میاں شہباز شریف کاپولیس پر کنٹرول!

کالم نگار  |  منیر احمد خان
میاں شہباز شریف کاپولیس پر کنٹرول!

ڈسکہ بارکے صدر رانا خالد اور عرفان چوہان ایڈووکیٹ کے پولیس کے ہاتھوں قتل نے پاکستان بھرکے وکلاء کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جس سے پورے ملک کے وکلاء اور سیاسی کارکنوں میں خوف و ہراس کی فضاء پیدا ہوگئی ہے۔کوئی توقع نہیں کی جا سکتی کہ ایک تھانیدار غصے میں آ کر قانون دانوں کو مار دیگا۔وکلاء اور پولیس کا ہر وقت کا ساتھ ہوتا ہے۔کوئی پولیس والاوکیلوں سے خوش ہوتا ہے توکوئی ناراض لیکن عدالت، وکیل اور پولیس ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔آج  بڑی افسوسناک صورتحال ہے۔گوایس ایچ او شہزاد وڑائچ کو فوری گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن اس واقعہ کی سنگینی نے پنجاب حکومت کی گڈگورننس کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ میاں شہباز شریف ایک زبردست منتظم کے طور پر مشہور ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پولیس پر انکا کنٹرول کمزور ہوکر رہ گیا ہے۔ ایک طرف پولیس وکلاء کو قتل کر رہی ہے تو دوسری طرف ضلع کے27 ایس ایچ اوز اجلاس بلاکر مطالبات پیش کر رہے ہیں جس میں انہوںنے ڈی پی اوکا تبادلہ روکنے، وکلاء کیخلاف مقدمات قائم کرنے اور ساتھی ملزم تھانیدارکو انصاف دلانے کے مطالبات کر ڈالے۔ پولیس جسکو ہم قانون نافذ کرنے والا ادارہ کہتے ہیں وہ یونین بنا کر مطالبے کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کس کے بل بوتے پر؟ کیا پولیس والوںنے یہ خبر پڑھی تھی کہ جس دن ضلع سیالکوٹ کے تھانیداروں نے اجلاس کیا اس دن پورے ضلع میں ڈکیتی اور چوری کی کوئی واردات نہیں ہوئی۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ پولیس کسی کے قابو میں نہیںآتی۔ تھانیدار سفارش سے لگتے ہیں یہ بات عام ہے کہ چوری، ڈکیتی، فراڈ، جوائ، منشیات کا کاروبار، رسہ گیری اور اس طرح کے دوسرے جرائم پولیس کی سرپرستی کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ پولیس شریفوں کیلئے رحمت نہیں بلکہ دہشت کی علامت بن چکی ہے۔ پنجاب پولیس تو اس حوالے سے بہت زیادہ مشہور ہے۔ پولیس میں بہت اچھے لوگ بھی ہونگے لیکن مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پولیس کی اکثریت ایسی نہیں۔ پولیس کیخلاف سینکڑوں انکوائریاں چل رہی ہیں۔ عام آدمی کیساتھ زیادتی اور رشوت خوری جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ یہاں ایک بات مشہورہے کہ تھانے کا ایس ایچ او چاہے تو اسکے علاقے میں کوئی واردات نہیں ہو سکتی۔ وکلاء میں بھی کالی بھیڑیں ہوتی ہیں۔میاں شہبازشریف پنجاب کی حالت کو تبدیل کرنے کیلئے سڑکوں کا جال بچھا رہے ہیں لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ سب ترقی بیکار ہے اگر لوگوں کو جان و مال کا تحفظ نہ ہو۔گزشتہ روز ممبر صوبائی اسمبلی راناشمشاد، انکے بیٹے اور ایک ساتھی کا قتل پولیس کے منہ پر طمانچہ ہے دن دیہاڑے خاندان کے خاندان قتل ہو رہے ہیں اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ماڈل ٹائون میں 14افرادکا قتل ابھی تک پنجاب حکومت کے سر پرسوار ہے۔ حالانکہ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے گھر تجاوزات ہٹائے جانیوالی پولیس کو بندے مارنے کا حکم میاں شہباز شریف یا راناثناء اللہ نے نہیں دیا تھا۔ عوامی تحریک نے تو رنگ بھرنے کیلئے وزیراعظم سے لیکر رانا ثناء اللہ تک ہر ایک کا نام ایف آئی آر میں دے دیا تھا، سوال یہ ہے کہ میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ اور خادم پنجاب ہوں اور پولیس والے من مرضی کر رہے ہوں بڑی عجیب بات لگتی ہے۔ انسپکٹر جنرل سے لیکر سپاہی تک کوئی حکومت کی سننے کیلئے تیار نہیں۔ اب تو پولیس میں کھلی کچہری لگانے کا رواج بھی بند ہوگیا ہے۔ جبکہ چھوٹے افسر سے لیکر بڑے افسر تک عام آدمی سے ملنے تک تیار نہیں۔وکلاء کے قتل پر بھی پنجاب حکومت نے سخت موقف اختیار نہیں کیا۔ دوسری طرف وکلاء کو تقسیم کرکے حکومت نے اپنی نیک نامی میں اضافہ نہیں کیا۔ پنجاب بارکونسل ایک آئینی ادارہ ہے۔ وہ پنجاب کے وکلاء کو ایجی ٹیشن کرنے سے نہیں روک سکتے۔ دوسرا ہائی کورٹ بار پنجاب کے وکلاء خصوصاََ لاہور، گوجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژن کے وکلاء کی نمائندہ بار ہے۔ ڈسکہ میں ہونے والا واقعہ لاہور ہائیکورٹ بارکی حدود میں آتا ہے۔ میاں شہباز شریف کو غلط مشورہ دیکر پنجاب بارکونسل کی وائس چیئرمین سے میٹنگ کرائی گئی۔ ضرورت یہ تھی کہ لاہور ہائیکورٹ بار سے ملاقات کرائی جاتی۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی اور سیکریٹری محمد احمد قیوم حکومت مخالف نہیں ہیں۔ اس طرح سپریم کورٹ بارکے عہدیدار بھی حکومت مخالف نہیں۔ دونوں بار کے راہنمائوں نے خیر سگالی کے طور پر شہباز شریف سے ملاقات بھی کی تھی اور وزیر اعلیٰ نے کروڑوں کے فنڈز بھی دئیے تھے لیکن حکومت کیلئے یہ مناسب نہیں کہ وہ وکلاء کو تقسیم کرے۔ اس سے تو نفرت بڑھے گی اور وکلاء تحریک میں اور شدت پیدا ہوگی۔ وکلاء تو ہر وقت سڑکوں پر آنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ میں نے نہیں دیکھاکہ سپریم کورٹ بار پاکستان بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار نے براہ راست حکومت پر قتل کا الزام لگایا ہو۔ وکلاء کے نمائندے حکومت اور چیف جسٹس سے کیا مطالبہ کر رہے ہیںکہ انصاف چاہئے۔ حکومت کو فریق بننے کی کیا ضرورت ہے۔
پولیس گردی کا عالم یہ ہے کہ KPK میں سینئر سیاستدان میاں افتخارحسین کو قتل کے الزام میں پولیس نے گرفتارکر لیا ہے جس پر عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس آزاد ہے اور FIR حکومت کی مرضی سے نہیں لکھائی گئی۔گزارش ہے کہKPK پولیس کی طرف سے میاں افتخار حسین جیسے لیڈرکی گرفتاری کی کسی طرح بھی تائید نہیں کی جا سکتی۔ یہ اقدام کسی طرح بھی انصاف کے تقاضوں کیمطابق نہیں۔ مجھے بتائیں کہ کیاکوئی شخص عمران خان کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کرائیگا تو پولیس عمران خان کوگرفتار کریگی؟ پولیس کو چاہئے تھاکہ ایف آئی آر درج کرنے کے بعد ابتدائی تحقیقات کرتی جس کے نتیجے میں گرفتاریاں ہوتیں۔ اسی طرح سندھ پولیس ذوالفقار مرزا کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ آئے روز مقدمے قائم کئے جا رہے ہیں جس سے سندھ پولیس کی کارکردگی کا جنازہ نکل گیا ہے۔ اورکہا جا رہا ہے کہ سندھ حکومت پولیس کا غلط استعمال کرا رہی ہے۔ چلو یہ شکر ہے کہ پنجاب میں میاں شہباز شریف حکومت پر یہ الزام نہیں کہ پولیس کو سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ میاں شہباز شریف صاحب آپکی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کریں۔ پولیس میں موجودکالی بھیڑوں کا صفایا کریں۔ معصوم، شریف اور نہتے عام لوگوں کے تحفظ کیلئے ڈھال اور انکی حفاظت کی ذمہ دارحکومت ہوتی ہے۔ اس لئے توجہ دینے اور پولیس کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ دن نہ ا ٓجائے کہ پنجاب میںبھی لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے APEXکمیٹیوں کو حرکت میں آنا پڑے۔