افغانستان میں بھارت کے اثر و رسوخ میں تشویشناک اضافہ

کالم نگار  |  قیوم نظامی

مسلمان تارک قرآن ہوکر ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔ ہندو اپنی مذہبی کتب کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور عالمی طاقت بننے جارہے ہیں۔ ہندو دانشور اور فلسفی چانکیہ کوٹلیہ نے اپنی مشہور کتاب ”ارتھ شاستر“ میں تحریر کیا۔”پڑوسیوں کو اپنا دشمن سمجھو اور دشمن کے قریبی پڑوسی کے ساتھ دوستی بناﺅ“۔ بھارتی قیادت 1947ءسے اسی فلسفے پر عمل کررہی ہے۔ بھارت پاکستان سے تعلقات خوشگوار بنانے کی بجائے افغانستان میں قدم جمانے کے مواقع تلاش کرتا رہا۔ آخر کار نائین الیون کے بعد جب امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان پر قبضہ کرلیا تو بھارت کو افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کا موقع مل گیا۔ امریکہ نے کمال ہوشیاری سے کام لے کر پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں اُلجھا دیا اور بھارت پاکستان کے عقب میں نقب لگاتارہا۔ بھارت نے افغانستان کے لیے جو منصوبہ بندی کی اس کا مقصد افغانستان میں پاکستان کے کردار کو کم کرنا، وسطی ایشیاءکے ممالک سے روابط بڑھانا، افغانستان کی تعمیر و ترقی میں موثر کردار اداکرنا اور ایک بڑی طاقت کے طور پر اپنے آپ کو منوانا اور افغانستان میں انتہا پسند حکومت کے قیام کو روکنا ہے۔ گزشتہ دس بارہ سالوں کے دوران بھارت نے افغانستان کے اندر قابل ذکر ترقیاتی منصوبے مکمل کرائے۔ بھارت نے 218 کلو میٹر طویل شاہراہ تعمیر کی جو کابل کو ایران کی بندرگاہ چابایار سے ملاتی ہے۔ اس شاہرہ کی تعمیر کے بعد کابل کا کراچی بندرگاہ پر انحصار کم ہوگیا ہے۔ بھارت اب ایران کے راستے اپنی مصنوعات سینٹرل ایشیاءکے ممالک کو روانہ کرسکتا ہے۔ بھارت نے 250ملین ڈالر صرف کرکے ازبکستان سے کابل تک بجلی کی سپلائی لائین بچھانے کے لیے منصوبہ مکمل کیا ہے۔ 180ملین ڈالر کی لاگت سے سلمہ ڈیم تعمیر کیا گیا ہے جس کے بعد چالیس ہزار ہیکڑ زمین سیراب کی جائے گی۔ کابل میں پارلیمنٹ ہاﺅس کی تعمیر بھی بھارت کا یادگار منصوبہ ہے جو جمہوریت کے فروغ کی علامت ہے۔ افغانستان نے بھارت کی سات کمپنیوں کو حاجی گاک میں لوہے کے ذخائر دریافت کرنے کا ٹھیکہ دیا ہے جس کا تخمینہ 11 ارب ڈالر ہے۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ بھارت نے 2010ءمیں افغانستان کو 414ملین ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں۔ بھارت نے افغانستان کے ہر شعبے میں سرمایہ کاری کی۔ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں، ڈسپنسریوں، آبی گزرگاہوں کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لی۔ ڈھائی لاکھ ٹن گندم کی فراہمی افغان فضائی کمپنی کے لیے تین ائیر بس بڑے جہازوں کی فراہمی، 100ماڈل دیہاتوں کی تعمیر، 400 بسوں کی فراہمی قابل ذکر کام ہیں۔بھارت نے ایک جانب افغان شہریوں کو ہنر سکھا کر انہیں اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی اور دوسری جانب افغان فوجیوں کو تربیت بھی دے رہا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں نظر آنے والے تعمیراتی منصوبے مکمل کرکے افغانیوں کے دل اور دماغ فتح کرنے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان اور افغانستان تاریخی، ثقافتی، جغرافیائی اور مذہبی لحاظ سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات اسقدر دوستانہ اور خوشگوار رہے کہ پاکستان افغانستان کو ”سٹریٹجک گہرائی“ تصور کرتا رہا۔ افغان وار کے دوران پاکستان نے روس کے خلاف جنگ لڑنے والے افغان مجاہدین کی بھرپور مدد کی۔ 40 لاکھ افغان مہاجرین کی طویل عرصہ تک نگہداشت کی ،پاکستان اور افغانستان کے تجارتی تعلقات بڑے مضبوط ہیں۔ افغانستان اپنی ضرورت کی اکثر و بیشتر اشیاءپاکستان سے درآمد کرتا ہے جو اسے سستی پڑتی ہیں۔