تصویر‘ تدبیر اور تقدیر

کالم نگار  |  محی الدین بن احمد الدین
تصویر‘ تدبیر اور تقدیر

قرآن پاک پارہ 17 سورہ الانبیاء آیات نمبر 35 ہے ’’اللہ تعالیٰ انسان کو شر اور خیر کے فتنے سے آزماتا ہے‘‘ یہ بات ہم اہل سیاست اور حکمرانی کے اہل ہوس فیصلہ سازوں کیلئے لکھ رہے ہیں جبکہ پارہ 25 ۔ سورہ الجاثیہ آیت نمبر 23 ہے ’’اﷲ تعالٰی کسی انسان کو بہت زیادہ علم عطاء کرکے اسی علم کے ذریعے گمراہ کر دیتا ہے‘‘ انکے دل اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے بھلا اﷲ تعالیٰ کے بعد ان کو کون ہدایت دے سکتا ہے؟‘‘ ہم نے یہ آیت کریمہ طبقہ علماء و وارثان منبر و محراب کیلئے لکھی ہے جو جلد باز ہیں‘ فوراً واجب القتل اور ملحد ہونے کا فتویٰ دے کر کسی مسلمان کو واجب القتل قرار دے دیتے ہیں اور قادیانی کا الزام دے کر عوامی معتوب بنا دیتے ہیں ذرا وہ خود سوچیں کہیں وہ خود تو اپنے علم کے ذریعے گمراہ نہیں ہیں؟ ہفتے کوبرقی میڈیا اور اتوار کے روز اخبارات نے بتایا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ہے معلومات کے مطابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی انکے ہمراہ تھے مگر تصویر میں کہیں نظر نہیں آتے‘ آرمی چیف نہایت ہی سنجیدہ اور خاموش کردار ہیں جب سے وہ اس منصب پر فائز ہیں انہیں کبھی مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا گیا‘ تصویر میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی موجود ہیں یہ خوبصورت ترین تصویر ہے جو خاکی و سیاسی مفاہمت اوریکجہتی کی زبان بولتی ہے ہم اس تاریخی اجتماع پر بہت مطمئن ہیں ‘ یعنی دو سال بعد میاں نوازشریف خاکی فہم و شعور سے مطمئن اور آگاہ ہیں یہ اجتماع اور فکری وحدت دشمنوں کیلئے ’’پیغام امن‘‘ بھی ثابت ہو جائیگا ان شاء اﷲ‘ وزیراعظم کا آئی ایس آئی پر فخر کا اظہار کرنا ماضی بعید کی تلخی (جب جنرل ظہیر ڈی جی تھے) عہد کے دفن ہونے اورموجودہ ڈی جی پر مکمل اعتماد کی زبان ہے ‘دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف مکمل طور پر پیشہ ور سولجر ہیں انہیں ذرا سا بھی سیاست سے عشق نہیں ہے وہ خاکی چھڑی سے انقلابی ملک طلوع کرنے کی بات کبھی بین السطور میں بھی نہیں کرتے جبکہ ڈی جی جنرل رضوان بہت متحرک‘ فعال اور نشیب و فراز کی معلومات سے لبریز ہیں ان تینوں شخصیات کے منصب کا شدید تقاضا ہے کہ اب وہ اردگرد کی سرزمینوں کی پاکستان توڑ دینے یا کمزور ترین کر دینے کی سازشوں کا مقابلہ عملاً اسی طرح کریں جیسے فوج کے ضرب عضب نے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں فتنہ پروروں ‘ نام نہاد جہادیوں‘ نام نہاد شریعت نافذ کرنیوالوں کی پاکستان مخالف کوششوں کو مقتل میں سولی پر لٹکا دیا ہے ہم پاک فوج کی اس جرأت مندانہ کوشش کا اعتراف کرتے ہیں۔ ’’را‘‘ نے سچ مچ 1970ء میں کامیابی حاصل کر لی تھی کہ بنگلہ دیش بنانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اب ’’را‘‘ پھر پاکستان سے اسکے پہاڑی علاقے چھیننا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے القاعدہ کی مسلح جدوجہد پاکستان توڑ کر اپنا ملک بنانے کی کوشش تھی۔ اسی وجہ سے ایمن الظواہری پاکستانی آئین کو غیر اسلامی کہتے تھے تاکہ جذباتی مسلمان ان علاقوں کو چھین کر القاعدہ کی جھولی میں ڈال دیں اور القاعدہ اپنی بادشاہت بنام خلافت قائم کر لے۔ ’’را‘‘ بلوچستان کو بھی مشرقی پاکستان کی طرح الگ ملک بنانے میں سرگرداں ہے۔ انسانی حقوق اور سیاسی حقوق کی جدوجہد اگرچہ بہت خوبصورت اور معصوم و جائز ہے مگر اس کا عمل ’’را‘‘ کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہا ہے۔ پہلے ’’ہزارہ‘‘ ’’شیعہ‘‘ کے نام پر بسوں سے اتار کر قتل کئے جاتے تھے اب ’’پٹھانوں‘‘ کو جس طرح شناخت کرکے مستونگ میں قتل کیا گیا یہ محض ’’نفرت‘‘ نہیں ہے بلکہ گہری سازش کا ظہور پذیر ہو جانا ہے۔ لہذٰاکور کمانڈرز کانفرنس میں جو جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت فیصلے ہوئے وہ ازبس ضروری تھے۔ شاید ان کی روشنی میں وزیراعظم نوازشریف نے خود کو آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرز میں لے جانا ضروری سمجھا ہے۔ حالانکہ ماضی بعید میں اسی ہیڈ کوارٹرز کو ’’غلیل‘‘ والا کہہ کر اسکی توہین کی جاتی رہی اور یہ کارخیر ایک ’’وفاقی وزیر‘‘ کیا کرتے تھے۔ شاید کاش وہ یہ ناخوشگوار عمل کبھی نہ کرتے وہ طبقہ علماء و دینی مدارس کے تاریخی اصل حقائق سے آگاہ ہونے کا کام زیادہ کرتے اور لبرل و سیکولر دانشوروں میں وہ ’’دانشور‘‘ خطاب نہ کرتے کہ انکے سرکاری منصب کا تقاضا ایسے کھلے ڈھلے خطابات کی نفی ہے۔ ہم نے اپنے ’’دوست‘‘ وزیر کے بارے میں یہ الفاظ انکی خیر خواہی کیلئے لکھے ہیں۔محترم نواز شریف صاحب آپ کو اپنے اصلی گھر آنا مبارک ہو۔ نواز شریف کا جدہ میں ’’مقید‘‘ قیام اور واپس آ کر شریف خاندان کا اقتدار حاصل کرنا بابر کے بیٹے ہمایوں کی کہانی لگتا ہے جس سے شیرشاہ سوری نے اقتدار چھین لیا تھا۔ فرق یہ ہے کہ ہمایوں کا ساتھ ایرانی شاہ اسماعیل صفوی نے دیا تھا اور جواب میں برصغیر میں اپنے عقیدے کے افراد کو جاگیریں ‘ منصب اور فارسی زبان کو فروغ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اقتدار پا کر اس معاہدے کو نہ صرف ہمایوں نے پورا کیا بلکہ مغل اعظم جلال الدین اکبر نے بھی اسے مکمل طورپر نافذ کیا تھا تاکہ اسماعیل صفوی اور ایرانی اثر و رسوخ برصغیر میں حقیقت ثابت دکھائی دے۔ سعودی عرب کے حوالے سے نواز شریف اس طرح کا کردار ادا نہیں کر سکے جیسا کہ ہمایوں اور اکبر نے ایران کے حوالے سے کیا تھا۔ نواز شریف صاحب آپ سعودی امتحان میں فیل ہو چکے ہیں۔اب آئی ایس آئی اور فوج کے امتحان میں فیل ہوجانا تو بہت تلخ تاریخ مرتب کریگا کہ اگلے چند ماہ پاکستانی سیاست کیلئے بہت زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جس طرح سابق صدر آصف علی زرداری نے کور کمانڈر کراچی کی گفتگو کو ’’تلخ‘‘ سمجھا اور ’’تلخ ترین‘‘ ردعمل دیا وہ جنرلز کو بھی مستقبل کی کسی غلطی کے معاف نہ ہونے کا پتہ دیتا ہے اگر جنرلز نے بھی خود کو صرف یحیٰی خان ثابت کیا یا جنرل مشرف کی طرح کا ثابت کیا تو شائد تاریخ ان جرنلز کو بھی ’’کٹہرے‘‘ میں لائے گی۔