یہ محاورہ اردو ڈکشنری کا حصہ بن سکتا ہے !!

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
یہ محاورہ اردو ڈکشنری کا حصہ بن سکتا ہے !!

سعدیہ ملک اسلام آباد کے ایک کالج میں انگلش پڑھاتی ہیں۔ انہوں نے کل اردو کا ایک نیا محاورہ ایجاد کیا ہے اور مجھے اس محاورے کے مشہور ہو جانے کا یا ڈکشنری میں شامل ہو جانے کا پورا یقین ہے بالکل اسی طرح جس طرح امریکی ناول نگار جوزف ہیلر نے ایک کتاب 1961ء میں لکھی تو اس کا عنوان ایسا تھا کہ جو 32 سال کے بعد نیو شارٹ آکسفورڈ ڈکشنری کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔ یہ نہایت غیر معمولی کامیابی تھی۔ سعدیہ ملک کا نیا محاورہ بھی کسی شارٹ اردو ڈکشنری کا حصہ بن گیا تو یہ ان کا غیر معمولی کارنامہ ہو گا۔ امریکی ناول نگار جوزف ہیلر نے جو کتاب لکھی تھی اس کا عنوان تھا کیچ 22 جن کا مطلب تھا رکاوٹ ۔ مزید تشریح یا اس لفظ کی نفسیات یہ ہے کہ’’کیچ 22 ‘‘ کا معنی ہے مخمصے اور پریشانی والی ایسی حالت جس میں سے متاثرہ شخص اپنی کوشش سے نکل نہ سکے اور باقی کے دونوں ہی متبادل راستے اس کی خرابی یا تباہی کا باعث بنتے ہوں۔ لیکن اس حالت سے نکلنے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جس فریق نے یہ مخمصہ پیدا کیا ہے وہ ا پنا مخصوص قدم واپس لے تو پھر رکاوٹ دور ہو جائے گی۔ یعنی نہ اگلا جائے ہے مجھ سے نہ نگلا جائے ہے مجھ سے۔مرزا غالب کا شعر ہے کہ …؎
ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی
نہ ہی بھاگا جائے ہے مجھ سے ‘ نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
سعدیہ ملک نے اپنی فیس بک پر جو تحریر لکھی ہے وہ جوں کی توں یہاں لکھی جا رہی ہے۔ سعدیہ نے لکھا ہے : ’’اردو کا نیا محاورہ ۔ نہال ہاشمی بننا۔ یعنی شارٹ سرکٹنگ ہونا ۔ یا خوامخواہ مصیبت مول لینا۔ ٹردے داندے آں چکہ مارنا یا بمب کو لات مارنا۔ نسدے سپ دا راہ روکنا ۔ یا مدعی سست گواہ چست والی کیفیت یا اڈ دے جہاز تو چھال مارنے توں بعد یاد آنا کہ میں پیرا شوٹ تے پایا ای نہیں ۔ یا پھر کترا کرنے والی مشین وچ جانڑ بوجھ کے بانہہ دینڈا۔ ان تمام کیفیات کا نام ہے نہال ہاشمی ۔ سعدیہ ملک کی پوسٹ جو یہاں تک ہی تھی ۔ مگر اس دلچسپ تحریر میں ’’کیفیت‘‘ طاری ہونا بھی بڑا دلچسپ لفظ ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ پٹھان ہونا ایک کیفیت کا نام ہے۔ عمران خان پر بھی کبھی کبھی یہ کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ دراصل انہیں مستقل ایک رویہ اختیار کرنا ہے ورنہ ایک محاورے کے مطابق یوں بھی ہوتا رہا ہے کہ گرم لوہے پر چوٹ مارنے کی بجائے وہ کسی ایسی کیفیت کا شکار ہو جاتے رہے ہیں جبکہ اﷲ رسول والے لوگوں پر وجد کی کیفیت طاری ہونا خوبصورت معنی تھا۔ اب اﷲ رسول والے کم نظر آتے ہیں۔ لیکن ’’نہال ہاشمی ہونا‘‘ مستقبل میں معروف محاور بن جانے کا امکان روشن ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نہال ہاشمی کو کیا ہوا تھا ؟ نہال ہاشمی پر کوئی ’’کیفیت‘‘ طاری ہو گئی تھی ان کے ساتھ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار والے جذبات طاری ہو گئے تھے یا کوئی اور ڈرامہ تھا۔ بات محاورے کی ہو رہی ہے تو ایوب خان کے زمانے میں صدرصاحب نے ایک اخباری تراشہ محکمہ اطلاعات کو بھیجا اور اس تراشہ کے ساتھ ایک نوٹ بھی لکھا۔ وہ نوٹ کچھ یوں تھا کہ ’’آپ لوگ مجھے کہتے رہتے ہیں کہ حکومت عوام میں بہت مقبول ہے لیکن اس اخباری تراشے میں جو نعرے درج ہیں ان کی وضاحت کر دیں۔ محکمہ اطلاعات نے جواب دیا ’’جناب آپ کے بی ڈی ممبر اور آپ عوام میں بے حد مقبول ہیں۔ ’’چمچے کڑچے ہائے ہائے‘‘ غیر سیاسی نعرہ ہے۔ اس کا مطلب کٹلری مارکیٹ میں بحران ہے‘‘۔ لیکن آج زمانہ بدل گیا ہے۔ کٹلری مارکیٹ میں بحران نہیں ہے بلکہ عوام کئی اور طرح کے بحرانوں کا شکار ہیں جس میں ’’بجلی کا بحران‘‘ پہلے نمبر پر ہے۔ عوام بے حد تکلیف میں ہیں اور اب میٹرو سٹیشنوں پر جگمگاتی روشنیاں بھی دل کو بہلانے کا فریضہ سرانجام نہیں دیتیں۔ ظاہر ہے پیٹ میں روٹی نہ ہو تو خالی پیٹ سڑکوں کا بھی لطف دوبالا نہیں ہوتا جبکہ گرمی کی شدت سے لوگ مر رہے ہوں ۔ ایوب خان کے زمانے کا ایک اور واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے جب ایک سرکاری تقریب ہو رہی تھی اور پروٹوکول کے مطابق جسٹس ایم آر کیانی اور جنرل موسیٰ خان صدر ایوب سے دور اکٹھے بیٹھے تھے۔ جسٹس کیانی نے موسیٰ کو مخاطب کر کے کہا ۔ اے موسیٰ کیا یہ وادیٔ طور نہیں ؟ ہم کیوں خدا سے دور بیٹھے ہیں ؟ ۔ نہال ہاشمی ہونا بڑی بدقسمتی کی بات ہے اور جمہوری دور میں سارے واقعات ایوب خان کے زمانے کے یاد آنا مزید بدقسمتی کی بات ہے۔ نہال ہاشمی کہتے ہیں ۔ نواز شریف کے بیٹے کا احتساب کر رہے ہو؟ انہوںنے مزید بھی بہت ساری گفتگو ایسی فرمائی جو کسی ایسی کیفیت کے تحت کی گئی محسوس ہوتی ہے جسے ابھی کوئی نام دینا دشوار ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ جس رعونت سے وہ بات کررہے تھے اس نے ہماری عوام اور سیاستدانوں کی زندگیوں کے فرق کو ننگا کر دیا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں قائم جے آئی ٹی اپنا کام کر رہا ہے جس میں حسین نواز شامل تفتیش ہو کر حاضریاں دے رہے ہیں اور ملک میں اس کلچر کو غصے یا مظلومیت کے خانے میں نہیں ڈالا جا سکتا جیسا کہ نہال ہاشمی نے کیا اور حکومت کو وضاحتیں کرنا پڑیں۔ جبکہ عدلیہ کی تضحیک کا کلچر اپنانے کا الزام ان پر پہلے سے ہی موجود ہے۔ نہال ہاشمی حکومت پر اتنا نہال کیوں ہوئے کہ انہوں نے حاضر سروس سینئر لوگوں کو نتائج بھگتنے اور ان پر اس ملک کی زمین تنگ ہونے کی بات کر دی۔ نہال ہاشمی کو معلم ہوناچاہئے کہ اب یہ کام اتنا آسان نہیں رہا اور یہ ملک کسی کی میراث بھی نہیں ہے۔ دراصل جمہوری حکومتیں اپوزیشن کی نہیں ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کی عادی ہو چکی ہیں اور پھر یہ اسی جمہوریت کا نتیجہ ہے کہ جس کی وجہ سے خود نہال ہاشمی حکمران جماعت کا حصہ بن کر اقتدار کے مزے میں ہیں ورنہ یہ سچ ہے کہ ’’آمرانہ جمہوریت‘‘ بھی جمہوریت کی بدترین شکل ہوتی ہے مگر پھر بھی آمرانہ ادوار کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ عمران خان پر جتنی مرضی تنقید کی جائے مگر یہ سچ ہے کہ اس نے اپوزیشن لیڈر ہونے کا حقیقی کردار ادا کر کے یہ دن دکھایا ہے کہ احتساب صرف عوام کا ہونے کے انداز تبدیل ہوئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ مظلومیت کا ڈرامہ سامنے آ کر نہال ہاشمی کی تقریر کا توڑ بنتا ہے یا پھر ہم وادیٔ طور میں نہیں ہیں کہ جہاں خدا سے دور بیٹھنے کا سوال سامنے آتا ہے۔ فی الحال ایبٹ آباد سے چلنے والے محاورے کو دیکھتے ہیں جو سعدیہ ملک کی پوسٹ پر نظر آیا تھا اور جو اردو ڈکشنری کا حصہ بن سکتا ہے۔ اپنا خیال رکھیئے گا۔