LAW SCHOOL HARWARD میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سپیشل نمائندے BEN EMMERSON نے بین الاقوامی قوانین کی وضاحت کرتے ہوئے کیا۔ امرسن نے اپنے خطاب میں یہ انکشاف بھی کیا کہ مختلف ڈرون اٹیک جو ماضی میں پاکستان کے اندر کئے گئے کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کا ایک اور آفیسر HEYNS - CHRISTOF بھی اس کے ساتھ شریک ہو گا۔ جس کے دوران یہ دونوں اس امر کا جائزہ بھی لیں گے کہ ان ڈرون حملوں میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے قوانین اور کی کہاں تک خلاف ورزی کی گئی ہے۔ امرسن نے بتایا کہ ان کا جنیوا میں قائم کیا جانے والا یونٹ اگلے سال 2013ءکے شروع میں ہی دونوں ممالک یعنی ڈرون حملے کرنے کا ملک اور جس ملک پر ڈرون حملہ کیا جاتا رہا ہے سے سویلین شہریوں کی ہلاکت کی نوعیت اور دیگر کوائف کی تفصیلات حاصل کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اگرچہ بعض لوگ اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی طرف سے ایسے اقدامات کو دیر آید درست آید کہیں گے۔ لیکن راقم اقوام متحدہ اور ان کے نمائندہ BEN EMERSON کی خدمت میں یہ احتجاج کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بہت دیر کی مہربان آتے آتے۔ راقم اقوام متحدہ کے ایک نمائندے کے مندرجہ بالا بیان کو اقوام متحدہ کے TRACK RECORD کی روشنی میں اس لئے کوئی اہمیت نہیں دیتا اور اشک پوشی سے زیادہ توقع نہیں رکھتا کیونکہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں 1948ءاور 1949ءکی اقوام متحدہ کی قراردادیں ابھی تک ایک ایسا خواب ہے جو شرمندئہ تعبیر نہیں ہوا۔ اگلا سال کونسا دور ہے چند مہینوں کی بات ہے دیکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا جنیوا میں قائم ہونے والا BEN EMMERSON یونٹ پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کے خلاف ڈرون حملوں کے ہو نے والی ہلاکتوں کے نتیجہ میں کیا رپورٹ پیش کرتا ہے اور امریکہ کس ردعمل کا اظہار کرتا ہے کیونکہ نصف صدی سے اقوام متحدہ کی حیثیت اور کردار STATE DEPARTMENT کے ایک ذیلی ادارے سے زیادہ مختلف نہیں۔ لیکن امریکہ کے اندر بدلتے ہوئے حالات اور پوری دنیا کے عوام کا ڈرون حملوں کے خلاف شدید احتجاج شاید امریکہ کو ڈرون حملوں کی درندگی سے باز رہنے پر مجبور کر دے کیونکہ قانون قدرت بالآخر ظلم کو ایک حد سے زیادہ برداشت نہیں کرتا اور ظالم کو بالآخر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