’’یوم تکبیر‘‘ سارا سال منانا چاہیے

کالم نگار  |  مسرت لغاری
’’یوم تکبیر‘‘ سارا سال منانا چاہیے

کبھی عرش پر کبھی فرش پر‘ کبھی ان کے در کبھی دربدر
غم عاشقی تیرا شکریہ میں کہاں کہاں سے گزر گیا
اور جی ہاں یہ ہماری قوم کی تقدیر قابل صد احترام ڈاکٹر قدیر تھا جو مال و دولت سے بھرے ملکوں کو چھوڑ کر وطن عزیز کی مٹی کے عشق میں گرفتار اس بحرغم میں غلطاں و پیچاں چپ چاپ وطن چلا آیا کہ دشمن نے پوکھران میں دو ایٹمی دھماکے کرکے ہماری غیرت ملی کو جس طرح للکارا ہے‘ ان کا توڑ بلکہ اس کے بموں کو ہاتھ میں پکڑ کر کانچ کی طرح توڑ دینے کیلئے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔ وہ سوچتا رہا‘ سوچتا رہا اور پھر بم بنا کر اور چلا کر وہ کچھ کر دیا جو ہم پاکستانیوں کی زندگی بلکہ دنیا بھر کی مسلم تاریخ کا ایک تاریخ ساز دن بن گیا۔ ’’28 مئی‘‘ ایک ایسا یادگار دن ہے جو ہمارے لئے بجائے خود تمام پاکستان سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس لئے کہ ہم 14 اگست کے روشن و عظیم دن اگر ہندوئوں اور انگریزوں کے دوہرے استعمارے سے آزاد ہوئے تھے تو 28 مئی جوکہ چودہ کے دوہرے ہندسے کی مناسب سے دوہری اہمیت کا دن ہے‘ اسی دن ہمیں اپنی حاصل کردہ آزادی کی نعمت کو برقرار رکھنے کا ادراک ہوا۔ آج کے مقدس دن ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور باقی تمام قابل فخر سائنسدانوں نے دشمن کے ایٹمی دھماکے کے جواب میں اس کے کلیجے پر پانچ ایٹمی دھماکے کرکے اسے باور کرایا کہ باطل خبردار رہے۔ اس کے مذموم‘ گھنائونے اور انسانیت کش اقدام پر صرف پاکستان کا ہر جاندار ہی نہیں‘ بے جان‘ چاغی چٹان تک کی بیدار ہے بلکہ وطن عزیز کے ہر پہاڑ کے ہر پتھر کا ہر ریزہ بجائے خو ایک چاغی چٹان ہے۔ ایک تیزدھار میزائل ہے جو وقت آنے پر کفار پر ابابیلوں کی کنکریوں کی طرح برس جائے گا اور اسے تہس نہس کر دے گا۔ ہمارے وطن کی تاریخ پر صد رحمتیں اور صد سلام ہوں کہ اس دن اس کے چند اہم ایام میں ایک نئے یوم کا اضافہ ہوا۔ ہم نے ایک باغیرت اور بہادر قوم کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر نیا جنم لیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیشہ اس دن کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے ہمارے جذبوں کو اسی طرح جنون خیز و جوان اور سلامت رکھے جو دھماکوں کا موجب بنے۔ ہم بجا طورپر قوم کے اس مایہ ناز سپوت پر فخر کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے جس نے یہ فخریہ مان اور احساسِ تحفظ عطا کیا۔ ہم اور ہماری آنے والی تمام نسلیں قیامت تک اس کی مقروض و ممنون رہیں گی۔ قوم کو یاد ہوگا جس روز ہمارے ازلی دشمن کے کلیجے پر ہمارے پانچ بم پھٹے تھے اور ان کے تکبر‘ غرور کا بت ہوائوں‘ فضائوں اور خلائوں میں ریزہ ریزہ ہوا تھا۔ قوم کا بچہ بچہ اپنے بزرگوں سمیت فتح اور خوشی کے جذبے سے سرشار تھا۔ ملک کے ممتاز شاعر محترم سید ضمیر جعفری نے ’’محسن ملت کو سلام‘‘ کے عنوان سے خوبصورت منظوم خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا …؎
حاسد بد کے تشدد سے بچا لایا ہے تو
زندگی کو آخری حد سے بچا لایا ہے تو
اور یہ کہ  …؎
صبح روشن ہو گئی ہے اعتمادِ ذات کی
بم بنا کر تم نے گویا امن کی خیرات کی
