نیا خیبر پختونخوا

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
نیا خیبر پختونخوا

پیرس میرا مطلب (لاہور) سے نئے خیبر پختونخوا تک کا تین دن کا سفر طنز و مزاح سے بھر پور اور نہایت دلچسپ تھا۔ سفر کے آغاز میں ہی نئے خیبر پختونخوا کی imagination کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسلام آباد سے پشاور بذریعہ روڈ سفر کے دوران نصراللہ ملک کے تنقیدی جملے اور ایثار رانا کی جگل بندی نے سما باندھ دیا۔ اسلام آباد موٹروے سے پشاور کی حدود میں داخل ہوتے ہی سورج کی تاب ہو یا پھر درختوں کی ٹہنیوں پر پرندوں کی چہچہاہٹ سب کو نئے خیبر پختونخوا کے رنگ سے تشبہیہ دیا گیا۔ پشاور میں پہلا دن اطمینان بخش نہ گزرا، کیونکہ پہلے دن دو ڈیپارٹمنٹ کی بیوروکریسی نے بریفنگ دی۔ البتہ پشاور کا اکلوتا فلائی اور، نئے پارکس، انکروچمنٹ سے پاک پشاور کے کونے کونے میں نیا خیبر پختونخوا دیکھتے رہے۔ عمران خان کی تحریک ’’نئے پاکستان کو نئے خیبر پختونخوا میں ڈھونڈنے کی کوشش تھی‘‘ دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف کی دوربین سے نئے خیبر پختونخواکو قریب سے دیکھنا کا شوق تھا۔ البتہ پہلے دن رات کے کھانے پر چیف منسٹر پرویز خٹک صاحب نے بریفنگ دی۔ جس میں ان کی Intention اور پلاننگ میں امید اور تبدیلی کی مہک محسوس ہوئی۔ خٹک صاحب نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا کی حکومت پنجاب حکومت سے موازنے کی بجائے خیبر پختونخوا کی پچھلی حکومت کی پندرہ سالہ کارکردگی اور پی ٹی آئی کی اس حکومت کی تین سال سے کارکردگی کا ضرور موازنہ کرے۔ پنجاب سے اس لئے موازنہ نہ کیجئے کیونکہ وہاں شہباز شریف 8 سال سے مسلسل حکومت کر رہا ہے۔ جبکہ کے پی کے میں پچھلے پندرہ سال جنہوں نے حکومت کی۔ اس صوبے کا بیڑاغرق کردیا۔ اور خیبر پختونخوا کا ہر ادارہ انفراسٹرکچر سب کچھ تباہ و برباد ملا۔ مگر اب ہم نے تین سالوں میں اس صوبے کو بہت بہتر کردیا ہے وزیراعلی نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں ''تبدیلی'' کہاں ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ ''تبدیلی'' یہ ہے کہ ہم نے خیبر پختونخوا میں گورننس کو بہتر کیا ہے اور ہماری تبدیلی انسانوں یعنی کہ عوام الناس کی زندگی میں بہتری لانے میں ہے نہ کہ شو آف کرنے والے منصوبوں میںہے۔ جس میں ہم کامیاب ہو رہے ہیں۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صحافیوں کی ہر تنقید کو کھلے دل کے ساتھ سنا بلکہ دلیل کے ساتھ جواب بھی دیئے۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک سادہ لوح شخصیت کے مالک دیکھنے کو ملے۔ نہ کوئی تکبر تھا نہ کوئی گھمنڈ۔ پرویز خٹک صاحب نے کہا کہ ''میں چیف منسٹر ہائوس میں نہیں رہنا چاہتا بلکہ اس کو لائبریری بنانا چاہتا تھا مگر مجھے کہا گیا کہ سکیورٹی وجوہات ہیں اور یہ ریڈ زون ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلی نے وفاقی حکومت کے عدم تعاون کا بھی شکوہ کیا۔ کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار جو کہ میرے بچپن کے دوست ہیں دھرنے کے دنوں میں تھوڑی دوریاں ہو گئیں تھیں۔ مگر میں چوہدری نثار کو خیبر پختونخوا کے سکیورٹی معاملات سے متعلق چارماہ سے خط لکھ رہا ہوں مگر چوہدری نثار نے جواب نہیںدیا وزیراعلی خیبر پختونخوا نے بتایا کہ ہم نے صوبے میں جو کام کیے ہیں وہ یہ ہیں۔
نمبرا:۔ ہم نے پولیس کو بہترین پولیس بنایا، اب سیاست سے پاک پولیس کا م کررہی ہے۔
نمبر2:۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے احتساب کمیشن قائم کیا جو بلا تقریق سب کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
