سیالکوٹی کبوتر اور ’’را‘‘ طوطے

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ
سیالکوٹی کبوتر اور ’’را‘‘ طوطے

طوطا، مینا، شہباز اور کبوتر جیسے پرندوں سے ہماری ثقافت تاریخ اور شعروشاعری بھری پڑی ہے۔ خاص طور پر گذشتہ روز بھارتی فوج کی طرف سے پاکستانی علاقے شکرگڑھ(سیالکوٹ) سے اڑ کر بھارت کے قریبی گائوں میں چلے جانیوالے کبوتر کو پکڑنے کے بعد جاسوس ثابت کرنے کا واقعہ جہاں بھارت کیلئے جگ ہنسائی کا سبب بنا وہیں اس پرندے سے وابستہ بے شمار واقعات اور یادیں ہمارے ذہن میں گھومنے لگیں۔ یار لوگوں نے تو صرف آجکل کے دور میں کچھ گھروں کے اوپر خاص قسم کے چبوترے بنے دیکھے ہونگے جہاں کچھ کبوتر باز دوست ہمہ وقت انکے ساتھ شغل میں مصروف رہتے ہیں۔ زمانۂ قدیم سے ہی کبوتر پیغام رسانی کا ذریعہ مانے جاتے تھے اکثر پیار کرنیوالے جوڑے اسے بطور ’’موبائل‘‘ استعمال کرتے تھے جبکہ قدیم بادشاہوں میں ان کو ہزروں میل لمبی مسافت میں پیغام رسانی کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جرمن نازی فوج کے پاس ایک کبوتر بریگیڈ بھی شامل تھا۔ سدھائے ہوئے ہر کبوتر نہ صرف پیغام رسانی کا عمل سرانجام دیتے بلکہ دشمن کے اسلحہ گوداموں میں انکے ذریعے فدائی حملے بھی کروائے جاتے تھے۔ زمانے کے بدلنے کے ساتھ جب ٹیکنالوجی نے ترقی کی تو کبوتر کا استعمال بھی اپنی افادیت کھوتا چلا گیا جبکہ زمانہ قدیم میں روساء اور شہزادوں سمیت شعرائے کرام خوبصورت اور مہنگے کبوتر رکھنے کے شوقین تھے لیکن 2015ء کے اس جدید دور میں کبوتر کو پکڑ کر اسکے ایکس رے کروانا اور ڈی این اے ٹیست کروانا بھارت کی حواس باختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
 قارئین کرام! بھارت کی بدنامِ زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے کئی ’’را‘‘ طوطے پال رکھے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں طوطوں کی تین سو بہتر اقسام پائی جاتی ہیں اور سب سے زیادہ اور خوبصورت طوطے سائوتھ امریکہ کے ممالک بشمول برازیل اور آسٹریلیا میں پائے جاتے ہیں۔ہمارے سکول کے زمانے میں میرے ایک کلاس فیلو رانا مسعود کے گھر کے پاس امرودوں کا بہت بڑا باغ ہوتا تھا او رطوطوں کے غول اس باغ پر اکثر یلغار کرتے اور امرودوں کی آدھی پکی فصل کو کاٹ کاٹ کر تباہ کر دیتے تھے جس سے مسعود کے والدین اکثر پریشان رہتے تھے اور طوطوں کو بھگانے کیلئے نت نئے جتن کیے جاتے تھے او رآج جب میں اپنے چمن، اپنے وطن، اپنے پاکستان کے اندر ان بھارتی ’’را‘‘ طوطوں کو چمن اجاڑتے ہوئے دیکھتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ’’را‘‘ کے یہ طوطے ہر طبقۂ ہائے فکر میں موجود ہیں اور چند ٹکوں کی خاطر میر جعفر، صادق جیسا کردار ادا کرنے کو مل جاتے ہیں۔ گذشتہ تیرہ سال کے دوران دشمن کے ان ایجنٹوں نے وطن عزیز کے اندر ایک لاکھ سویلین اور دس ہزار عسکری جوانوں کو اپنے لالچ کی بھینٹ چڑھایا۔ سانحہ جی ایچ کیو، کامرہ ایئربیس، نیول بیس ، شکارپور، سانحہ پشاور، سانحہ مستونگ اور سانحہ صفورہ جیسے سانحات دشمن کبھی برپا نہ کر سکتا تھا اگر اسے مقامی غداروں کی حمایت حاصل نہ ہوتی۔ دشمن کی بولی بولنے والے یہ ’’را‘‘ طوطے سیاست سے لے کر بیوروکریسی، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور صحافت میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ وطن عزیز کو جتنا لوٹ سکتے تھے لوٹا اور باقی مال غنیمت سمیٹتے ہوئے ملک سے باہر منتقل کرنے کے چکروں میں ہیں۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ماڈل ایان علی سے کروڑوں جبکہ لاہور ایئرپورٹ سے حکومتی پھیرے بازوں سے منوں سونا جبکہ کراچی میں ایک سابق سربراہ مملکت کی ملکیتی لانچ سے پانچ ارب روپے کی کرنسی اور سندھ کے ایک صوبائی وزیر کے گھر سے دو ارب کا کیش برآمد ہوا ہے۔ یہ تو وہ وارداتیں ہیں جو پکڑی گئیں مگر جو کیمرے کی آنکھ اور فوج کی نگاہ سے بچ گیا اس کا کوئی حساب نہیں۔ قارئین! پاک فوج ایک تو شمالی وزیرستان سمیت فاٹا میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے اندرونی و بیرونی دشمنوں سے جنگ میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف بلوچستان کے اندر بھارتی خفیہ ایجنسی اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کی شرانگیزیوں سے نبردآزما ہے جبکہ کراچی جیسے اڑھائی کروڑ کے میٹروپولیٹن شہر میں ہزاروں کی تعداد میں بھارتی ’’را‘‘ طوطے اپنا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ جن کیخلاف عسکری آپریشن اس لیے منتقی انجام کو نہیں پہنچا کہ سامنے سے وار کرنے والے دشمن کی سرکوبی آسان ہے مگر اپنوں کے درمیان چھپے ہوئے دشمنوں کو تلف کرتے وقت چھینٹے اپنے بدن پر بھی پڑنے کا احتمال ہوتا ہے جبکہ دشمن کے یہ ’’را‘‘ توطے جو دشمن کی زبان بولتے ہیں سوشل میڈیا، فیس بک، ٹویٹر اور انٹرنیٹ پر بھی کافی متحرک ہیں جبکہ معاشی دہشت گردوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں۔ ایسے میں ہمیں پاک وطن کی پاک فوج اور ہماری ریڑھی کی ہڈی آئی ایس آئی پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے را، موساد اور سی آئی اے کی بولیاں بولنے والے ان ایجنٹ ’’را‘‘ طوطوں کی سرکوبی کرنا ہوگا ۔ ورنہ وطن عزیز کی اس پکی تیار فصل کو یہ طوطے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے۔
قارئین! گذشتہ روز میرے نہایت عزیز دوست رانا شمشاد احمد ایم پی اے و سابق وزیر کو انکے بیٹے اور ایک ساتھی کے ہمراہ شہید کر دیا گیا میں اس واقعہ کی مذمت کرتا ہوں اور حکومت وقت سے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کو توقع رکھتا ہوں۔