لیکن بات صرف ضمیر جعفری صاحب کے جذبہ عقیدت و احترام و تحسین کی نہیں‘ اس روز تو ملک بھر کے دانشوروں‘ ادیبوں اور شاعروں نے اپنے اپنے احساسات محسنِ قوم پر نچھاور کئے گئے۔ اس حوالے سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب صرف ایٹمی سائنسدان ہی نہیں‘ ایک دردمند دل رکھنے والے سچے پاکستانی بھی ہیں۔ ان کی انسانیت دوستی‘ علم پرستی‘ اصلاح معاشرہ کا جذبہ اور وطن کی مٹی سے کمٹمنٹ‘ یہ چار ایسی خصوصیات ہیں جو پاکستان جیسے ترقی پذیر اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ملک کیلئے نعمت سے کم نہیں ہیں۔ وہ دفاعی میدان میں انتھک محنت کیساتھ ساتھ تعلیمی اور اصلاحی سطح پر بھی ہر لمحہ پاکستان کی تعمیروترقی کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ شبانہ روز ایسے ایسے منصوبوں کی تشکیل و تکمیل میں لگے رہتے ہیں کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق قوم ان پر عمل پیرا ہو جائے تو پاکستان مختصر عرصے میں ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے ۔ نوازشریف کو بھی یقینا اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے جس نے بلاشبہ نتائج سے بے پروا ہوکر امریکہ کی رضا و رضامندی کے بالکل برعکس دھماکے کرکے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا تھا جبکہ نوازشریف کے دھماکے کرنے کا اصل کریڈٹ ’’پاسبان پاکستان‘‘ جناب مجیدنظامی کو جاتا ہے جب انہوں نے یہ بیان دیا کہ ’’نوازشریف اگر آپ نے دھماکہ نہ کیا تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔‘‘  قارئین! 28 مئی یوم تکبیر اور ڈاکٹر قدیر دونوں ہم قافیہ الفاظ کی فتح کا دن ہے بلکہ آج کا روشن دن ڈاکٹر قدیر کے روشن دیئے کی روشنی لیکر تابندہ  ہے۔ ادھر قوم کا جذبہ بھی فزوں تر ہے۔ یہ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا دن ہے بلکہ یہ محض ایک دن نہیں ہے‘ پورے سال کیلئے ہمارے جوش و جذبے کو زندہ رکھنے کا دن ہے۔ ہماری قومی غیرت و حمیت کی تجدید کا دن ے۔ اپنے دشمن کو چیلنج بلکہ نابود کرنے کے عہد نو کا دن ہے۔ اے کاش بہت جلد وہ دن آئے جب ہم کشمیر کو آزاد کرانے کے بعد ہم یوم کشمیر اور یوم تکبیر ایک ساتھ منائیں۔ قوم اپنے اس عزم کی تکمیل کیلئے جدوجہد کرے۔ انشاء اللہ وہ ہر سطح پر دشمن کو شکست دینے میں کامیاب و کامران ہونگے۔ ہمیں اپنے وطن کی مٹی سے عشق ہے اور عشق کی جنوں خیزی کے سامنے ہمیشہ راستوں کی مشکلیں دھول بن کر اڑ جاتی ہیں۔ شاید اسی لئے اقبال نے فرمایا تھا …؎
’’غمِ عاشقی تیرا شکریہ‘ میں کہاں کہاں سے گزر گیا‘‘
یاد رکھئے! قارئین ہم نے اپنی جان سے گزر کر وطن عزیز کی حفاظت کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا ایٹمی دھماکے کرنے کا مان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سایہ ہم پر تادیر سلامت رکھے۔ موجودہ حکومت کا یہ عزم بھی قوم کیلئے بے حد طمانیت کا باعث ہے کہ پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت کو مزید آگے بڑھانے کیلئے دن رات کوشاں رہے گا اور یہ کہ ہمارے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے معائنے کیلئے کسی ملک کے معائنہ کاروں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ دعا ہے کہ رب العالمین وطن عزیز کو قیامت تک قائم و دائم رکھے اور ہمارے ایٹمی دھماکوں کی گونج ہمیشہ چار دانگِ عالم میں گونجتی رہے۔