کرکٹ کیخلاف سازش ناکام،خود کش حملے سعودی قیادت کا امتحان

کرکٹ کیخلاف سازش ناکام،خود کش حملے سعودی قیادت کا امتحان

زمبابوے کی کمزور ٹیم نے پاکستان پر کرکٹ کے دروازے کھولنے کیلئے مضبوط کردار ادا کیا۔کرکٹ بورڈ اورحکومت کی طرف سے سیکورٹی کے فول پروف انتظامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔دشمن بھی بڑا کایاں ہے۔ اس نے زمبابوے ٹیم کو ڈرانے اور دورہ منسوخ کرانے کی اپنی سی کوشش کی۔کراچی کے سانحہ صفورہ گوٹھ کو ہوا بناکر پیش کیا۔ پاکستان کو کسی بھی کھیل کیلئے خطرناک قرار دیا جس سے زمبابوے حکومت متاثر بھی ہوئی اور پاکستان کا دورہ موخر کرنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کی بہترین سفارتکاری کے باعث زمبابوے حکومت اور کھلاڑیوں نے کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دورے کی بحالی کا اعلان کیا اور ٹیم پاکستان چلی آئی جہاں اس کی بھرپور پذیرائی کی گئی۔ کرکٹ کے شائقین عمدہ کھیل پر زمبابوے کے کھلاڑیوں کی دل کھول کر حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں طرف پاکستان کی ٹیم کھیل رہی ہے۔گو زمبابوے کی ٹیم دونوں ٹی ٹونٹی اور تین میں سے دو ون ڈے میچ ہار گئی مگر اس ٹیم نے بہترین کھیل پیش کیا اور ایک بھی میچ پاکستان کو آسانی سے نہیں جیتنے دیا۔ چاروں میچوںمیں زمبابوے نے خوب مقابلہ کیا۔زمبابوے کی جانب سے آخری میچ جیتنے کے قوی امکانات تھے کہ میچ بارش کی نذر ہوگیا۔ اسے پاکستان نے 297رنز کا ہدف دیا تھا۔آٹھ اوورز میں زمبابوے نے بغیر کسی نقصان کے68رنز بنا لئے تھے کہ بارش ہوگئی۔پاکستان کے ازلی دشمن کو پاکستان میں کرکٹ کی بحالی اپنی موت نظر آتی ہے۔ پاکستان کو نقصان سے دوچار کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جانے کوتیار رہتا ہے۔ اسے کس طرح گوارہ تھا کہ پاک زمبابوے کرکٹ سیریز کا انعقاد پر امن طریقے سے ہوپائے۔ اس نے اپنی فطرت کیمطابق اس کرکٹ سیریز کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب بھی ہواچاہتاتھامگر اللہ کی کرم نوازی سے اس سازش بڑی طرح ناکام رہی۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرے ون ڈے میچ کے موقع پر جمعہ کی شب 9 بجے پولیس کی وردی میں دہشتگرد کلمہ چوک کے قریب رکشے سے اتراڈیوٹی پر موجودسب انسپکٹر عبدالمجید نے شک کی بنا پر اسے روکا تو نہ رکنے پر اس دبوچ لیا اس دوران وہ منہ کے بل سڑک پر گرا اور بلاسٹ ہوگیاجس سے گو سب انسپکٹر عبدالمجید اور ایک شہری شہید ہوگئے مگر ایک بہت بڑے نقصان سے ملک بچ گیا۔ دہشتگرد کہیں بھی خود کو اُڑا لیتا اس سے خدانخواستہ دس بارہ ہلاکتیں ہو جاتیں تو شہر میں کہرام مچتا اور میڈیا نے تو آسمان سر پر اٹھاناہی تھا۔ جہاں میڈیا نے اجتماعی طور پر بہترین اور حب الوطنی پر مبنی کردار ادا کیا۔ اس دھماکے کی خبر اچھالنے سے گریز کیا۔ روٹین میں تو ایک پٹاخے کو بھی بم اور خود کش دھماکہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ زمبابوے کی ٹیم پاکستان میں کامیابی سے کرکٹ کے دروازے کھول کر واپس چلی گئی۔ یہ کسی کی ہار جیت کی بات نہیں یہ پاکستان میں کرکٹ کی جیت ہوئی ہے۔ جس میں سب انسپکٹر عبدالمجید کا خون بھی شامل ہے۔ یقیناً سب انسپکٹر عبدالمجید ستارہ جرات کا مستحق ہے۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ جس روز لاہور میں دھماکہ ہوا اسی روز سعودی عرب کے شہر دمام میں نمازجمعہ کے دوران مسجد کے باہر بھی ایک اور خودکش دھماکہ ہوا جس میں 4 افراد جاںبحق اور 10 زخمی ہوگئے۔ مسجد کے باہر خودکش دھماکہ کرنے والے بمبار کو امریکی یونیورسٹی کے 25 سالہ گریجویٹ نے روک کر بڑی تباہی اور جانی نقصان سے بچایا۔ خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی تو عبدالجلیل ابراش نے اسکا پیچھا کیااور اسے دبوچ لیا تاآنکہ دھماکہ ہواجس میںابراش بھی شہید ہوگیا۔ اگر نقاب پوش کو مسجد کے اندر جانے کا موقع مل جاتاتو تباہی کا انداز کرتے ہوئے ہی روح کانپ جاتی ہے۔ گزشتہ جمعہ کو بھی سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران مسجد امام علی میں خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ دونوں دھماکوں کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔ سعودی عرب میں پے در پے دھماکے انتہائی خطرے کی علامت ہیں۔ داعش نے شیعہ کمیونٹی کیخلاف کارروائی کیلئے سعودی حکومت پر زور دیا تھا۔ سعودی حکومت نے شورش دبانے کی حد تک تو کارروائی کی مگر داعش کے مطالبے پر اپنے شہریوں کو انتقام کا نشانہ بنانے سے انکار کر دیا جس کے بعد داعش سعودی مفادات کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔سعودی عرب ایک پُرامن ملک تھا۔ اسکے حکمرانوں کو نہ جانے کیا سوجھی کہ یمن پر دس عرب ممالک کو ساتھ ملا کر بمباری شروع کردی۔ شیعہ اکثریتی آبادی کے تین صوبوں میں حکومت کیخلاف پہلے شورش بپا ہے۔ یمن پر بمباری سے ایران یمن کے ساتھ کھڑاہوگیا اسکی طرف سے سعودی عرب پر کبھی حملے اور کبھی اسے پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔یہ مصیبتیں خود سعودی حکمرانوں نے اپنے لئے کھڑی کی ہیں۔ سعودی حکمران اس جنگ میں پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیںجہاں سے عوامی سطح پر اس کیلئے حمایت ملنے کا امکان نہیں کیونکہ مقدس ہستیوں کے مزارات گرا کرسواد اعظم کے دل چیر کے رکھ دیئے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں سعودی حکمرانوں کی حمایت میں صرف فنڈ وصول کرنے والوں کی آواز ہی اُٹھ رہی ہے۔حکومت سواد اعظم کی مرضی کے برعکس فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبانی طور پر حکومت نے فوج سعودی عرب بھجوانے کا اعلان کیا اور اس عمل پارلیمنٹ کے ذریعے رکوا دیا۔ خدا سعودی عرب کو مزید دھماکوں اور دہشتگردی سے محفوظ رکھے تاہم یہ سعودی قیادت کا امتحان ہے جو اس نے خود اپنے لئے چنا ہے دیکھیں وہ اس میدان کس طرح کامیاب ہوتی ہے۔