پاکستان گاہے بگاہے افغان بھائیوں کی مالی امداد بھی کرتا رہتا ہے۔ پاکستان نے 100 بسیں فراہم کیں، ہسپتال اور کالج تعمیر کرنے کے لیے بھی تعاون کیا البتہ لنڈی کوتل سے جلال آباد تک ریلوے لائین بچھانے کا بڑا منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں کیا جاسکا۔ پاکستان نے افغانیوں سے وعدے تو بہت کیے لیکن ان پر عمل نہیںکیا۔ پاکستان کو مواقع بھی بہت ملے مگر وہ گنوا دئیے گئے۔ ہم نے پاک افغان تعلقات کا مستقبل افغان طالبان کے ساتھ وابستہ کرلیا حالانکہ ہمیں اپنی توجہ افغان عوام کی ترقی اور خوشحالی پر مرکوز رکھنی چاہیئے تھی اور عسکریت کی بجائے سماجی فلسفے پر عمل کرنا چاہیئے تھا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن کر اور مرکزی کردار ادا کرکے پاک افغان تعلقات کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ افغان عوام پاکستان سے سخت ناراض ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ اگر پاکستان امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو امریکہ کے لیے افغانستان میں قدم جمانا ممکن نہ ہوتا۔ افغان عوام کی سوچ کے مطابق پاکستان کو افغانستان کا اس طرح ساتھ دینا چاہیئے تھا جیسے اس نے روس کے خلاف جنگ میں ساتھ دیا تھا۔ صورتحال اسقدر افسوسناک اور تشویشناک ہوچکی ہے کہ افغان مجاہدین اپنے محسن ملک پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کررہے ہیں۔ بھارت اس صورتحال سے فائدہ اُٹھارہا ہے۔ اس نے پاک افغان سرحد کے قریب کئی قونصل خانے قائم کرلیے ہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ ایک جانب پاکستان کے انتہا پسندوں کو اسلحہ فراہم کررہے ہیں اور دوسری جانب افغان عوام کے ذہنوں کو پاکستان کے خلاف زہر آلود کررہے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں نے اس تشویشناک صورتحال کا مقابلہ کرنے اور پاک افغان تعلقات کے مستقبل کے بارے میں کوئی سنجیدہ اور نتیجہ خیز حکمت عملی ترتیب نہیں دی۔ ذاتی مفادات حکمرانوں کی پہلی ترجیح ہیں۔ قومی سلامتی مفادات بری طرح نظر انداز ہورہے ہیں۔ اگر بھارت افغانستان میں مستقل بنیادوں پر قدم جمانے میں کامیاب ہوگیا اور ایران کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات مستحکم نہ ہوسکے تو پاکستان ”علاقائی سینڈوچ“ بن کررہ جائے گا۔ بھارت کے علاوہ ایران بھی افغانستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے حالانکہ بھارت نیٹو اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود امریکہ بھارت کی سرپرستی کررہا ہے اور اسے افغانستان میں مواقع فراہم کررہا ہے۔ امریکہ پاکستان پر دباﺅ ڈال رہا ہے کہ بھارت کو براستہ سڑک کابل تک آزادانہ رسائی دے دی جائے تاکہ بھارت وسطی ایشیاءکی ریاستوں تک اپنی مصنوعات پہنچا سکے۔ پاکستان امریکہ کے لیے بے مثال جانی اور مالی قربانیاں دے چکا ہے اس کے باوجود امریکہ افغانستان میں پاکستان کا اثر و رسوخ کم سے کم کرنے کی سازش کررہا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کا کوئی وژن ہی نہیں ہے اور وہ صرف لکھی ہوئی تقریریں ہی پڑھ سکتے ہیں۔اگر حالات یہی رہے تو خدشہ ہے کہ پاکستان کو امریکہ کے بعد بھارت کی بالادستی بھی قبول کرنا پڑے گی۔پاکستان کے محب الوطن سابق سفارتکار ایک علاقائی تھنک ٹینک تشکیل دیں اور پاک بھارت اور افغان تعلقات کے مستقبل پر مستند تحقیقی پیپر تیار کریں تاکہ پاکستان کے عوام اور حکمران اس تھنک ٹینک کی سفارشات پر عمل کرکے قومی سلامتی کا تحفظ اور دفاع کرسکیں ، پاکستان کی آزادی ، سلامتی اور خودمختاری کو نا اہل، بددیانت اور غیر سنجیدہ حکمرانوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ عاشق پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی ریجنل تھنک ٹینک کی تشکیل کے لیے راہنمائی کریں۔
میرا جینا ہے سیج کانٹوں کی
ان کے مرنے کا نام تاج محل