نمبر3:۔ پٹواری کلچر کا خاتمہ کیا۔
نمبر4:۔ تعلیم کے لیے ایمرجنسی ڈکلیئر کیا۔
نمبر5:۔ ملین سونامی ٹری کے نام سے درخت لگانے کی مہم کا آغاز کیا، جو کہ گلوبل وارمنگ کیلئے نہایت ہی ضروری ہے۔
نمبر:6۔ Right of information پہلی بار متعارف کروایا۔ اب کوئی بھی تیسری حکومت سے معلومات حاصل کر سکتا ہے۔
نمبر 7:۔ لوکل باڈی الیکشن کروائے اور ترقیاتی بجٹ کا 30 % لوکل گورنمنٹ کو منتقل کیا۔ جو کہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا اور اب مقامی حکومتیں خیبر پختونخوا میں کام کر رہی ہیں۔
تعلیم اور انرجی کے وزیر عاطف خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعلیم کا نظام اس قدر گل سڑ چکا تھا کہ ایک چوکیدار 14 سال سے سکول نہیں آیا۔ جب ہم نے انکوائری کی اور اسے بلایا تو وہ مرسڈیز گاڑی پر آیا۔ سکو لو ں میں اساتذہ کی حاضری سے لے کر سکولوں کی چاردیواری تک نہیں تھی۔ جس پر 80 فیصد کا م کیا جا چکا ہے اور صوبے میں ہماری تعلیمی ایمر جنسی اور اقدامات کی وجہ سے 2 فیصد Littrarcy rate Improve ہو ا ہے۔ وزیراعلی نے کہاکہ چوہوں کی وجہ سے تنقید کی گئی مگر کسی کو یہ نہیںپتا کہ انکروچمنٹ اور گٹروں کی صفائی کی وجہ سے چوہے وہاں سے نکلے اور چوہوں کو مارنے کی مہم کا آغاز کیا گیا۔ عمران خان جو کہ ایک طرف وفاق میں سخت اپوزیشن کر رہے ہیں دوسری طرف اب خیبر پختونخواکی حکومت پر بھی لگتا ہے کہ خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور اس وزٹ کے دوران عمران خان صاحب بھی خیبر پختونخوا کے دورے پر آئے اور حکومت کی پرفارمنس پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنے کام کی پروجیکشن نہیں کی۔ جس سے لوگ اس حکومت کا کارکردگی سے واقف نہیں۔ ورنہ خیبر پختونخوا حکومت پچھلی حکومتوں سے بہت بہتر پرفارم کر رہی ہے۔اور باقی Tenure میں مزید تیزی کے ساتھ مختلف شعبوں میں ترقی اور بہتری کا کام ہوگا۔عمران خان نے ہسپتالوں میں بہتری کے حوالے سے بتایاکہ ایک ماہ میں لیڈی ریڈینگ ہسپتال کو شوکت خانم کے میعار اور طرز کا بنا دیں گے اور صحافیوں سے کہا کہ ایک ماہ بعد لیڈی ریڈینگ ہسپتال کا خود دورہ کروائوں گا۔
آئی جی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی نے بتایا کہ پولیس میں سیاسی مداخلت بالکل نہیں ہے اور پولیس کو خود مختیار ادارہ بنایا جسکی وجہ سے پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے ۔آئی جی صاحب نے بتایا کہ پولیس میںماڈل پولیس اسٹیشن سے لیکرجرگہ طرز کی عدالتیںبنائی جس میںجیوری voluntary کام کر رہی ہے۔ پولیس میںجتنے بھی اقدام کیے۔ کوئی زائد بجٹ نہیں لیا گیا۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے بتایاکہ کے پی کے کی پولیس سب سے زیادہ چیلنجزز فیس کر رہی ہے۔ دہشت گردی کو فرنٹ پر فیس کر رہی ہے اور کئی پولیس افسران اور جوانوں نے دلیری کے ساتھ دہشتگردی کا مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔
کے پی کے کے دورے کے دوران کے پی کے حکومت کے نمائندے اور زندگی کے ہر شعبے سے منسلک لوگ بہت ہی ملنسار اور عاجز تھے اور انکا اخلاق بھی عام عوام جیسا بہت اچھا تھا،تمام حکومتی ادارے عوام سے تعاون کا مظاہرہ کرتے ہوئے دکھائی دیئے، کے پی کے حکومت کے اقدام خوش آئند ہیں اور صوبے میں اچھاپرفارم کرنے کی کوشش کر رہی ہے مگر کے پی کے کی حکومت کوکچھ اداروں مثلاً ٹرانسپو ر ٹ ا ور انفراسٹرکچرپر بھی توجہ دینی کی ضرورت ہے۔کبھی بھی کوئی ملک ،شہراور علاقہ ترقی نہیں کر سکتاجب تک تمام شعبوں میں بہتری نہ لائی جائے۔