اردو ہے جس کا نام…

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان
اردو ہے جس کا نام…

میاں شہبازشریف نے لاہور میں چینی زبان سکھانے کا کالج بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اعلانات اور بیانات کے حوالے سے شہبازشریف کو یدطولیٰ حاصل ہے بلکہ میر اخیال ہے کہ اعلانات و بیانات کے حوالے سے ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آجانا چاہیے۔ ملکی حالات‘ واقعات و حادثات کے بعد اس طرح کے خوش کن بیانات سے وقتی خوشی حاصل ہو جاتی ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’’آدمی گڑ نہ دے‘ گڑ جیسی بات کر دے۔‘‘ شہبازشریف اسی فارمولے پر کاربند ہیں۔ اعلانات کے وقت میں وہ زمینی حقائق بھی نہیں دیکھتے۔ شعر پڑھنے اور تقریر کرنے کا جوش اس قدر غالب رہتا ہے کہ وہ اکثر حقائق کے منافی باتیں کر جاتے ہیں۔ چینی زبان دنیا کی مشکل ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ حکومت آج تک اپنی قوم زبان اردوکو سرکاری سطح پر رائج نہیں کر سکی ہے۔ پاکستانی لیڈروں کو قائداعظم‘ ذوالفقا علی بھٹو اور نیلسن منڈیلا سے مماثلت بہت پسند ہے جبکہ وہ رہتے شنہشاہوں کی طرح ہیں۔ پاکستانی لیڈروں کے اصلی حالات زندگی تو شاہ ایران‘ صدام حسین‘ یاسر عرفات‘ معمر قذافی‘ حسنی مبارک‘ آنجہانی مارکوس جیسے ہیں۔ قائداعظم بننے کیلئے ان کی طرح محنت‘ سادگی‘ ایمانداری اور قربانی کی ضرورت ہے۔انکے اقوال و اعمال کو اپنانے کی ضرورت ہے۔قائداعظم نے تو فرمایا تھا کہ اردو ہماری قومی زبان ہوگی۔ (ن) لیگ 35 سال سے کسی نہ کسی صورت میں سیاسی طورپر فعال رہی ہے۔ میاں نوازشریف کے وزیرخزانہ بننے سے لیکرآج تک 25 سال (ن) لیگ اقتدار میں رہی ہے۔ تین بار نوازشریف وزیراعظم رہے اور تین مرتبہ شہبازشریف وزیراعلیٰ بنے‘ لیکن اتنے طویل عرصے حکمرانی کے مزے لینے کے باوجود تمام تر وسائل و اختیارات‘ اقتدار و مراعات‘ مشیران و یاران نکتہ دارانہ کے‘ (ن) لیگ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے قائد کی ایک وصیت ہی پوری کر دیتے۔ شہبازشریف ویسے تو شعر پڑھ کر اور چند مخصوص اردو کے الفاظ بول کر خود کو علم و ادب اور اردو کا رکھوالا یا شیدائی ظاہر کرتے ہیں‘ لیکن عملاً صورتحال یہ ہے کہ اردو کو جیتے جی بغیر نماز جنازہ کے دفنا دیا گیا ہے۔ کالجوں‘ یونیورسٹیوں میں اردو کا مضمون تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔ انٹر کی سطح پر اردو کو محض پڑھ جاتا ہے۔ وہ بھی برائے نام… نئی نسل اردو سے بیزار ہے اور ناواقف بھی کیونکہ انہیں نہ تو اردو زبان کی اہمیت‘ افادیت کا علم ہے اور نہ قومی زبان سے اپنی شناخت‘ خودی اور وقار کا اندازہ ہے۔ اس وقت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ’’اردو‘‘ سے سوتیلوں جیسا سلوک کی جا رہا ہے۔ یہ واحد مضمون ہے جس سے ناپسندیدگی اور حقارت کا برملا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تعلیم کا شوق تو امیر غریب میں پھیل چکا ہے‘ لیکن تعلیم کے نام پر جو پراپیگنڈا اور کمائی کی جا رہی ہے‘ اس پر پوری ایک کتاب کا مواد موجود ہے۔ جو لوگ تعلیم کی وزارتوں پر متمکن ہوتے ہیں جو تعلیمی پالیسیاں بناتے ہیں اور جو ایچ ای سی کے نام پر موج میلے منا رہے ہیں‘ ان میں سے اکثر کی ڈگریاں اور تعلیمی قابلتیں مشکوک ہیں۔ سفارش‘ رشوت‘ چاپلوسی اور اقربا پروری کی وجہ سے تعلیمی سیکٹر زبوں حالی کا شکار ہے۔ آج بھی ہم عجیب و غریب تعلیمی پالیسیوں سے دوچار ہیں۔ اردو انگلش میڈیم کی سرد جنگ نے سب کچھ دائوپر لگا دیا ہے۔ احساس کمتری کی انتہا ہے کہ انگریزی کو سر آنکھوں پر بٹھا کر ’’اردو‘‘ کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ ہم ابھی تک ایک میڈیا اور ایک نظام تعلیم نافذ نہیں کر سکے ہیں۔ علم حاصل کرنے کیلئے انگریزی کے محتاج ہیں اور زبانوں کے جنگل میں پھنس کر اصل ’’علم‘‘ سے دور ہوگئے ہیں۔ ہمارے پاس علم کم اور انگریزی زیادہ ہے مگر کمزور‘ ناقص اور نامکمل انگریزی کے علاوہ عربی‘ فارسی‘ ہندی‘ اس کے علاوہ علاقائی زبانیں مثلاً پنجابی‘ سندھی‘ پشتو‘ بلوچی‘ سرائیکی‘ بروہی‘ کشمیری وغیرہ جبکہ آجکل جرمن فرینچ‘ نارویجن‘ زبانیں بیرون ممالک میں نوکری کی غرض سے سیکھی جارہی ہیں۔ آجکل میاں شہبازشریف کا سارا زور ترکی اور چائنیز زبانوں پر ہے۔ جسے ملک میں رائج کرنے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی قوم زبانوں کے ملغوبے میں پھنس کر نہیں رہ جائیگی۔ علم یا زبان حاصل کرنا یقینا فخر کی بات ہے‘ لیکن یہ سب فراغت‘ خوشحالی اور عیش و آرام کے چونچلے ہیں۔ مگر پاکستانیوں کی اکثریت مسائل کی چکی میں پسی رہتی ہے۔ گھر میں ہوں تو پریشانیوں اور ضروریات کا لامتناہی اور تکلیف دہ سلسلہ… باہر جائیں تو بے ہنگم ٹریفک‘ ہارن کا بیہودہ شور‘ چنگ چی اور موٹرسائیکلوں کے پھٹے ہوئے خوفناک سائلنسر کا چنگاڑتا شور یا پھر بیروزگاری کا عذاب… اگر نوکری ہے تو ہر وقت کی ٹینشن یا نوکری چلے جانے کا خوف۔ دہشت گردی اور انواع و اقسام کی بیماریاں… غرضیکہ پاکستانی قوم سکون قلب سے محروم ہے۔ ایسے میں کوئی روزی روٹی کمائے یا زبانیں سیکھے۔زبانیں سیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ پہلی چیز آپ کی شناخت ہے۔ ہم اپنی زبان کو تو زندہ درگور کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اور دوسری زبانوں کے پروموٹر بنے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اپنی زبان کے ساتھ نہیں جی سکتے اپنی زبان میں اپنا ماضی الضمیر بیان نہیں کر سکتے‘ اپنی زبان کو اپنی پہچان نہیں بنا سکتے تو کوئی قوم ہمیں کیا عزت اور کیا مراعات دیگی۔ چودھری پرویزالٰہی نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران کئی اچھے کام کئے اور کبھی ان کی تشہیر بھی نہ کی۔ پرویزالٰہی نے پنجاب انسٹیٹوٹ قائم کیا اور اس طرح پنجابی زبان کے اجراء میں اپنا قابل قدرکردار ادا کیا‘ لیکن یہ ایک علاقائی زبان ہے۔ اردو تو ہماری قومی زبان ہے۔ میاں شہبازشریف بتائیں کہ انہوں نے اردو کے فروغ کیلئے کیا کردار کیا۔